مسلمان آپسی اختلا فات کو بھلا کر متحد ہوجائیں
03:29PM Thu 20 Jul, 2017
مختلف مکاتب فکر کے علماء مشا ئخین اور دانشوروں کی آواز
بنگلور:(بھٹکلیس نیوز)’’صدائے اتحاد ‘‘ نامی تنظیم نے مسلمانوں کو آواز دی کہ وہ متحد ہوکر حالات کا سامنا کریں فسطائی طاقتوں کو ابھرنے سے روکنے کے لئے مسلم اتحاد وقت کی ضرورت ہے ۔آج یہاں مسجد قادریہ میں مولانا شمس الحق صاحب کی صدارت میں ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں ریاست کے مختلف علاقوں کے تمام مکاتب فکر والے علماء مشائخین اور دانشور حضرات شریک تھے ۔ اجلاس کے اختتام پر اتفاق رائے سے ایک قرار داد منظور کی گئی ۔جس میں ملت اسلامیہ کو آواز دی گئی کہ وہ اپنے اپنے عقیدے اور مسلک پر قائم رہیں دوسروں کے عقائد کو نہ چھیڑیں۔’’ اپنے مسلک کو نہ چھوڑو دوسروں کے مسلک کو نہ چھیڑو‘‘ قرار داد میں مساجد کے خطیب حضرات سے درخواست کی گئی کہ وہ اتحاد کی ضرورت پر امت کے اندر بیداری پیدا کریں ۔ اور مسلسل مہم چلائیں ۔ اتحاد کی خاطر تمام تنظیموں کو جوڑ نے کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔اور تمام تنظیموں کو اپنی شناخت اور وجود کو برقرار رکھتے ہوئے اتحاد کیلئے کام کرنے پر زور دیا کیا۔ اور اتحاد کے کام کو تمام اضلاع سے جوڑ نے تمام علماء اور دانشوروں کی رائے کو مقدم رکھنے پر زور دیاقرار داد میں بقر عید کے موقع پر فرقہ پرست طاقتوں کی شررارتوں سے آگاہ کرنے اور احتیاطی اقدام کرنے کے لئے حکو مت سے رجوع کیا جائے۔صدائے اتحاد کی اس مشاورتی نشست میں منظور کی گئی ایک اور قرار داد میں مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ووٹر لسٹ میں اپنے ناموں کا اندراج کرائیں ۔ سکیولر قوتوں کو مضبوط کرنے کیلئے صدائے اتحاد کا ایک وفد ریاست بھر کا دورہ کرے گا۔ اور اسی طرح سکیولر پارٹیوں سے رابطہ کیلئے ایک لائحہ عمل تیار کیاجائے گا۔ صدائے اتحاد نے آواز دی کہ وہ ریاست میں مسلم نمائندگی کوبرقرار رکھنے اور نمائندگی میں اضافہ کیلئے تیاری کی جائے۔ اسی طرح پولنگ کے موقع پر ایلکڑانک مشینوں کے بارے میں ہونے والی شکایات کو حکومت کے سامنے پیش کرکے بیا لٹ پیپر کے پرانے طریقہ کار کو اپنانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ صدائے اتحاد نے واضح کیا کہ ہمارا اتحاد صرف فرقہ پر ستوں کے خلاف ہے ۔ سکیولرزم کو مضبوط بنانے کیلئے مسلسل اجلاس منعقد کئے جائیں۔ جس میں دیگر مذاہب کے مذہبی پیشواؤں اور سکیولر لیڈڑوں کو مدعو کیا جائے یہ بھی واضح کردیا گیا کہ صدائے اتحاد میں مشاورتی نظام رہے گا سب کی رائے پر غور ہوگا۔ مولانا تنویر ہاشمی نے قرار دا د کو پڑھا۔اس موقع پر مولانا شمس الحق نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ آج تقریباً ہر مذہب میں نظریانی اختلاف ہے۔ یہودی اور عیسائیوں میں بھی اختلا ف ہے لیکن وہ مسلمانوں کے نام پر متحد ہور ہیں لیکن ہم مسلمان ایک اللہ ایک نبیؐ اور ایک کتاب کے ما ننے والے منتشر ہیں آج شعیہ سنی کے نام پر مسلم ممالک کو آپس میں لڑایا جارہا ہے ہمارے ملک ہندوستان میں گائے کے نام پر وہ لوگ متحد ہورہے ہیں اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ مولانا شمس الحق نے بتایا کہ آج مسلمان اس لئے پریشان ہے کہ اس کے اندر مادیت پرستی اور نفس پر ستی آگئی ہے ۔ مولانا نے مسلمانوں کو آواز دی کہ وہ حضرت محمد ﷺ سے رشتہ کو مضبوط کریں اور آپس میں متحد ہوجائیں۔ صدائے اتحاد کے کارگزار صدر جنا ب ضمیر پاشاہ ریٹا ئرڈ آئی اے یس نے ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے کی اپیل کی اور کہا کہ امت کے اندر اتحاد کی صدا ے لاگانے کاکام گذشتہ چھ سال سے چل رہا ہے اس مقصد کیلئے عملی کام کرنے والوں کو آگے بڑھنا چاہئے اور اس کام کو ملکی سطح پر لے جانا چاہئے۔ اس اجلاس میں آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک کے صدر مولانا اعجاز احمد ندوی، جماعت اسلامی ہند کرناٹک شاخ کے جناب یوسف کنی، جامع مسجد سٹی کے خطیب مولانا مقصود عمران۔ مسجد قادریہ کے مولانا لطف اللہ رشادی ،جناب مجاہد بابا ، مولانا شافعی سعدی ، مولانا سید دلاور حسین عابدی، مولانا مفتی محمد علی قاضی، مولانا ذولفقار ، جناب عباس علی بوہرہ، مولانا عتیق الرحمن، مولانا نور احمد بیگ، مفتی محمد سلیم لکسندر وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر انور شریف نے مہمانوں کا استقبال کیا اور مولانا سید تنویر ہاشمی نے افتتاحی کلمات پیش کئے۔