بینکاک دھماکہ: ’نشانہ غیر ملکی تھے‘، مشتبہ شخص کی فوٹیج جاری
12:16PM Tue 18 Aug, 2015
بینکاک کے ایک مندر میں ہونے والے دھماکے کے بعد اس مشتبہ شخص کی ویڈیو فوٹیج سامنے آئی ہے جس سے پولیس اس معاملے میں تفتیش کرنا چاہتی ہے۔
سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج میں زرد رنگ کی ٹی شرٹ پہنے اس نوجوان کو ایروان کے مندر میں ایک بیگ چھوڑ کر جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔
سیاحوں میں مقبول ایک مندر پر ہونے والے اس دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد اب 21 ہو گئی ہے جن میں آٹھ غیر ملکی بھی شامل ہیں جبکہ 120 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔
حکام نے پہلے اس مشتبہ شخص کی تصاویر جاری کی تھیں تاہم اب فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ انتہائی احتیاط سے اپنا بیگ کمر سے اتار کر مندر کے اندر رکھتا ہے اور پھر اٹھ کر اسے لیے بغیر فوراً باہر چلا جاتا ہے۔
تاہم حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ تاحال وہ حملہ آوروں کی شناخت کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ وہ کسی تنظیم کے ملوث ہونے کے امکان خارج نہیں کر رہے ہیں جن میں اویغور گروپ کے علاوہ ان تنظیموں کو بھی نظر میں رکھا جا رہا ہے جو فوجی حکومت کے خلاف ہیں۔
تھائی لینڈ کے وزیر اعظم نے دارالحکومت بینکاک میں پیر کو ہونے والے بم دھماکے کو ملک میں دہشت گردی کا بدترین واقعہ قرار دیا ہے۔
وزیر اعظم پایوتھ چان اوچا نے کہا کہ ہندو مندر پر کیے جانے والے دھماکے کے مشتبہ شخص کو سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج سے پہچان لیا گيا ہے۔
اس سے قبل تھائی لینڈ کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ جنھوں نے بینکاک مندر میں بم نصب کیا تھا انھوں نے ملکی معیشت اور سیاحت کو نقصان پہنچانے کے لیے دانستہ طور پر غیرملکیوں کو نشانہ بنایا۔
وزیر دفاع پراوت وونگسووان نے دارالحکومت میں ہونے والے بم دھماکوں کے مجرموں کو پکڑنے کی قسم کھائی ہے۔
خیال رہے کہ ایراون مندر سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز رہا ہے اور مرنے والوں میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
اس دھماکے کی کسی نے ابھی تک ذمہ داری قبول نہیں کی اور یہ بھی واضح نہیں کہ اس کو کون نشانہ بنا سکتا ہے۔
یہ دھماکہ ضلع چڈلام میں واقع ایراون مندر کے قریب پیر کو مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے ہوا۔ دھماکے کے وقت یہاں بہت بھیڑ تھی۔
وزیر دفاع پراوت وونگ سووونگ کا کہنا ہے کہ ’یہ ٹی این ٹی بم تھا۔ جن لوگوں نے یہ کیا ہے ان کا مقصد غیر ملکیوں کو نشانہ بنانا اور سیاحت اور معیشت کو نقصان پہنچانا تھا۔‘
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق انھوں نے کہا ہے کہ اس دھماکے کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
نیشن ٹی وی چینل کے مطابق وزیر اعظم پرایوتھ چان اوچا نے کہا ہے حکومت اس سے نمٹنے کے لیے ایک وار روم قائم کر رہی ہے۔
نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کے مطابق بینکاک کے مرکز میں فائیو سٹار ہوٹل کے قریب واقع یہ مندر بہت مشہور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مندر کے اردگرد موجود لوگ اس دھماکے کی زد میں آئے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ سڑکوں پر جلی ہوئی موٹر سائیکلیں پڑی ہوئی ہیں، پولیس اور امدادی ٹیمیں زخمیوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ویلز سے تعلق رکھنے والے ایک سیاح جوش ہینسن نے بتایا کہ وہ دھماکے کے وقت مندر سے 300 میٹر دور اپنے کزن کی سالگرہ منا رہے تھے۔
’زخمیوں کو طبی امداد پہنچانے کے لیے دکانیں جلد بند کر دی گئیں اور ٹریفک روک دی گئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ تھائی لینڈ کی انتظامیہ نے اس صورتحال سے بہترین طریقے سے نمٹنے کی کوشش کی۔
واضح رہے کہ یہ مندر ہندوؤں کے دیوتا براہما کا ہے لیکن ہر روز یہاں ہزاروں کی تعداد میں بدھ مت کے ماننے والے بھی آتے ہیں۔
جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ بینکاک میں اس طرح کے دھماکے انتہائی غیر معمولی ہیں۔
یہاں مسلم بغاوت ہے لیکن وہ ملک کے جنوبی حصے تک ہی محدود ہے اور اس طرح کے حملے کبھی کبھار ہی کسی دوسرے علاقے میں ہوتے ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ سال مئی میں فوج نے منتخب حکومت کو کئی ماہ کی بد امنی کے بعد ہٹا کر ملک کی باگ ڈور سنبھال لی تھی۔