میگھالیہ میں اقتدار کیلئے رسہ کشی ، یو ڈی پی نے بڑھائی بی جے پی اور کانگریس کی مشکلیں
02:22PM Sun 4 Mar, 2018
Share:
شیلانگ : میگھالیہ کے اسمبلی انتخابات میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہ ملنے کی وجہ سے وہاں جوڑ توڑ کی سیاست اپنے عروج پر ہے ۔ کانگریس اور بی جے پی یہاں مقامی پارٹیوں کے ساتھ مل کر حکومت سازی کی کوششوں میں مصروف ہے ، جس کی وجہ سے یہاں یونائٹیڈ ڈیموکریٹک پارٹی ( یو ڈی پی ) ، پیپلز ڈیمو کریٹک فرنٹ ( پی ڈی ایف ) جیسی علاقائی پارٹیوں کی اہمیت بھی کافی بڑھ گئی ہے۔ یہاں یو ڈی پی کے ساتھ پاس چھ جبکہ پی ڈی ایف کے پاس چار ممبران اسمبلی ہیں۔
وہیں یو ڈی پی چیف دونکوپر رائے سے جب اس بابت پوچھا گیا کہ وہ بی جے پی این پی پی اتحاد یا کانگریس کے میں کس کے ساتھ جائیں گے ، تو انہوں نے اپنے پتے کھولنے سے انکار کردیا اور کہا کہ فی الحال انہوں نے اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
غور طلب ہے کہ میگھالیہ کی 60 رکنی اسمبلی میں یو ڈی پی نے چھ سیٹیں جیتی ہیں اور ریاست میں حکومت کی تشکیل کیلئے اس کا ساتھ کافی اہم ہوجاتا ہے ۔ وہیں یو ڈی پی کے ایگزیکٹو صدر بندو ایم لنونگ اشاروں اشاروں میں ہی کہتے کہ ان کی پارٹی اس مرتبہ کانگریس کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی۔
اس درمیان کانگریس نے گزشتہ رات گورنر سے ملاقات کرکے سب سے بڑی پارٹی ہونے کی وجہ سے حکومت سازی کا دعوی پیش کیا ۔ میگھالیہ میں کانگریس کے ایگزیکٹو صدر ونسیٹ ایچ پالا نے بھی اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یو ڈی پی اور پی ڈی ایف جیسی پارٹیاں کانگریس کی حمایت کریں گی ۔ پالا نے کہا کہ ہم بات چیت کررہے ہیں ، ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حمایت دیں گے۔