اسد الدین اویسی نے کہا "ہندووں میں زیادہ ہوتا ہے اسقاط حمل"، بی جے پی کا سخت اعتراض

02:14PM Tue 25 Sep, 2018

مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور ممبرپارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے پیر کو ہندووں سے متعلق متنازعہ بیان دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسقاط حمل خاص طور سے ہندو طبقے میں ہی ہوتا ہے۔ ان کے اس بیان سے سخت ردعمل آنا شروع ہوگیا ہے۔ دوسری طرف بی جے پی نے اویسی کو اس بیان کو خواتین مخالف قراردیا ہے۔ حیدرآباد کے ممبرپارلیمنٹ نے 2001 کی مردم شماری کا ذکر کرتے ہوئے دعوی کیا کہ خودکشی کرنے والی شادی شدہ خواتین یا جہیز کے لئے قتل کا شکار بننے والی خواتین میں بیشتر ہندوہوتی ہیں۔
 اسدالدین اویسی نے ٹوئٹرپر لکھا کہ 2001 کی مردم شماری کے مطابق اسقاط حمل خاص طورپرہندووں میں ہوتا ہے۔ خودکشی کرنے والی بھی بیشترشادی شدہ خواتین ہندو ہیں۔ وہیں ہندوستان میں شادی کے بعد اکیلی چھوڑی گئی خواتین اور بے سہارا خواتین کی زیادہ تعداد بھی ہندووں کے نام ہیں۔ اویسی نے ایک اخبارکے کالم کا ذکر کیا ہے کہ تین طلاق کو غیرقانونی بنانے سے خواتین کو فائدہ نہیں ہوگا۔
آل اندیا مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈر کے بیانات پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے تلنگانہ  بی جے پی کے ترجمان کرشنا ساگ راو نے کہا "اویسی کی ذہنیت کا پردہ فاش ہوگیا ہے اور ان کے یہ بیان خواتین مخالف ہیں"۔  راو نے میڈیا سے کہا کہ "لگتا ہے کہ وہ شدت پسند ذہنیت سے اندھے ہوگئے ہیں اور84 فیصدی آبادی کا موازنہ 15 فیصدی سے کم آبادی سے کرنا بے بنیاد ہے"۔