سی اے اے کی آڑ میں ہمیں بانٹنے کی کوشش کی گئی: شاہین باغ خاتون مظاہرین

04:28PM Thu 6 Feb, 2020

نئی دہلی: قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں جاری مظاہرہ میں خاتون مظاہرین اور مقررین نے کہا کہ حکومت اس کالے قانون کی آڑ میں ہمیں بانٹنے اور ہماری مشترکہ تہذیب اور مشترکہ وراثت کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے اس لئے اس قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
مظاہرین نے کہا کہ بات صرف مسلمانوں کی نہیں ہے بلکہ اس ملک کے اتحاد و سالمیت کی ہے جسے ہم کسی قیمت پر نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آتی جاتی رہتی ہے لیکن یہ ملک ہمیشہ رہے گا اور ہم اس ملک کی مشترکہ تہذیب اور ساجھی وارثت کو کسی صورت میں بھی ختم نہیں ہونے دیں گے کیوںکہ اس حکومت کی یہی منشا ہے۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ قانون صرف مسلمانوں کو پریشان کرے گا وہ اپنی غلط فہمی دور کرلیں اور اس قانون کے مضمرات اور عوامل پر غور کریں اور حکومت کی منشا کو سمجھنے کی کوشش کریں سب کچھ آئینہ کی طرح صاف ہوجائے گا۔
 خاتون مظاہرین میں شامل ایک ہندو خاتون رینو کوشک نے کہا کہ سوشل میڈیا پر شاہین باغ خاتون مظاہرین کی باتیں سن کر مظاہرہ میں شامل ہوئی ہوں اور میں ان خواتین کے ساتھ رات میں بھی یہیں رہتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں اس لئے یہاں رہتی ہوں کہ ان خواتین کی مانگ جائز ہے اور اسی کی حمایت کرنے کے لئے یہاں بیٹھی ہوں تاکہ کوئی یہ نہ کہ سکے یہ لڑائی صرف مسلمانوں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ قانون جلد از جلد واپس لینا چاہیے کیوںکہ یہ ملک کے لئے بہت خطرناک ہے اور اس کے بہت ہی برے نتیجے نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے نفاذ سے ہمارے ملک کی مشترکہ تہذیب و ثقافت اور ہندوستان کی پہنچان ختم ہوجائے گی۔