آٹھویں کے بچے کا مودی کو لیٹر، میری پڑھائی سے زیادہ ضروری کیا آپ کے جلسہ عام میں لوگوں کو بھجوانا ہے؟

12:53PM Mon 8 Aug, 2016

نئی دہلی۔ مدھیہ پردیش کے کھنڈوا سے آٹھویں کلاس کے ایک طالب علم نے وزیر اعظم مودی کو بے حد جذباتی خط لکھا ہے۔ دراصل 9 اگست کو وزیر اعظم مجاہد آزادی چندر شیکھر آزاد کی جائے پیدائش علی راج پور میں ایک جلسہ عام کرنے جا رہے ہیں۔ پی ایم کے اس اجتماع میں بھیڑ جمع کرنے کے لئے ضلع انتظامیہ نے اسکول کی بسیں لے لی ہیں۔ جس سے بچوں کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے۔ اسے لے کر آٹھویں کلاس کے ایک بچے نے پی ایم کو خط لکھ کراپنا درد بیان کیا ہے۔ بچے نے اپنے خط میں بھيڑ کو جلسہ گاہ تک لانے کے لئے بسوں کو لینے کی شکایت کی ہے۔ بچے نے کہا کہ وہ پی ایم مودی کا بڑا فین رہا ہے، لیکن جس طرح کی حرکتیں ہو رہی ہیں اس سے اسے لگنے لگا ہے کہ پی ایم مودی کی مخالفت کرنے والے لوگ صحیح کہتے ہیں۔ ٹیچر نے بتایا کہ آپ ایک اجتماع سے خطاب کرنے آ رہے ہیں جس میں بھیڑ لے جانے کے لئے کلکٹر نے اسکول کی بسیں لے لی ہیں، لیکن مودی انکل مجھے تو پتہ ہے کہ آپ کو سننے کے لئے تو لوگ خود اپنے ذرائع سے، اپنے خرچے پر ہر جگہ پہنچتے ہیں۔ چاہے ملک ہو یا بیرون ملک سب جگہ آپ کو سننے کے لئے بھاری بھیڑ اکٹھا ہوتی ہے، میں نے تو ٹی وی پر آپ کو امریکہ میں بھی تقریر کرتے دیکھا تھا وہاں بھی بہت بھیڑ تھی۔ مجھے معلوم ہے کہ وہاں تو لوگ آپ کو سننے اسکول بس میں بیٹھ کر نہیں پہنچے تھے۔ جب پچھلی بار آپ سيهور- ودیشا آئے تھے تب بھی میری اسکول بس دو دن نہیں آئی تھی۔ میں نے بس والے انکل سے کہا کہ ہماری بس تو بچوں کے لئے ہے نا! اس میں دوسرے لوگوں کو کیوں بیٹھا رہے ہو؟ تو وہ کہنے لگے بیٹا، 'کلیکٹر اور آر ٹی او کے آرڈر ہیں، نہیں مانیں گے تو بس بند کروا دیں گے۔ زیادہ کچھ کیا تو اسکول بھی بند کروا دیں گے شیوراج ماما۔ کیا سچ میں میری بس بند کروا دیں گے وہ؟ کیا میرا اسکول بھی بند ہو جائے گا اگر کلیکٹر کی بات نہیں مانی تو۔ انکل میری اسکول بس نہیں آئی تو دن میں اسکول کیسے جا سکوں گا۔ میرے تو پاپا بھی باہر گئے ہیں جو مجھے موٹر سائیکل سے چھوڑ دیتے، گھر میں صرف ممی اور دیدی ہیں۔ بتاو اب کس طرح اسکول جاؤں گا میں؟ کیا میری پڑھائی سے زیادہ ضروری آپ کے جلسہ عام میں لوگوں کو بھجوانا ہے؟ مودی انکل آپ تو کانگریسی رہنماؤں جیسے نہیں ہو نا، آپ کو تو ہماری پڑھائی اور مستقبل کی فکر ہے نا۔ پلیز آپ شیوراج ماما سے بول دو نا کہ آپ کے جلسہ کے لئے اسکول کی بسوں میں لوگوں کو ڈھوكر لانے کی ضرورت نہیں۔ آپ کی تقریر میں اتنا دم ہے کہ لوگ خود بہ خود کھینچے چلے آئیں گے۔ آپ نے ایسا کیا تو پھر میں اپنے دوستوں کو تال ٹھونک كر یہ کہہ سکوں گا کہ میرے مودی انکل کے جلسہ عام میں بھیڑ جٹتی ہے جٹائی نہیں جاتی۔ شکریہ۔ آپ کا دیوانش جین ، کلاس آٹھ ۔