مینارٹی کمیشن کو عدالتی اختیارات رولس کو حکومت کی منظوری : نصیر احمد

03:20PM Mon 28 Aug, 2017

بنگلور:(بھٹکلیس نیوز) کرناٹکا اسٹیٹ مینارٹی کمیشن کے چیرمین جناب نصیر احمد نے بتایا کہ حکومت کرناٹک نے2016میں مینارٹی کمیشن کو سیول کورٹ کے اختیارات دےئے ہیں لیکن عدالتی اختیارات ملنے بعد اس کے رولس نہیں بنے تھے جناب نصیر احمد نے بتایا کہ جب وہ چیر مین نامزد ہوئے تو انہوں نے رولس کو مرتب کرکے حکومت کی منظوری کیلئے بھیجا اب یعنی اختیارات ملنے کے سات ماہ بعد رولس کو منظوری مل گئی ہے ۔رول 5Aکے تحت کمیشن کو اختیار حاصل ہے کہ اقلیتوں کے تحفظ ، فلاح اور ترقی سے متعلق کسی بھی شکایت کی تحقیقات کر سکتا ہے اور شکایت سے متعلق کسی بھی اعلیٰ افسر کو سمن اور وارنٹ جاری کرکے تفصیلات معلوم کرسکتا ہے اسی طرح اسٹیٹ پلاننگ بورڈ سے رابطہ کرکے مختلف بورڈس اور کمیٹیوں میں نمائندگی کی سفارش کرسکتا ہے۔اقلیتوں کی فلاح اور ترقی سے متعلق پروگراموں اور اسکیموں کا جائزہ لے سکتا ہے۔ اقلیتوں کیلئے شروع کئے گئے پروگراموں پر کس حد تک عمل ہوا ہے اس کی رپورٹ مختلف ڈپارٹمنٹوں سے طلب کرکے اس کا جائزہ لینے کے بعد ضروری ہدایت دے سکتا ہے ۔ جناب نصیر احمد نے بتایا کہ عدالتی اختیارات کے رولس فریم ہونے کے بعد منگلور اور کولار میں کمیشن کے اجلاس منعقد ہوئے مختلف اداروں کے ذمہ داروں سے شکایات سنی گئیں ا سکے بعد ضلع افسران کو طلب کرکے ان شکایات کے بارے میں ضروری ہدایات دےئے گئے ۔ انہوں نے بتایا کہ بقر عید کے موقع قربانی کے جانوروں کو لانے لے جانے کے موقع پر تحفظ فراہم کرنے کیلئے ضلع انتطامیہ کو ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے ضلع حکام کو خطوط بھی لکھے جارہے ہیں سپریم کورٹ نے کہا کہ مذہبی رواج کے تحت جانوروں کو ذبیحہ کیا جاسکتا ہے۔