ہاشم انصاری کے انتقال پر ملت بیداری مہم کمیٹی نے تعزیتی جلسہ کا انعقاد کیا
01:32PM Wed 20 Jul, 2016
بابری مسجد۔ رام جنم بھومی مسئلہ کا حل آپسی گفت و شنید سے نکلنا چاہئے: ڈاکٹر جسیم محمد
علی گڑھ20؍جولائی: بابری مسجد کے مدعی محمد ہاشم انصاری کے انتقال پر ملت بیداری مہم کمیٹی ( ایم بی ایم سی) علی گڑھ نے تعزیتی جلسہ منعقد کرکے انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ محمد ہاشم انصاری تاحیات بابری مسجد کے مالکانہ حق کے لئے جد وجہد کرتے رہے لیکن انہیں انصاف نہیں مل سکا۔
محمد ہاشم انصاری1949سے بابری مسجد کے لئے انصاف کی لڑائی لڑ رہے تھے اور اپنی زندگی کے آخری ایّام میں وہ چاہتے تھے کہ بابری مسجد؍ رام جنم بھومی مسئلہ کا حل نکل آئے لیکن ایسا نہ ہو سکا اور95 سال کی عمر میں آج ان کا انتقال ہوگیا۔ ان خیالات کا اظہار این جمال انصاری نے مزمل منزل کامپلیکس میں واقع میڈیا سینٹر پر ملت بیداری مہم کمیٹی (ایم بی ایم سی)علی گڑھ کے زیرِ اہتمام محمد ہاشم انصاری کے انتقال پر منعقدہ تعزیتی جلسہ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہاشم انصاری1954میں بابری مسجد میں نماز ادا کرنے کی مہم کی قیادت کرنے کے جرم میں دو سال تک جیل میں بھی رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ہاشم انصاری سے انصاف کے لئے جدو جہد کرنے کا درس لینا چاہئے۔
ایم بی ایم سی کے سکریٹری ڈاکٹر جسیم محمد نے ممبئی سے فون پر کہا کہ لوگ صرف یہ جانتے ہیں کہ ہاشم انصاری نے بابری مسجد کا مقدمہ عدالت میں دائر کیا لیکن انہیں یہ علم نہیں کہ وہ اور ہنومان گڑھی کے مہنت گیان داس آپس میں ملے رہتے تھے اور چاہتے تھے کہ بابری مسجد ؍ رام جنم بھومی مسئلہ کا حل نکلے۔انہوں نے کہا کہ ہاشم انصاری نے کبھی بھی بابری مسجد پر تحریک کا سہارا نہیں لیا بلکہ ملک کے عدالتی نظام میں اعتماد رکھتے ہوئے صرف انصاف کے منتظر رہے۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے ان کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم سب لوگوں کو آپس میں مل جل کر گفت و شنید کے ذریعہ بابری مسجد؍ رام جنم بھومی مسئلہ کا حل نکالنا چاہئے تاکہ ملک میں امن اور ہم آہنگی کی فضا برقرار رہے۔
پروفیسر ہمایوں مراد نے کہا کہ ہاشم انصاری ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی نمائندگی کرتے تھے اور اقتصادی صورتِ حال بہتر نہ ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی بھی بابری مسجد کے مقدمے کی پیروکاری کے لئے کسی سے چندہ کا مطالبہ نہیں کیا جو ان کی شخصیت کی عظمت کا ثبوت ہے۔
ڈاکٹر محمد شاہد نے کہا کہ ہاشم انصاری چاہتے تھے کہ بابری مسجد؍ رام جنم بھومی مسئلہ پر سیاست نہ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ ہاشم انصای نے وقت وقت پر کوشش کی کہ مقامی سطح پر اس مسئلہ کا حل نکلے۔انہوں نے ہاشم انصاری کو امن کا سفیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت سے فیصلہ ان کی زندگی میں آجاتا تو بہتر تھا۔
میٹنگ کے آخر میں ملت بیداری مہم کمیٹی نے ہاشم انصاری کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہالیانِ خانہ کے ساتھ گہری ہمدری کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک نے اپناایسا امن کا سفیر کھودیا ہے جو ملک کے آئین اور عدالتی نظام کا سب سے بڑا حامی تھا۔ ان کی مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبرِ جمیل کی بھی دعا کی گئی۔