خالق کائنات کے علم سے کنارہ کشی ہماری پستی کا اصل سبب ۔ مولانا حارث

03:39PM Fri 17 Mar, 2017

سہارنپور۔(بھٹکلیس نیوز) قرآ ن مجید کی قابل رشک اور قابل تعظیم تعلیم ہی ہماری دینی اور دنیاوی کامیابیوں کی اصل کنجی ہے جس نے قرآن کو سیکھا اور سکھایا وہی کامیابی کو پہنچا قرآن صرف پڑھنے کا نہی بلکہ غور وفکر کے ساتھ عمل کرنیکا شاندار اور سب سے مستحکم ذریعہ نجات ہے ان اہم خیالات کا اظہار آج صبح یہاں سٹی پیلیس کے وسیع ہال میں چنندہ صحافیوں سے محفل قرائت وجلسہ سیرت نبیﷺ کیبابت تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے تقریب کے ناظم اعلیٰ مولانا حارث نے بتایا ہیکہ آئندہ ۲۷ اپریل کو صبح گیارہ بجے مقامی کھاتہ کھیڑی سطح پریک آل انڈیا قرآنی اور محفل سیرت نبویﷺ کا انعقاد کیا جارہاہے جسمیں قراٗت کامقابلہ بھی کریا جائیگا اور کامیاب قاریوں کو انعامات اور اعزازات سے نوازا جائیگا ۔مولانا حارث نے بتایا ہیکہ آئندہ ۲۷ اپریل کو ہونے والے اس عظیم الشان جلسہ کی تمام تیاریاں کیجارہی ہیں عوام سے تعاون کی پرزور گزارش ہے! مولانا حارث نے ہمیں بتایا ہے کہ اللہ کے پاک کلام میں تمام آفتوں ، بلاؤں اور بیماریوں کا علاج موجود ہیاور پاک کلاماللہ بد نیتی، جھوٹ، زنا، حق تلفی،دنگا فساد، بدکلامی، اونچ نیچ اوردہشتگردی کاسخت مخالف ہے قرآن پاک کی تعلیم کا مقصد اصلاح معاشرہ اور امن کے ساتھ زندگی گذارناہے قرآن مقدس میں انسانیت اور اخلاقیات کا بول بالا ہے ملک کے مدارس سے ابھی تک لاکھوں طلباء تعلیم حاصل کرکے قوم کے مرد اور خواتین کو بیدارکرنے کا کام انجام دے رہے ہیں جوایک عظیم الشان کارنامہ ہے۔ آپ نے فرمایاکہ کہ ہمارے علماء نے جس مقصد سے ایک عرصہ قبل ملک میں مدارس کی جو بنیاد رکھی تھی آج ہمیں اس مقصد میں بھرپور کامیابی مل رہی ہے مولانا حارث عالم دین اوراسلامی مفکرنے بیباک لہجے میں فرمایا ہے کہ ہماری کامیابی صرف اورصرف اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کی تعلیم پر ہی منحصر ہے آپنے کہاہے کہ آج ملک میں بالخصوص پورے عالم میں مسلمانوں کی تباہی اور تنزلی کا سبب ہی اللہ اور اللہ کے رسول کی تعلیم سے دوری ہے۔ مولانا آپنے کہاکہ ہم پر لازم ہے کہ ہم اللہ اور اللہ کے پیارے رسول کی اطاعت اپنے اوپر مقدم کریں اور اپنے بچوں اور اپنے بچیوں کو سب سے پہلے قرآن کی تعلیم سے روشناس کرائیں۔ مدرسوں کا مقصد قوم کے لوگوں کو ملک کی وفاداری کے ساتھ ساتھ اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کے لئے بیدار کرنا ہے مولانا نے فرمایاکہ قرآن پاک کی تعلیم سب سے اعلیٰ ہے ہمارے مدارس قرآن پاک کی تعلیم کو ہی عام کرنے کا کام انجام دے رہے ہیں۔ اسلامی تعلیم میں انفرادی اوراجتماعی مسائل کاموجود! مولانا عیسیٰ سہارنپور۔17مارچ (یو این این /احمد رضا) ملی تعلیمی ٹرسٹ کے زیراہتمام فروغ تعلیم کا ایک شاندار عظیم الشان آل انڈیا دینی اور عصری موضوعات پر مبنی اجلاس عام کا انعقاد آج یہاں جامعۃالطیبات حبیب گڑھ میں کیاگیا۔ جس کی صدارت مولانانجم الحسن تھانوی ناظم خانقاہ امدادیہ تھانہ بھون نے کی۔اجلاس کے مہمان خصوصی ورلڈ اسلامک فورم لندن کے چیئرمین مولاناعیسیٰ منصوری نے کہاکہ اسلام انفرادی اور اجتماعی مسائل کاحل پیش کرتاہے انہوں نے کہاکہ اسی لئے اسلام دنیامیںآیاتھا۔ انہوں نے کہاکہ سروردوعالم ؐ کی بعثت کے وقت دنیابھرکے مفکرین ، دانشوروں اورفلسفیوں نے انسان کے اجتماعی مسائل کے حل پیش کرنے میں ناکام ہونے کے بعد اپنے ہاتھ کھڑے کرلئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ حضوراکرمؐ نے اس فریضہ کوانجام دیااورانسان کے تمام اجتماعی ،معاشرتی ،سیاسی،تعلیمی اورتہذیبی مسائل سے نجات دلائی اور اسلام کی روشنی میں اس کی عملی شکل دنیا کے سامنے پیش کی۔