سمیع اور مجھے زیادہ ذمہ داری ادا کرنی ہوگی:امیش

04:07PM Sun 1 Oct, 2017

ناگپور،  یکم اکتوبر،2017  (یو این آئی) ہندوستان کے تیز گیند باز امیش یادو کا ماننا ہے کہ ٹیم میں سینئر ہونے کے ناطے انہیں اور محمد سمیع کو زیادہ ذمہ داری نبھانی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ وہ اور سمیع کافی وقت بعد کھیل رہے ہیں اور بنگلورو میں آسٹریلیا کے خلاف چوتھے ون ڈے میں انہوں نے 15، 20رن یادہ دیئے جس سے ٹیم کو 21رن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اس کے ساتھ کہا کہ ہار کے باوجود ڈریسنگ روم کا ماحول اچھا تھا کیونکہ بلے بازوں نے اچھی کوشش کی۔ہندوستانی کرکٹ ٹیم آسٹریلیا کے خلاف پانچ میچوں کی ون ڈے سیریز میں تین۔ایک سے آگے ہے ۔ سیریز کا پانچواں اور آخری میچ اتوار کو یہاں کھیلا جائے گا۔امیش نے میچ سے قبل کی شام پریس کانفرنس میں کہا، ہمیں پتہ ہے کہ ہم میچ ہار گئے ہیں اس کے باوجود ڈریسنگ روم کا ماحول کافی اچھا تھا کیونکہ ہمارے بلے بازوں نے اچھی کوشش کی تھی۔ ہم نے 15، 20رن زیادہ دیئے جسے ہمیں روکنا چاہئے تھا۔ ہم دونوں کافی وقت بعد کھیل رہے تھے لیکن سینئر گیند باز ہونے کے ناطے ڈیٹھ اووروں میں ہماری ذمہ داری زیادہ بنتی ہے ۔تیز گیند باز نے کہا مجھے لگتا ہے کہ ہمیں ٹسٹ سے زیادہ ون ڈے کھیلنا ہوگا لیکن میں ٹسٹ زیادہ پسند کرتا ہوں کیونکہ اس میں آپ کے پاس کافی وقت ہوتا ہے ۔ ایک تیز گیند باز ہونے کے ناطے دھیمی وکٹوں پر وکٹ لینا زیادہ چیلنجنگ ہے ۔ لیکن میں اس چیلنج کو تسلیم کرتا ہوں۔ اس سے آپ کے اندر مزید خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے ۔امیش نے کہا کہ ون ڈے میں محدود اوور ہونے کی وجہ سے آپ کے پاس وقت کی کمی رہتی ہے ۔ اگر آپ ون ڈے اورٹسٹ کھیلتے ہیں تو صحیح ہے ۔ لیکن کسی بھی فارمیٹ میں کھیلنا میرے لئے اچھی بات ہے ۔ موجودہ دور میں، اپنی عمر کے پیش نظر میں کسی بھی فارمیٹ میں کھیلنا پسند کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک تیز گیند باز کو کسی بھی چیلنج کے لئے ہمیشہ تیار رہنا چاہئے۔ انتیس (29)سالہ گیند باز نے کہا کہ ٹسٹ میچ کم کھیلے جارہے ہیں۔ ایسے میں آپ فاضل وقت میں کیا کریں گے ۔ ایک تیز گیند باز کے جسم کو پریکٹس میچ کی سخت ضرورت ہے کیونکہ یہ ضروری ہے ۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے ہیں تو حالات کے مطابق خود کو ڈھال نہیں سکتے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں نیٹ پر بھی زیادہ پریکٹس کرنے کی ضرورت ہے ۔ کرکٹ میں کئی طرح کے چیلنجوں سے نمٹنا ہوتا ہے ۔ اگر میرا جسم کھیلنے کے لئے فٹ ہے تب ہی میں کھیلنے کے لئے تیار ہوتا ہوں۔ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کی جانب سے تیز گیند بازوں پر دباؤ کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ تیز گیند بازوں کے لئے یہ اچھا ہے ۔ اگر آپ تیز گیند باز ہیں اور لگاتار ٹسٹ میچ کھیلنا جاری رکھتے ہیں تو آپ پر کافی دباؤ ہوتا ہے کیونکہ برصغیر کی وکٹوں پر رفتار اور اچھال نہیں ملتا۔ آپ کواپنا 110 فیصد دینا ہوتا ہے ۔ لیکن ون ڈے میں واپسی کے ساتھ ہی ایسا کرنا مشکل ہوتا ہے ۔