داغدار لیڈر کو پارٹی میں لینے پر بی جے پی کے کارپوریٹروں نے اسعفیٰ دینے کا اعلان کردیا
03:24PM Mon 28 Aug, 2017
بنگلور ( بھٹکلیس نیوز):۔ کانگریس کے سابق لیڈر ویرا پرسا دریڈی کو بی جے پی میں شامل کرنے پر بی جے پی کے کارپوریٹروں نے اجتماعی طور پر استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے اور ویرا پرساد کو پارٹی سے فوری نکال دینے کی مانگ کی ہے۔ بی جے پی کرناٹک یونٹ کے صدر بی ایس یڈی یورپا او رمرکزی وزیر ڈی وی سدانندا گوڈا نے کل پارٹی دفتر میں ویرا پرساد کو پارٹی میں شامل کرلیا تھا اور اس موقعہ پر یڈی یورپا نے اعلان کیا تھا کہ ویرا پرساد کی شمولیت سے پارٹی کو بہت فائدہ ہوا ہے اور کانگریس کو بہت نقصان ہوا ہے اسی طرح کانگریس کے دیگر کئی لیڈرس پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے ہیں او راگلی حکومت بی جے پی کی ہوگی اور ویرا پرساد کی وجہ سے حیدر آباد کرناٹک کے علاقہ میں پارٹی کو نئی طاقت ملی ہے اوریہاں کے اُمیدواروں کو ویرا پرساد انتخابی مہم چلانے والے ہیں اور ان کی کامیابی یقینی ہے ۔بہت جلد پارٹی میں ویرا پرساد کو نیاعہدہ دیاجائے گا۔سدا نندا گوڈا نے کہا کہ ویرا پرساد کی پارٹی میں شمولیت سے پارٹی مضبوط بنی ہے اوربہت جلدکانگریس کے کئی اراکین اسمبلی اور دیگر لیڈرس پارٹی میں شامل ہونے والے ہیں اور کئی لیڈروں نے خفیہ طورپر ان سے ملاقات کی ہے اور اسمبلی انتخابات کے قریب ان لیڈروں کے ناموں کا اعلان کیاجائے گا۔ اسی طرح بی جے پی کے کئی لیڈروں نے ویرا پرساد کی حمایت میں خوب تعریف کی تھی مگر بی جے پی کے لیڈرس ویرا پرساد کی سیاسی زندگی سے کوئی جانکاری نہیں رکھتے تھے۔ کانگریس نے ویراپرساد کو چھ سال کے لئے پارٹی سے نکال دیا تھا۔ انکم ٹیکس اور سی بی آئی نے ویراپرساد کی رہائش گاہ پر چھاپے مارکر غیر قانونی دولت اور اثاثوں کا پتہ لگایا تھا اس کے علاوہ غیر قانونی کان کنی کے معاملہ میں گرفتار ہوکر چند ماہ کی سزا بھی کاٹی تھی ۔ضمانت پر رہا ہونے کے عدالت نے غیر قانونی کان کنی کی وجہ سے ماحولیات کو نقصان پہنچانے پر دو کروڑ روپیوں کا جرمانہ لگایا تھا۔ اس واردات کے بعد کانگریس نے اسے چھ سال کے لئے معطل کردیا تھا۔ ویرا پرساد نے بھی خود کو کئی سالوں سے پارٹی سرگرمیوں سے دور رکھا تھا۔ اس کی اطلع ملنے کے بعد بی جے پی کے بی بی ایم پی کے تمام کارپوریٹروں نے ویراپرسادکو پارٹی سے نہیں نکالا گیا تو وہ اجتماعی طور پر استعفیٰ دیں گے ۔اس اعلان کے بعد یڈی یورپا اور دیگرلیڈرس پریشان ہیں کہ اس معاملہ پرکیا کیاجائے۔