مالیگاؤں بم دھماکہ کا معاملہ : مسلم نوجوانوں کی باعزت رہائی کو دھچکا، این آئی اے نے لیا یو ٹرن
03:56AM Wed 13 Apr, 2016
ممبئی : بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے ماتحت چلنے والے تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی(این آئی اے) نے مالیگاؤں 2006 بم دھماکہ معاملہ میں مسلم نوجوانوں کی مقدمہ سے باعزت بری کئے جانے والے معاملے میں آج یو ٹرن لیا اور ان مسلم نوجوانوں کی رہائی کی مخالفت کی۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت میں اقتدار میں تبدیلی سے قبل اسی تفتیشی ادارے نے ان نوجوانوں کو ضمانت پر رہائی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا او ریہاں تک کہا تھا کہ مسلم نوجوانوں کے خلاف ان دھماکوں کے معاملے میں کوئی ثبوت نہیں ہے، لیکن آج جب ان نوجوانوں کی باعزت بری کئے جانے کی درخواست کی سماعت عدالت کے روبرو عمل میں آئی ، تو این آئی اے نے یہ کہہ کر پلڑا جھاڑ لیا کہ اس نے ان دھماکوں کی از سر نو تفتیش نہیں کی تھی ۔ نیز عدالت اس بات کا فیصلہ کرے کہ مسلم نوجوانوں کو باعزت بری کیا جائے یا پھر ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ کا آغاز کیا جائے ۔
خصوصی جج وی وی پاٹل کے روبرو سرکاری کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ راجا ٹھاکرے نے عدالت میں کہا کہ اس معاملے کی ابتدائی تفتیش اے ٹی ایس نے کی تھی اور اس نے مسلم نوجوانوں کے خلاف ثبوت و شواہد اکھٹا کئے تھے ۔ نیز ان کی تفتیش درست اور صحیح سمت میں تھی۔
راجا ٹھاکرے نے عدالت کو مزید بتایا کہ این آئی اے نے اس معاملے کی از سر نو تفتیش نہیں تھی ، بلکہ اس نے اضافی تحقیقات کی تھی۔ لہذا وہ یہ کہنے سے قاصر ہے کہ ملزمین کے خلاف ثبوت و شواہد دستیاب ہیں یا نہیں ۔ نیز عدالت کو ملزمین کے جرم کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا چاہے کہ ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے یا نہیں ۔
این آئی اے کے وکیل نے ایک طرح سے دبے لفظوں میں باعزت بری کئے جانے والی درخواست کی مخالفت کی اور ابتدائی ایام میں اے ٹی ایس کی تفتیش کو درست ٹھہرایا ، جس کے مطابق یہ نوجوان بم دھماکوں میں ملوث تھے اور اے ٹی ایس نے ان کے اقبالیہ بیانات بھی حاصل کئے تھے ۔
راجا ٹھاکرے کے دلائل کی مخالفت کرتے ہوئے ان ملزمین کو مفت قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو بتایا کہ اے ٹی ایس نے ان نوجوانوں کو جھوٹا پھنسایا تھا اور ان کے خلاف جھوٹے ثبوت تیار کئے تھے ، لیکن بعد میں جب اس کی تفتیش کی ذمہ داری این آئی اے کے سپرد کی گئی ، تو اس نے ان نوجوانوں کو نہ صرف کلین چٹ دی تھی بلکہ اے ٹی ایس کی تفتیش کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے ایسی باتیں منظر عام پر لائی تھیں ، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملزمین نہ ہی بم دھماکوں کی جگہوں پر تھے اور نہ ہی انہوں نے دھماکوں میں کوئی کردار ادا کیا تھا ۔
شریف شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ اس معاملہ میں این آئی اے کی تحقیقات نے مسلم نوجوانوں کے خلاف کوئی بھی ثبوت نہیں پایا تھا بلکہ ان دھماکوں کے پس پست بھگوا دہشت گردوں کے خلاف ثبوت دستیاب ہوئے تھے ۔ لہذ مسلم نوجوانوں کو باعزت بری کردینا چاہئے ۔
مختلف عدالتوں کے دلائل پیش کرتے ہوئے جمعیہ کے وکیل نے کہا کہ فی الحال معاملہ کی تفتیش این آئی اے کے سپرد ہے اور این آئی اے نے ہی ملزمین کے خلاف فرد جرم داخل کی ہے ، جس میں ان ملزمین کے خلاف کوئی بھی ثبوت نہیں ہے ۔ لہذا عدالت سرکاری وکیل کے ان دلائل کو مسترد کردے ، جس میں اس نے اے ٹی ایس کی جانب سے ان ملزمین کو قصوروار ٹھہرائے جانے کی بات کی ہے ۔فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا اور توقع ہے کہ 25 اپریل کو عدالت ا س معاملے میں اپنا فیصلہ سنائے گی ۔