بہوجن سماج پارٹی قائدین کی کمشنری کے علماء کرام کیساتھ سلسلہ وار گفتگو

01:58PM Tue 31 Jan, 2017

ہماری سوچ مسلم قومکی ترقی اوربہبودگی کی علمبردار !نسیم الدین صدیقی سہارنپور۔۔(بھٹکلیس نیوز)گزشتہ تین ماہ کے وقفہ میں آپ سو سے زائد بھائی چارہ ریلیوں کو خطاب کرکے یوپی کے ووٹران خاص طور سے مسلم طبقہ کو بیدار کر چکے ہیں آج سہارنپور کے نامی گرامی تھری اسٹار ہوٹل راج محل کے وسیع ہال اور گراؤنڈ میں ایک خصوصی بھائی چارہ پروگرام کے تحت مسلم دلتوں کی ایک خاص تقریب بسپا قائد نسیم الدین کی ہدایت پر منعقد ہوئی تقریب میں کمشنری سے آئے دوہزار سے زائد بااثر مسلم شہری اور مسلم علماء کرام کی موجودگی بسپاکی مقبولیت کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہے مسلم علماء کی یہاں حاضری نے جہاں سیاسی جماعتوں کے ہوش اڑادئے ہیں وہیں دلت ، مسلم اور پچھڑا طبقہ کو ایک رائے ہوکر آنیوالے اسمبلی کے چناؤ میں پوری ہمت اور اعتمادکے ساتھ بسپا سپریمو مایاوتی کے ساتھ کھڑے رہکر بسپا کے لئے ووٹرس کو کافی حد تک راغب کر دیاہے ویسے بھی کمشنری کے سو سے زائد بہوجن سماج پارٹی کی چناؤی ریلیوں میں مسلم فرقہ کی بھاری بھیڑ بسپاکی بڑھتی طاقت کی ضامن ہے۔ بہوجن سماج پارٹی کی بھائی چارہ کمیٹی کی ایک مقامی تقریب میں بھاری بھیڑ کو خطاب کرتے ہوئے بڑی بیباکی کے ساتھ بہوجن سماج پارٹی کے قومی قائد نسیم الدین صدیقی نے کہاکہ دنگے ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت ہی رونما ہوتے ہیں دنگے اچانک نہی ہوتے دنگے کرائے جاتے ہیں عام رائے یہ بھی ہیکہ ہندو مسلم لڑتے نہی بلکہ سیاست داں انکو اپنے مفاد کیلئے لڑاتے ہیں ور یہ سچائی گزشتہ سالوں کے دوران درجنوں دنگوں کی جانچ رپورٹس سے ثابت بھی ہوچکی ہے ۔سپا سپریمو میڈم مایاوتی کے خاص مشیر اور بہوجن سماج پارٹی کے قومی قائد نسیم الدین صدیقی نے گزشتہ تین ماہ سے ویسٹ یوپی میں جاری بہوجن سماج پارٹی کی شاندار اور کامیاب بھیڑ والی بھائی چارہ ریلیوں کو ابھی تک کتنی ہی بار سہارنپور، علیگڑھ، بجنور، امروہہ، مراد آباد، شاملی، میرٹھ، غاری آباد، نجیب آباد ، کھتولی، موانہ، شاہجہانپور، کانٹھ، شاہ پور ، بریلی اور گوتم بدھ نگر میں خطاب کرچکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے آج یہاں مسلم اور دلت عوام کی بھیڑ کو ہوٹل را ج محل امبالہ روڈ پر مخاطب کرتے ہوئے بسپا کے سینئر قائد نسیم الدین صدیقی نے بسپاکی کارکردگی پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی جو ا دلت مسلم اتحاد کی ایک تاریخی کارکردگی کا عمدہ نمونہ ہے سیاسی جیوتش کچھ بھی کہیں مگر بہن مایاوتی اور نسیم الدین کے داؤں پینچ سے یوپی اسمبلی کا حساب لڑ کھڑاساگیاہے اور ابھی تک بھیڑ صرف بسپاکی ریلیوں کوہی روشن کرتی نظر آرہی ہے۔ مندرجہ بالا چار درجن سے زائد اپنی زبردست بھیڑ والی ریلیوں میں بہوجن سماج پارٹی کے قومی قائد نسیم الدین صدیقی نے بسپا کی سپریم پارٹی چیف اور قوم کی بیباک قائد بہن مایاوتیکو ہی دلتوں، مسلمانوں اور بچھڑوں کا سب سے قوی اور دبنگ رہنما قرار دیا۔ بہوجن سماج پارٹی کے قومی قائد نسیم الدین صدیقی نے زور دیکر کہاکہ اتر پردیش کی ریاست کے مختلف علاقوں میں رونما ہونیوالے چار سو کے قریب چھوٹے بڑے فساد پری پلان کرائے جانیوالے فسادات کے سچ کو ثابت کرنیکے لئے کافی ہیں ؟آج مسلما اور دلت سب سے زیادہ مشکلات میں گھرا ہے اعلیٰ برادریاں اور اقتدار کے نشہ میں چور اس طبقہ کا خون چوسنے سے بھی پرہیز نہی کر رہے ہیں ۔ بسپاکے سینئر قائد نے کہاکہ بہوجن سماج پارٹی نے ریاست میں گزشتہ عرصہ میں چار مرتبہ شاندار طور سے سرکار چلاچکی ہے ہماری سرکار میں غنڈہ گردی کی واردات یا ہندو مسلم فساد کی واردات کہیں بھی نہی ہوئی یہی بسپا کی شاندار قیادت کا کمال رہاہے، جبکہ آج کل دیگر جماعتوں کی سرکاروں کے دور اقتدار میں ملک کے بیشتر حصوں کے علاوہ یوپی میں بھی عوام اپنی جان، مال، بنیادی حقوق اور آبرو کی حفاظت کے لئے سخت مشکلات سید وچارہیں ۔ قابل ذکرہے کل اور آج شہر سہارنپور اور کیلاشپور کے خاص علاقوں میں اپنی دو اہم اوربڑی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی کے سینئرقائد نسیم الدین صدیقی نے یہ بھی صاف کر دیاہے کہ ۱۵ فروری کو اتر پردیش کا مسلمان قومی سطح طور سے کہاکہ جو زیادتی مرکزی سرکار اس ملک کے عوام کے ساتھ جان بوجھ کر کر رہی ہے اس سے بھی کہیں زیادہ ظلم و زیادتیاںیوپی کے مظلوم عوام کو برداشت کرنا پڑ رہی ہیں جو ریاست کے عوام کے حقوق کی کھلم کھلا پامالی ہے اب عوام اس غنڈہ راج اور بربریت سے لبالب سماجواد ی ذہنیت کو کسی بھی صورت برداشت نہی کریں گے۔ بہوجن سماج پارٹی کے قدآور رہبر نسیم الدین نے کہاکہ اس مفادپرستی اور خد پرستی پرمبنی بیہودہ سیاسی سرکار کی ووٹ کی طاقت پر مخالفت بیحد ضروری ہے بسپاکے سینئر قائد نسیم الدین صدیقی نیکہا کہ وقت سامنے آکھڑاہے کہ اب ریاست کے عوام کی بھلائی اسی میں ہیکہ وہ اپنی بہتری، خوشحالی، امن اور ترقی کیلئے بسپاکے امید واروں کو جتائیں اور موقع پرستوں کو باہر کا راستہ دکھادیں عام چرچہ ہے کہ امسال اس چناؤ میں بہوجن سماج پارٹی ضلع کی سات میں سے پانچ سیٹوں پر سبقت بنائے رکھے گی یہاں پر حاجی محمد اقبال کی بیہٹ سیٹ اور سہارنپور دیہات سیٹ سہی معنوں میں بسپاکی سب سے زائد ووٹوں سے جیتی جانے والی مضبوط سیٹیں ہیں یہاں ہر امیدوار کا مقابلہ سیدھے بسپاسے ہی ہونا طے ہے رام پور اور دیوبند سیٹ بھی کافی اہمیت رکھتی ہے یہاں بھی بسپا سب سے بہتر پوزیشن میں ہے ۔ بہوجن سماج پارٹی کے نوجوان قائد افضل صدیقی جو ویسٹ یوپی کے اثردار رہبر اور درجن بھر اضلاعی بھائی چارہ یونٹ کے انچارج ہیں اور گزشتہ دوماہ کی مدت میں درجنوں اضلاع میں بسپا کی حمایت میں ساٹھ سے زائد بڑی ریلیوں کو خطاب کر چکے بھی اس موقع پر بہوجن سماج پارٹی کے نوجوان قائد افضل صدیقی نے صاف طور سے کہا کہ آنیوالا وقت عوام کے لئے بھلائی اور خوشحالی لیکر آئیگا۔ریاست میں ۱۵فروری ۲۰۱۷ کا ہونیوالا اسمبلی چناؤ ہر مذہب اور طبقہ کے پچھڑے پسماندہ اور کمزور عوام کیلئے مسررتیں لیکر آئیگا پانچ سال بعد آپ سبھی کو اپنی پسند کی نئی سرکار چننے کا سنہرا موقع ملیگا اس بار بھی اگر آپ چوک گئے تو آپ خد ہی ذمہ دار ہونگیں۔ چھ کمشنریوں کے انچارج اور بہوجن سماج پارٹی کے قومیلیڈر بھائی نسیم الدین صدیقی کے بیٹے اٖفضل صدیقی نے بہوجن سماج پارٹی کی کامیاب سو سے زائد بھائی چارہ ریلیوں کی شاندار کامیابی پر دئے گئے ا یک شاندار استقبالیہ پروگرام میں اپنے خیالات پیش کرتے ہوئیکہاکہ بہوجن سماج پارٹی ملک کے ۸۵ فیصد عوام کی نمائندہ جماعت ہے، مخالفین ہماری مقبولیت سے حسد رکھتے ہوئے کچھ بھی کہیں مگر یہ سچ ہے کہ بہوجن سماج پارٹی ہی فرقہ پرستی ، کنبہ پروری ، برادری واد اور لسانی برائی کی سخت مخالف اور صاف ستھرے ذہن والی عوام کے ذریعہ بنائی گئی عوامی جماعت ہے بہوجن سماج پارٹی کینوجوان قائد سرگرم سیاست داں اٖفضل صدیقی نے زور دیکر کہاکہریاست کی موجودہ سرکار بھائی بھتیجہ واد، فرقہ پرستی اور ہندو مسلمانوں کے بیچ درار پیدا کرنے والی زہریلی سوچ کی دیوار کو گرانے میں پوری طرح سیناکام ہے! ریاستی سطح پر ہندو مسلم فسادات اور لوٹ پاٹ کی بڑھتی وارداتیں اس سچائی کی ضامن ہیں کہ سرکار بھائی چارہ اور امن قائم رکھنے میں فیل ہوچکی ہے عوام مہنگائی اور خوف کے بھوت کا شکار بناہواہے ۔ بسپا قائدصدیقی نے بیباک انداز میں کہاکہ بجنور میں مسلم جوانوں کا قتل مظفرنگر اور سہارنپور کے فساد اور اس میں ہوئے اقلیتی فرقہ کے زبردست جانی اور مالی نقصان کی شرمناک وارداتوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ سرکار پسماندہ ، پچھڑے ، دلت اور اقلیتی فرقہ کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہی نہیں چاہتی ، اس سرکار کے زیادہ طر افسر اور وزراء منووادی سوچ کے شکار ہیں، یہ ووٹ تو سب کا لیتے ہیں مگر کام اونچے طبقے اور اونچے گھرانے کے لوگوں کا ہی کرتے ہیں۔ بسپاکے نوجوان لیڈر افضل صدیقی نے کہا کی ریاست فرقہ پرستی ، غنڈہ گردی ، لوٹ پاٹ اور بد امنی سے دو چار ہے ہر ضلع میں تشدد اور لوٹ پاٹ کی وارداتیں عام ہیں۔ مگر سرکار عوام کی حفاظت کرنے میں ساڑھے چار سال بعد بھی بری طرح سے ناکام ہے اسی وجہ سے آج ہر مذہب اور طبقے کا عوام بہوجن سماج پارٹی کی سرکار واپس لانے کی تیاری کر رہا ہے۔ مسلم اکثریتی علاقہ شیخ پورہ قدیم ا، سرساوہ ، نکوڑ ، گنگوہ ، مرزاپور، چھٹملپور ور بیہٹ میں بسپاکے درجن بھر چناؤی جلسوں میں نسیم الدین نے اپنے شاندار اور والہا نہ استقبالیہ پروگراموں کے دوران بہوجن سماج پارٹی کو مسلم قوم کی زبر دست ہمدردی والی پارٹی بتایا اور کہاکہ مسلم قوم کا بھلا ہمارے ساتھ ہی ممکن ہے اس موقع پر ضلع سہارنپور کے سینئر قائد بھائی لیاقت علی نے جناب نسیم الدین صدیقی اور بھائی افضل صدیقی کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بہن جی نے جناب نسیم الدین صدیقی اور افضل صدیقی کو اپنے فیصلے سے اور اپنی سوچ سے ریاست کے بیشتر علاقوں میں لگاتار ریلیوں کے ذریعہ عوام کو بیدار کر نے اور بسپا کیلئے عمدہ زمین تیار کرنیکی جو اہم چناؤ ی ذمہ داری سونپی وہ بہت ہی بڑا کام ہے اور دونوں قائد اس سمت بڑھتے ہوئے چند ماہ میں ایک سو سے زائد بڑی ریلیاں ریاست کے مغربی اضلاع میں منعقد کراچکے ہیں ان ریلیوں نے مسلم طبقہ کو بسپاکے نزدیک لا کھڑاکیاہے جو بسپاکی بڑھتی طاقت کا سنگنل ہیں ، اور آج یہاں کی اہم اور بڑی ریلی میں موجود ہزاروں افراد کی حاضری سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ نسیم الدین صدیقی اور افضل صدیقی مستقبل میں عوام دوست اور پسپا قائدین کے طور پر ہمیشہ اقلیتی طبقہ اوراسکی بہتری کیلئے عملی اقدام کا مظاہرہ کرتے رہیں گے بیہٹ کے بسپا امیدوار اور جانے مانے لیڈر حاجی محمد اقبال نے اپنے اسمبلی حلقہ میں دوسو سے زائد چھوٹی بڑی پبلک میٹنگ کا انعقاد جس انداز میں کیا وہ اپنے آپ میں بہوجن سماج اور مسلم کی ایکتا کا زندہ اور جاگتا ثبوت ہے ہزاروں کی بھیڑ کا سخت سردی میں کھلے آسمان کے نیچے گھنٹوں موجود رہکر سرگرم نوجوان ایم ایل سی محمود علی ایم ڈی اور حاجی اقبال کی تقاریر کو بغور سننا اور پھر انکا قیمتی پھول مالاؤں سے ہر ایک جلسہ میں زبردست استقبال کیا جاناہی بسپاکے امیدوار کی جیت کی ضما نت ہے ۔ نوجوان بسپا قائد اور ضلع پنچایت کے ممبر عالم رانا نے بتایاہے کہ یہاں پر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کمشنری میں سرگرم نوجوان ایم ایل سی محمود علی ایم ڈی اور حاجی محمد اقبال نے سخت حالات میں لگاتار پانچ سال تک بھائی نسیم الدین صدیقی، افضل صدیقی اور بھائی لیاقت علی کے ساتھ گھوم گھوم کر مسلم طبقہ کو بسپاکے ساتھ لانے میں جو محنت کی آج بسپاکی مسلمانوں میں بڑھتی مقبولیت آپکی جدوجہد اور اخلاقی برتاؤ کاہی نتیجہ ہے بہن جی اور دیگر سینئر بسپا قائدین کو قوی امید ہے کہ سرگرم نوجوان ایم ایل سی محمود علی ایم ڈی اور حاجی اقبال مستقبل میں بھی اسی طرح سے با اخلاق اور سنجیدہ رہکر ہمیشہ بہوجن سماج پارٹی کو متحد رکھنے کا کام انجام دیں گے اور اس اسمبلی چناؤ میں بسپا سب سے بہتر طاقت میں ابھر کر عوام کے سامنے آئیگی۔