مسلمان عورتیں اصلاح معاشرہ اور دعوت دین کے کاموں میں آگے بڑھیں؛ ڈاکٹر اسماء ذھراء

04:07PM Fri 29 Jul, 2016

رابطہ سوسائٹی کی طرف سے ممتاز طالبات میں ایوارڈ کی تقسیم بھٹکلیس نیوز / 29 جولائ، 16 بھٹکل / (رضوان گنگاولی) "آج ملک بھر میں عوتوں کے حقوق کے سلسلہ میں اسلامی شریعت پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں اور اسے عورتوں کے ساتھ ناانصافی کہی جارہی ہے، اس پر تماشہ یہ ہے کہ کچھ نام نہاد مسلم عورتیں بھی میڈیا کے سامنے اسے نا انصافی سے تعبیر کر رہی ہیں، جس کے لئے ہم عورتوں کو آگے آنا پڑے گا اور اسلامی شریعت کو ہی ہمارے لئے مکمل اور محفوظ شریعت ہونے کا اعلان کرنا پڑے گا"۔ ان خیالات کا اظہار مسلم پرسنل لاء بورڈ کی انتظامیہ ممبر ڈاکٹر آسماء ذھراء صاحبہ نے کیا وہ آج یہاں انجمن میدان میں رابطہ سوسائٹی کی طرف سے طالبات کے لئے منعقد تعلیمی ایوارڈ اجلاس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کر رہی تھیں۔ محترمہ اسماء صاحبہ نے اسلامی شریعت کو ایک مکمل شریعت اور اسلام میں عورتوں کے مقام کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام سے قبل ہم دیکھتے ہیں کہ عورتوں کی کوئی عزت نہیں تھی ایسے وقت میں جب اسلام آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے مقام کو اونچا کیا۔ محترمہ نے جاہلیت کے زمانہ کی عورت کا موازنہ اہل ایمان کی عورتوں سے کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان عورت کو اسلام نے ایک پہچان دی ہے، اسے ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے طور پر عزت و وقارعطا کیا ہے۔ انہوں نے قرآن و حدیث کے ذریعہ عورت کے مقام کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسلام ایک مکمل دین ہے اور اسلام نے کسی کے ساتھ نا انصافی کرنے سے منع کیا ہے تو پھر یہ عورتوں کے ساتھ کیسے نا انصافی کرسکتا ہے۔ محترمہ ذھراء صاحبہ نے پرسنل لاء پر ہورہے حملوں کے پیش نظر اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والی خواتین کو آگے آنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ خواتین کو اس موقع پر آگے آنا چاہئے اور اسلامی تعلیمات کی خوبیوں کو سب کے سامنے رکھنا چاہئے۔ انہوں نے اس موقع پر اسلامی شریعت پر لگ رہے بہت سے بے بنیاد الزامات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ہمیں نئی تہذیب سے متاثر نہیں ہونا چاہئے بلکہ ہمیں باطل کے سامنے حق بات کو رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ صدارتی خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عالیہ نازنین صاحبہ نے تعلیم کی اہمیت کو بیان کیا اور کہا کہ تعلیم نام ہی ہے علم کو حاصل کرنے کا۔ انہوں نے خواتین کو معلومات کی مشین بننے کے بجائے اپنے آپ کو اس علم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنے پر زور دیا۔ ڈاکٹر عالیہ نے مثالوں کے ذریعہ اس کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ جب تک علم عمل کے راستے سے باہر نہیں آتا وہ علم کچھ فائدہ نہیں دیتا۔ انہوں نے بھٹکل میں پاکی صفائی کا خیال کرنے اور ٹرافک نظام میں درستگی لانے میں تعاون کرنے کی درخواست کی۔ اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا، جس کے بعد نعت اور پھر رابطہ کا ترانہ گنگنایا گیا۔ استقبال اور تعارفی کلمات کے بعد ایوارڈ کی تقسیم کی گئی۔ اجلاس کا اختتام شکریہ کلمات کے بعد دعا کے ساتھ ہوا۔ امسال رابطہ تعلیمی ایوارڈ حاصل کرنے والی خوش نصیب طالبات یہ ہیں۔ پی یو سی سکینڈ سائنس مریم سمرن بنت سید سلیم پیرزادے (انجمن پی یو کالج فار ویمن) 94.83% کامرس عائشہ فضہ بنت محمد عثمان خلیفہ (انجمن پی یو کالج فار ویمن)92.83% آرٹس فاطمہ مہ نور بنت عبدالصمد (انجمن پی یو کالج فار ویمن)91.33% گریجویشن بی اے خیرالنساء بنت محمد گوث باشاہ فقیہ (انجمن کالج فار ویمن) 89.50% بی ایس سی ایشوریہ بنت گوندرے نائک (انجمن کالج فار ویمن) 89.38% جامعات الصالحات عمارہ بنت عرفان کوڑا (جامعات الصالحات) 94.20% کینرا مسلم خلیج کونسل (پی یوسی سکینڈ) ندا آفرین بنت فضل الرحمان کٹنگری (نیشنل پی یو کالج مرڈیشور) 91.00% ضلعی تاپر سجاتھا بنت گنپتی بھٹ (وائی ٹی ٹی ایس پی یو کالج یلاپور) 98.00% اس کے علاوہ اس موقع پر محترمہ فرزانہ محتشم صاحبہ کو نائطی برادری کی پہلی پی ایچ ڈی کرنے والی خاتون کے طور پر ایوارڈ دیا گیا۔