انہوں نے کہاکہ آج دنیا پھرنظریاتی بحران کا شکار ہے اور دنیا کے سامنے سیاسی،معاشی ،تمدنی اورتہذیبی مسائل کا انبارہے۔ جس کا حل کسی کے پاس نہیں ہے اور انسانیت پریشان حال اورسرگرداں ہیں اسلام ان تمام مسائل کا حل پیش کرتاہے مگرہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے اسلام کو انسانی مسائل کے حل کے طورپر پیش کرنے کے بجائے ثواب کامذہب بناکردنیاکے سامنے پیش کیاہے۔انہوں نے کہاکہ اسلام ہی دنیاکے تمام مسائل کاحل پیش کرسکتاہے اور انسانیت کی پیاس بجھاسکتاہے۔دارالعلوم زکریادیوبند کے استاذ حدیث مفتی محمدارشد فاروقی نے کہاکہ اسلام کا تعلیمی نظام مردوخواتین دونوں کے لئے یکساں طورپر قائم کرناضروری ہے ۔ تاکہ پوری انسانیت امن وسکون سے آشناہو۔انہوں نے کہاکہ نبی اکرمؐ نے انسانیت کوتعلیم وتربیت کااعلیٰ نمونہ فراہم کرایاہے اور آپؐ کا یہ فرض منصبی بھی تھا۔انہوں نے کہاکہ آپؐ نے جہاں مردوں کی تعلیم وتربیت کی طرف توجہ دی اور صحابہؓ کی ایک بڑی جماعت تیار کی۔ انہوں نے کہاکہ سیدہ عائشہؓ اس کی روشن مثال ہیں جو ایسی عالمہ ،فاضلہ،مفتیہ تھیں کہ اکابرین صحابہؓ ان سے مسائل کے لئے رجوع کرتے تھے۔مفتی عبدالرحیم بھوپالی نے اسلام میں تعلیم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہاکہ قرآن کی پہلی وحی نے پڑھنے کا حکم دیا گیاہے۔انہوں نے کہاکہ حضوراکرمؐ نے علم حاصل کرنے کو ہر مسلمان مردوعورت فرض قراردیا۔انہوں نے کہاکہ آج بھی اگر اسلامی تعلیمات کو زندہ کیاجائے اورعصری ودینی تعلیم کا نظام دنیا کے سامنے پیش کیاجائے تو یہ انسانیت کی بڑی خدمت ہوگی۔آگرہ کے نائب شہر قاضی وپرنسپل مدرسہ معین الاسلام شاہ گنج مولانامحمدعزیرعالم قاسمی نے کہاکہ جتنی ضرورت امت مسلمہ کو مدارس کی ہے اتنی ہی ضرورت پرائمری،جونیئر اور سکینڈری تعلیم کے لئے اسکول اور کالجوں کی ہے ۔انہوںں نے کہاکہ مدارس کے ساتھ ساتھ ہمیں اسکول اور کالجوں کا قیام بھی کرنا چاہئے۔مدرسہ تعلیم القرآن آرکے پورم دہلی کے ناظم مولانامحمدقاسم رحیمی نے اجلاس عام میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تعلیم ترقی کا زینہ ہے ہمیں اپنے بچوں کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم سے بھی روشناس کراناچاہئے۔مگر ایسانہ ہوکہ عصری تعلیم میں اتنا ڈوب جائیں کہ دین اسلام کو بھول جائیں ۔ کل ہنداجلاس کے کنوینر وملی تعلیمی ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری وصدر آل انڈیادینی مدارس بورڈ مولانا محمدیعقوب بلندشہری نے مہمانوں کاخیرمقدم کیااورملی تعلیمی ٹرسٹ اور جامعۃالطیبات کی سالانہ کارکردگی کی رپورٹ پیش کی ۔انہوں نے بتایاکہ جامعۃالطیبات سے 67طالبات نے فراغت حاصل کی اسی کے ساتھ اوپن اسکول سے 23طالبات نے ہائی اسکول اور 13طالبات نے انٹر کاامتحان پاس کیا جبکہ اترپردیش مدرسہ تعلیمی بورڈ لکھنؤ سے اب تک 1405طالبات نے منشی ،مولوی کے امتحانات میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ذریعہ 785طلباء وطالبات نے اردوڈپلومااور عربی ڈپلوما کا کورس کیا ہے۔اظہارخیال کرنے اورشرکت والوں میں مفتی سلیم احمدقاضی شہر دہرہ دون اتراکھنڈی،مولاناانورمصری سورت ،مفتی عبدالحسیب صدر مفتی مظاہرعلوم،حاجی رئیس احمدساؤتھ افریقہ ،قاری محمدمقیم سرساوہ،قاری محمدراشدشمس پور، مولاناریاض الاسلام، مولانانعیم اختر پرنسپل مدرسہ مخزن العلوم، مولانامحمدیعقوب سیتاپوری،مولانااطہرحقانی ،قاری عبدالسبحان رحمانی، ایڈوکیٹ انتخاب آزاد،حاجی کبیراحمدلدھیانہ، حاجی نوراحمدٹھیکیدار،اسرار زبیری مولانامحمداسعدحقانی ندوی،حاجی محمدرضوان وغیرہ نمایاں تھے۔اجلاس میں مردوں کے ساتھ ساتھ پردے میں رہ کرخواتین نے بھی کثیر تعدادمیں شرکت کیں۔اجلاس عام کا آغاز مفتی محمدرضوان قاسمی دوحہ(قطر)کی تلاوت سے ہوا۔مولانامحمدسلمان نے نعت پاک پیش کی۔ نظامت کے فرائض مفتی مجیب الرحمن مظاہری نے بحسن وخوبی انجام دیئے۔