اردو کے فروغ کے لئے عام انسان کا بیدار ہونا وقت کااہم تقاضہ: برگیڈیئر ایس احمد علی

12:10PM Thu 21 Jul, 2016

سنجے مصرا شوقؔ سچائیوں سے روبرو ہونے والا شاعر: پروفیسر صغیر افراہیم علی گڑھ21؍جولائی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر برگیڈیئر سید احمد علی نے کہا ہے کہ اردو کے زوال کے لئے حکومتوں کو ذمہ دار قرار دینے سے زیادہ ضروری ہے کہ اردو طبقہ اردو کے فروغ کے تعلق سے خودبے دار ہو جو وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک ہم نئی نسلوں کو اردو زبان سے نہیں جوڑیں گے تب تک اردو کا فروغ ممکن نہیں ہے۔ وہ آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے این آر ایس سی کلب میں حرف زار لٹریری سوسائٹی ، علی گڑھ کے زیرِ اہتمام منعقدہ ممتاز شاعر سنجے مصرا شوق کے اولین مجموعۂ کلام’’ رات کے بعد رات‘‘ کی عظیم الشان تقریبِ رسمِ اجراء سے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کر رہے تھے۔ کتاب کا اجراء کرتے ہوئے برگیڈیئر سید احمد علی نے کہا کہ حکومتوں کو چاہئے کہ وہ ایسے پروگرام اور پالیسیاں ترتیب دیں جن کے ذریعہ اردو زبان کو روزگار سے جوڑا جاسکے۔ پرو وائس چانسلر نے سنجے مصرا شوق کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے مجموعۂ کلام’’ رات کے بعد رات‘‘ سے کافی متاثر ہیں اور سنجے کی یہ کتاب ان شرپسندوں کے گال پر بھر پور تمانچہ ہے جو اردو کو مذہب سے جوڑکر دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنجے مصرا شوق جیسے دیوانے جب تک موجود ہیں اردو کو زوال نہیں آسکتا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سنجے کی کتاب کا عمیق مطالعہ کیا ہے۔ ان کی شاعری اعلیٰ معیار کی ہونے کے ساتھ شاعری میں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ عام فہم ہے اور سنجے کے قاری کو انہیں سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔ حرف زار لٹریری سوسائٹی کے سرپرستِ اعلیٰ اور ماہنامہ تہذیب الاخلاق کے مدیر پروفیسر صغیر افراہیم نے کہا کہ سنجے مصرا شوقؔ سچائیوں کے شاعر ہیں اورتصورات کی دنیا میں نہ رہ کر سماج کو آئینہ دکھانے کا کام کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سنجے کی شاعری دیر پا ہے اور سماج کے ہر طبقہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ اردو کے ممتاز ادیب، باوقار صحافی اور ممتاز شاعر رضوان فاروقی نے سنجے مصرا شوق کی شاعری پر پُر مغز مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سنجے اپنی شاعری کے توسط سے صرف لکھنؤ ہی نہیں بلکہ سارے ہندوستان کی نمائندگی کرتے ہیں اور وہ ہر طبقہ میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ اس سے قبل حرف زار لٹریری سوسائٹی کے صدر سالم شجاع انصاری نے مہمانان کا خیر مقدم کرتے ہوئے سنجے مصرا شوق کو منظوم خراجِ تحسین پیش کیا۔ حرف زار کے سرپرست حاجی اسلم انصاری نے مہمانان کو گلدستے پیش کرکے ان کا خیر مقدم کیا۔ حرف زار لٹریری سوسائٹی کے سکریٹری ڈاکٹر مجیب شہزر نے کہا کہ سنجے مصرا شوقؔ شاعری کی تمام اصناف میں طبع آزمائی کرتے ہیں اور رباعی ان کا خصوصی میدان ہونے کے باوجود غزل میں شوقؔ اپنا ثانی نہیں رکھتے۔انہوں نے کہا کہ سنجے مصرا شوقؔ اردو زبان سے دیوانگی کی حد تک عقیدت رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ خود کو اردو والا کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ حرف زار لٹریری سوسائٹی کے خازن اویس جمال شمسی نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے کہا کہ سنجے مصرا جتنے اچھے شاعر ہیں اتنے ہی اچھے انسان بھی ہیں اور کوئی بھی فنکار اس وقت تک اچھا فنکار نہیں بن سکتا جب تک وہ ایک اچھا انسان نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ ان کی شاعری میں انسانی اقدار کی عظمت کا خصوصی اہتمام پایا جاتا ہے۔ سعودی عرب سے آئے مہمان شاعر عبدالوہاب سخن نے کہا کہ سنجے کی شاعری دوسرے شعرا کو سچائیوں کا سامنا کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اردو ٹیچرس ویلفیئر ایسو سی ایشن کے صدر حافظ محمد احمدنے کہا کہ سنجے مصرا شوقؔ کی شاعری جس قدر خوبصورت ہے اتنا ہی خوبصورت ان کی کتاب کا عنوان’’ رات کے بعدرات‘‘ ہے جو خود میں منفرد ہے۔ پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے معروف استاد شاعر ڈاکٹر معظم علی خاں معظم نے کہا کہ حرف زار لٹریری سوسائٹی اردو زبان و ادب کے فروغ میں جو خدمات انجام دے رہی ہے اس کے لئے ڈاکٹر مجیب شہزر اور اویس جمال شمسی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردو کی محفلیں سجانا، شعرا کی کتب کی اشاعت اور بچوں کو اردو کی تعلیم جیسے کام حرف ز ار لٹریری سوسائٹی کی سرگرمیوں کا اہم حصہ ہیں۔ اس موقع پرپرو وائس چانسلر کی اہلیہ محترمہ رضوانہ علی، شعیرہ فرحین، بشریٰ حسن، سجاد اختر (دہلی) پرم جیت سنگھ پرم( دہلی) رام پرکاش بے خود( لکھنؤ) رضی امروہوی، صبیحہ سنبل، کلیم نوری، حاجی اسلم ادیب،ہادی جاوید( فیروزآباد) کے علاوہ فیصل مجیب، شاہد سیفی، عمیر جمال شمسی، کلیم تیاگی، فرقان سنبھلی، فراز مجیب، ڈاکٹر فاطمہ زہرہ، فرخ جمال شمسی، ڈاکٹر جی ایف صابری کنور نسیم شاہدوغیرہ بھی موجود تھے۔