حکومت طلاق کی فکر چھوڑ کر خواتین کو جہیز ی اموات ،آبروریزی ، مادر رحم میں قتل اور گھریلو تشدد سے بچائے: مسلم خواتین
03:17PM Thu 27 Oct, 2016
نئی دہلی: تین طلاق پر اختلاف کے ماحول میں آج بعض مسلم خواتین نے مختلف جماعتوں اور مسلکوں سے اپنی وابستگی ظاہر کرتے ہوئے آج دعویٰ کیا کہ ہندوستان کی 10 کروڑ مسلمان خواتین پورے طورپر مسلم پرسنل لا کی حمایت کرتی ہیں اور کسی بھی قسم کی دخل انداز ی کی مخالفت کرتی ہیں۔ اسما زہرہ (حیدر آباد) ممدوحہ ( دہلی ) اور عطیہ (جماعت اسلامی ) نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں یہ الزام لگاتے ہوئے کہ مسلم خواتین سے زبانی ہمدردی کا اظہار کرنے والےمساوات اور یونیفارم سول کوڈکے نام پرنیشنل اور انٹرنیشنل سازش کا شکار ہو رہے ہیں کہا کہ طلاق اور ایک سے زائد شادیوں کا تناسب مسلمانوں میں سب سے کم ہے لیکن پروپیگنڈہ ایسا کیا جارہا ہے جیسے مسلمان مردوں کے پاس طلاق کے علاوہ اور کوئی دوسرا کام نہیں ہے ۔
ان خواتین نے اس تمہید کے ساتھ کہ خواتین کو جو حقوق اور جو حفاظت شریعت اسلامی نے دی ہے وہ کسی اور مذہب نے نہیں دی حقوق نسواں کی بات کرنے والوں سے کہا کہ اگر وہ واقعی مخلص ہیں تو پارلیمانی نظام میں عورتوں کی پچاس فیصد نمائندگی، عدالتوں ، تعلیمی اداروں، فوج اور دوسرے اہم تحقیقی اور تجزیاتی مراکز میں میں ان کی حسب تناسب نمائندگی کو یقینی بنانے کی عملی کوشش کریں۔ شادی کے اسلامی تصور کو منفرد بتاتے ہوئے ان خواتین نے کہا کہ نکاح ایک ایسا معاہدہ ہے جس کا پابند ہونے سے پہلے عورت کو اس میں خاطر خواہ تبدیلی کا بھی پورا حق حاصل ہے۔ حق وراثت کے تعلق سے بھی مسلمانوں میں عورت اور مردکے درمیان کسی طرح کا امتیاز نہیں ہے۔ رحمِ مادر میں بچیوں کا قتل ‘ حمل ضائع کرنا اسی طرح تعدد ازواج کا تناسب بھی مسلمانوں میں بہت کم ہے۔
ان خواتین نے دعوی ٰ کیا کہ مسلم خواتین قانون شریعت (نکاح، طلاق، خلع،فسخ،وراثت ) میں پوری طرح مطمئن و متفق ہیں اور اسمیں وہ کسی طرح کی تبدیلی نہیں چاہتیں اور کہا کہ لا کمیشن کی جانب سے جو سوالنامہ جاری کیا گیا ہے اس کا مقصد ہر طرح سے یونیفارم سول کوڈ کو لاگو کرنا معلوم ہوتا ہے جسے ’’ ہم تمام خواتین قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے ہم مسلم پرسنل لا بورڈ کے ساتھ ہیں‘‘۔ کانفرنس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ %97 سے زیادہ مسلم خواتین کامیاب ازدواجی زندگی گذاررہی ہیں ۔ کہا گیا کہ تنازعہ کی صورت میں علیحدگی کا دروازہ اسلام نے کھلا رکھا ہے اور طلاق کا قانون بہت آسان ہے۔ دوسرے مذاہب میں طلاق لینے کیلئے کورٹ جانا پڑتا ہے اور چھ تاآٹھ سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔
ایک مقررہ نے کہا کہ یہ تو انتہائی توہین آمیز بات ہوگی کہ طلاق پر پابندی لگاکر عورت کو اسی شوہر کے ساتھ زبردستی رہنے پر مجبور کیا جائے جس نے اسے طلاق دے دی ہو۔طلاق چاہے ایک ہو یا دو یا تین اسلام میں اس کو جہاں ایک ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا وہیں اسلامی عائلی قانون کےتحت عورت اور مرد و دونوں ایک خوشگوار زندگی گذار سکتے ہیں۔
کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ تعداد ازدواج کی اسلام میں اجازت کے باوجود ہندستان میں حکومت کے ریکارڈ کے مطابق مسلمانوں میں دوسری شادی کی شرح 3.5% ہے اور ایک مسلمان کی دوسری بیوی بھی پہلی بیوی کی طرح تمام سماجی، مذہبی حقوق کی برابر کی حقدار ہے۔ دوسری بیوی کا مسئلہ ان حلقوں میں ہے جہاں دوسری شادی کی اجازت نہیں ہے اور وہاں بیوی کے بعد صرف رکھیل کی گنجائش ہے۔
مقررین نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ ان عورتوں کو تحفظ فراہم کرےجن کی جہیز ی اموات کی شرح 26 ہزار سالانہ ہے، ہر پندرہ منٹ میں جن کے ریپ کا کیس واقع ہوتا ہے، مادر رحم میں ہر سات سکنڈ میں موت واقع ہوتی ہے، گھریلو تشدد کا شکارہوتی ہیں۔ 18 سال کی عمر سے پہلے ہی بیاہ دی جاتی ہیں۔ ایسے ہی کئی ایسے رسوم و رواج ہیں جن سے انسانی حقوق پامال ہوتے ہیں۔