وقف ترمیمی بل کو منظوری مل ہی گئی

12:40PM Fri 6 Sep, 2013

بھٹکلیس نیوز 6ستمبر 13 نئی دہلی/ایجنسی کے رحمٰن خان:یہ نیا بل وقف کے ہزاروں ایکڑ ملکیت پر غیر قانونی قبضہ rehman khanکا خاتمہ کرنے کارگار ثابت ہوگا وقف کی ملکیت کو غیر قانونی قبضہ سے بچانے ، اس ملکیت کی حفاظت اور پختہ نظامت والے وقف ترمیمی بل 2010 کو راجیہ سبھا کے ذریعہ کی گئی ترمیم کے ساتھ آج یہاں لوک سبھا میں غور خوص کے لئے پپیش کیا گیا ۔جو کہ منظور کردیا گیا۔حالانکہ راجیہ سبھا نے اس بل کو گشتہ ماہ ہی منظور کردیا تھا۔ا س بل کے سلسلہ میں ہورہی بحث کے دوران اقلیتی امور کے وزیر جناب کے رحمٰن خان نے کہا کہ یہ بل وقف پر غیر قانونی قبضہ کو ختم کرنے کے لئے کامیاب بل ثابت ہوگا۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وقف کی ہزاروں ایکڑ ملکیت پر غیر قانونی قبضہ کیا گیا ہے۔اس بل میں اس میں ایسے پروویژن موجود ہے جس سے ملک بھر میں بغیر استعمال والی سیکڑوں ایکڑ زمین کے استعمال میں مدد حاصل ہوگی۔اس بل کو پہلے ہی مئی0 201 میں لوک سبھا نے منظور کردیا تھا لیکن مسلم پرسنل لاء بورڈ و دیگر مسلم تنظیموں نے اسکے کچھ پروویژن پر اعتراض ظاہر کیا تھا جس کی بناء پر راجیہ سبھا نے اسے 27 اگست 2010 کو سلیکٹ کمیٹی کو روانہ کردیا تھا۔جناب رحمٰن خان نے اس بات کی بھی اطلاع دی کہ اس بل میں وقف املاک سروے کی ذمہ داری مرکزی سرکار و ریاستی سرکار کو سونپی گئی ہے۔جناب خان نے یہ بھی کہا کہ ہمارے دارالحکومت نئی دہلی میں ہی وقف کی 123 ملکیات پر غیر قانونی قبضہ ہے۔اس موقع پر راجیہ سبھا میں مختلف سیاسی پارٹیوں کی جانب سے یہ صدا آنے لگی کہ وقف کی ملکیت پر سے غیر قانونی قبضہ کو ہٹایا جائے اور مسلم طبقہ کے لئے ٹھوس منصوبہ قدم اُٹھایا جائے۔اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے سماجوادی پارٹی کے شیلندر کمار نے سچر کمیٹی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ آج مسلمانوں کی حالات دلتوں کی حالات سے بھی گئی گزری ہو گئی ہے۔اور اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم طبقہ کی ترقی کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔اس بل کی بحث کا حصہ بنتے ہوئے بی جے پی لیڈر جناب شاہ نواز حسین نے اس بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آثار قدیمہ کا بہانا بناکر قدیم مساجد میں نما زپڑھنے سے روکتی ہے ۔اور مجھے خوف ہے کہ کئی اس کا بھی حال کہی یروشلم جیسا نہ ہو اوور ہماری مساجد کی مرمت بھی ہم نہ کرسکیں۔جناب حسین نے مزید کہا کہ وقف بورڈ کے سارے املاک کا صحیح استعمال ہوتا ہے تو مسلمانوں کے لئے یہ بہت کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو چاہئے تھا کہ اسے بہت پہلے ہی  منظور کیا تھا ۔شفیق الرحمٰن برق "بی ایس پی" لیڈر نے سچر کمیٹی کا ذکر تے ہوئے کہا کہ 4 لاکھ سے زائد وقف ملکیت موجود ہے جس پر آدھے سے زائد غیر قانونی قبضہ کے چنگل میں ہے۔انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت پیش کی کہ یہ صرف وقف املاک کا مسئلہ نہیں بلکہ مسلم طبقہ کی تعلیم ،روزگار اور سماجی صورتحال کا معاملہ ہے۔جناب شفیق الرحمٰن صاحب نے کانگریس پارٹی پر یہ الزام عائد کیا کہ آزادی کے بعد سے مسلم طبقہ کو جھوٹے وعدے کے سوا کچھ نہیں حاصل ہوا ہے۔