داعش ،ملت اسلامیہ کے سامنے اسلام کی چودہ سوسالہ تاریخ میں سب سے بڑا چیلنج

03:47PM Fri 15 Jul, 2016

جمعےۃ علماء ہند کی جانب سے عید ملن تقریب منعقد ، نائب صدر جمہوریہ ہند ، حکومت اور اپوزیشن پارٹیوں کے رہنماء ، سفرائے ممالک، دانشوران ، مختلف مسالک کے علماء سمیت الگ الگ شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات شریک نئی دہلی۔۱۴؍جولائی جمعےۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری کی دعوت پر دہلی کے ہوٹل آئی ٹی سی موریہ کمل محل میں عید ملن تقریب کا اہتما م کیا گیا ، جس میں نائب صدر جمہوریہ ہند حامد انصاری ، وزیر داخلہ راج ناتھ ، کانگریس کے رہنما دگ وجے سنگھ، وزیر اعظم ہند کے نیشنل سیکوریٹی یڈوائزر اجیت ڈوال سمیت حکومت ہند کے وزراء ، اپوزیشن کانگریس پارٹی کے لیڈران ، سفرائے ممالک، ڈپلومیٹ ، مختلف مسالک کے علما ء اور دانشوران وغیرہ نے شرکت کی۔جمعےۃ علماء ہند کی جانب سے منعقد اس تقریب میں معزز شخصیات کی شرکت کا استقبال کرتے ہوئے مولانا محمو دمدنی جنرل سکریٹری جمعےۃ علماء ہند نے کہا کہ یہ موقع مبارک باد ینے اور خوشی کا ہے ، لیکن عالمی سطح پر اور ملک میں جوحالات ہیں ،ان کو دیکھتے ہوئے تشدد پسندی پر تشویش کا اظہار اور اس پر سوچنا ہمارے لیے ضروری ہو گیا ہے ۔انھوں نے کہا کہ جمعےۃ علماء ہند کی ایک خصوصیت ہے کہ اس نے شدت پسندی کی ہمیشہ مخالفت کی ہے ،یہ خصوصیت درحقیقت اسلام کی ہے کہ اس کی نگاہ میں بے قصوروں کو مارنا، ظلم کرنا اور فساد پھیلانا جرم عظیم ہے ، جمعےۃ علماء ، اسلام کے حقیقی پیغام کی نمائند گی کرتے ہوئے ظلم اور نا انصافی سے لڑتی رہی ہے، ظلم چاہے کسی کی جانب سے کیا جائے اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے اور اگر ظلم اسلام جیسے پرامن مذہب کے نام پرکیا جائے تو اس کی بدبختی دوہری ہو جاتی ہے ۔مولانا مدنی نے داعش کا نام لے کر کہا کہ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں اس سے بڑا کوئی اور چیلنچ پیش نہیںآیا۔انھوں نے داعش کو بدترین لوگوں کی جماعت قراردیتے ہوئے اپنے دکھ کا اظہار کیا کہ اسلام اورمسلمانوں کے سینے میں خنجر گھونپا جارہا ہے ، مولانا مدنی نے کہا کہ جمعےۃ علماء ہند ،ہندستان میں ایسی جماعتوں کو ہرگز جمنے نہیں دے گی اور اس دہشت گردی کے خلاف ہر ممکن جد وجہد کرے گی ۔ اس موقع پر اسلام اور امن عالم ، رمضان المبارک کی اہمیت ، عید الفطر کے مقاصد اور جمعےۃ علماء ہند کی حالیہ خدمات سے متعلق پمفلٹ کو شرکاء نے بہت پسند کیا ، یہ پمفلٹ شرکاء کے درمیان تقسیم کرنے کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ مولانا مدنی نے مختصر کلام کے بعد مہمانوں سے درخواست کی کہ وہ عشائیہ میں شریک ہوں، دیر رات تقریبا ۱۰ ؍بجے تک مہمانوں کے آنے جانے کا سلسلہ جاری رہا ۔ اس تقریب میں مذکورہ معزز شخصیات کے علاوہ جنھوں نے شرکت کی ،خاص طور سے ان کے نام قابل ذکر ہیں :ایم جے اکبر وزیر حکومت ہند،پیرزادہ شیخ زین العابدین سجادہ نشین درگاہ اجمیر شریف ،بنگلہ دیش ہائی کمشنر سید معظم علی، ایران سفیر غلام رضا انصاری، ایس وائی قریشی،ڈاکٹر الیکزنڈر ایوانس ڈپٹی ہائی کمشنر انگلینڈ، ڈاکٹر اے کے مرچنٹ بہائی کمیونٹی لیڈر ، سید احمد نظامی سجادہ نشین نظام الدین اولیاء دہلی ،سید محمد نظامی ،مولانا توقیر رضان خاں، شری بی پی سنگھ سابق گورنر سکم ، سلمان خورشید سابق وزیر خارجہ ، دنیش ترویدی سابق وزیر ریل ، دگ وجے سنگھ سینئر کانگریسی رہنماء ، چودھری اجیت سنگھ صدرراشٹریہ لوک دل، طارق انورایم پی، مولانا سید ارشد مدنی ،مولانا اسرارالحق قاسمی ایم پی ،ہارون یوسف، چودھری متین،ویدپرتاپ ویدک، ا چاریہ پرمود کرشنم، سوامی اگنی ویش، پروفیسر اخترالواسع، سنتوش بھاگوریہ ، سنتوش بھارتی، شکیل احمد سید ایڈوکیٹ،مفتی عفان منصورپوری، سید ارتضا ء کریم ڈائریکٹر این سی پی یو ایل، سید محمد فاروق، مجتبی فاروق مجلس مشاورت، کمال فاروقی ، سنجے سنگھ عام آدمی پارٹی ، آسوتوش عام آدمی پارٹی ، سراج الدین قریشی،مفتی سلمان منصورپوری ،مولانا اسجد مدنی ، مولانا اخلد رشیدی، مولانا اشہد رشیدی، مولانا نیاز احمد فاروقی، مولانا حکیم الدین قاسمی،شاہد صدیقی ، سید ظفر محمود، حاجی ہارون بھوپال،حبیب فاروقی ممبئی ، محمد حبیب انڈیا بلس، محمود پراچہ وکیل، سراج ہاشمی امروہہ، عبدالحمید نعمانی ، یوسف قریشی میرٹھ ، مولانا عبدالواحد کھتری راجستھان وغیرہ ۔ IMG-20160715-WA0155 IMG-20160715-WA0151 IMG-20160715-WA0152 IMG-20160715-WA0154