ابتہاج محمد ، ریو اولمپکس میں پہلی باحجاب خاتون شمشیر زن
03:56PM Tue 9 Aug, 2016
ریوڈی جنیرو : ابتہاج محمد ریو اولمپکس میں امریکہ کی نمائندگی کرنے والی واحد مسلمان خاتون ہیں۔ حجاب پہننے والی ابتہاج تلوار بازی کرتی ہیں اور حال ہی میں امریکہ میں ان پر کسی نے دہشت گرد ہونے کا جملہ کسا تھا۔ ریو جانے سے قبل ابتہاج نے امریکی خاتونِ اول کو اس کھیل کے گر سیکھانے کی کوشش کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ابتہاج کا کہنا تھا کہ امریکہ کی موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں یہ غیرمعمولی ہے کہ ایک مسلمان خاتون اولمپکس میں امریکہ کی نمائندگی کر رہی ہے۔
ابتہاج کا مزید کہنا تھا کہ میں عام طور پر مسلم خواتین کے بارے میں پائے جانے والے دقیانوسی خیالات اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے پرجوش ہوں۔ میں لوگوں کو دکھانا چاہتی ہوں کہ ہم نہ صرف اولمپکس میں حصہ لی رہی ہیں بلکہ دنیا کی مضبوط ترین اولمپکس ٹیم کا حصہ ہیں۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ کھیل اور سیاست کو الگ رکھنا چاہیے تاہم ابتہاج دونوں پر کھل کر بات کرتی ہیں۔ ابتہاج کا کہنا ہے کہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ دنیا کے حالات میں بہتری لائیں۔ امریکی ریاست نیوجرسی میں پیدا ہونے والی ابتہاج کے بقول ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ مختلف معاشروں اور مذاہب میں پائی جانے والی غلط فہمیاں دور کی جائیں۔
ابتہاج کے بقول کھیلوں سے لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔اگر میں مسلمان نوجوانوں اور دوسرے بچے، جنھیں نسل پرستی کا سامنا رہا ہے کے لیے رول ماڈل بن سکوں تو میرے نزدیک یہ ایک مثبت چیز ہو گی۔ اگرچہ حالیہ عرصے میں ابتہاج کے کھیل میں بہت بہتری آئی ہے اور تلوار بازی کے کھیل کی عالمی رینکنگ میں وہ 113 ویں پوزیشن سے آٹھویں پوزیشن پر آ گئی ہیں لیکن ان کے کھیل کے بجائے امریکی ذرائع ابلاغ ان کے لباس پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔
ابتہاج کے بقول حجاب کرنا میری ذاتی خواہش ہے، یہ میری شخصیت کا حصہ ہے اور خدا سے روحانی رشتے کا ذریعہ ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں اکثریت غیر مسلمانوں کی ہے یہ مجھے میرے مذہب کے بارے میں احساس دلاتا ہے۔ حجاب کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمی کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ عورتوں کو زبردستی نہیں پہنایا جاتا، خصوصاً امریکہ میں، یہ ایک شعوری فیصلہ ہے جو میں نے خود کیا ہے۔ ابتہاج سے جب پوچھا گیا کہ مسلمانوں پر متعدد بار تنقید کرنے والے رپبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اگر ملک کے صدر بن گئے تو کیا وہ امریکہ چھوڑ دیں گی۔تو ان کا کہنا تھا اس کے بارے میں تو انھیں معلوم نہیں تاہم عوامی اور سرکاری شخصیات کو سوچ سمجھ کر بیانات دینے چاہیے۔
ان کا موازنہ باکسر محمد علی سے کرنے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ محمد علی ایک عظیم باکسر تھے، کچھ لوگ ان کے رنگ کی وجہ سے ان کو پسند نہیں کرتے تھے لیکن تمام تر مشکلات کے باوجود وہ حق پر بات کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔ ابتہاج کے بقول میرا محمد علی سے ایک لمحے کے لیے بھی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی برادری کو درپیش مسائل کے بارے میں آواز بلند کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ اگر ابتہاج ریو میں میڈل جیتنے میں کامیاب ہوتی ہیں تو یقیناً اپنے مقصد کے حصول میں انھیں مدد ملے گی۔