یوپی کی مسلم قیادت کا سیاسی مستقبل بگاڑ سکتے ہیں پولنگ کے نتائج !
12:51PM Fri 24 Feb, 2017
سہارنپور۔(بھٹکلیس نیوز)ریاستی سطح پر مسلم ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچانے کیلئے جس قدر کوششیں بہوجن سماج پارٹی کی قائد مایاوتی نے کی ہے ایسی بہتر کوششیں ریاست میں کسی دیگر سیاسی جماعت نے گزشتہ ۵۰ سالہ سیا سی دور اقتدار میں بے لوث ڈھنگ سے کئے جانیکی ہمت ہی نہی دکھائی مسلم ووٹرس کی تقسیم کو بریک لگانے کی غرض سے ہی بہن جی نے ریاست کی سو سے زائد اسمبلی سیٹوں پر بھاری بھرکم اور صاحب حیثیت مسلم افراد کو پارٹی سے ٹکٹ دیکر میدان میں اتاردیاہے بسپاکے سبھی مسلم امید واروں نے سہارنپور کمشنری سمیٹ ریاست کی درجن بھر کمشنریز کے مختلف اضلاع کی اسمبلی سیٹوں پر مرزاپور تک بہت ہی بہادری سے الیکشن بھی لڑا مگر افسوس اس بات کا رہاکہ یہاں بھی جیتنے والے مسلم امیدواروں کا ووٹ زیادہ تر اسمبلی سیٹوں پر دیگر جماعتوں کے ہارنے والے اور کمزور مسلم امیدواروں نے ہی کاٹا ہے جس وجہ سے مسلم ووٹ کی یکجہتی اور حیثیت پر بڑی چوٹ لگی ہے یہی سب کچھ ہم مسلم ووٹران نے گزشتہ لوک سبھا ۲۰۱۴ کے چناؤ میں بھی اپنا ووٹ تقسیم کر کے کیاتھا جسکا بھاری خسارہ آج تک قوم برداشت کر رہی ہے ٹھیک اسی طرح سے مسلم ووٹر س جوش میں ا پنے اپنے چہیتے امیدوار پر تقسیم ہوکر بے وزن رہے اور کمزور پڑگئے اس بار اگر ہمارے مسلم ووٹرس عقل سے کام لیتے تو ۲۰۱۷ اسمبلی چناؤمیں کم از کم ایک سو سے زائد مسلم ممبران اسمبلی کوجیت دلاکر بہ آسانی ہاؤس میں پہنچاسکتے تھے مگر اپنوں ہی نے اپنوں کو نقصان پہنچانیکا شرمناک کام انجام دیاہے یہ بھی سچ ہے کہ امسال کے اس اسمبلی چناؤ کا شاندار نتیجہ ہی ریاست کی مسلم قیادت کا وجود اور مستقبل بھی اب طے کر کے ہی رکے گا؟
۲۰۱۷ کے موجودہ اسمبلی چناؤ میں بھی مسلم رہبروں نے اپنے اپنے مفاد کو ہی سنوارا ہے قوم کی بے بسی پر توجہ ہی نہی ڈالی یہ بھی نہی سوچا کہ لمبے عرصہ سے چٹکلے سنا سنا کر بہلائی جارہی مسلم قوم کا اور قوم کی نئی نسل کے مستقبل کا کیا ہوگا دیگر اقوام کی طرح کیا ہماری نئی نسل بھی سرکاری نوکریوں میں حصہ داری نبھائیگی کہ نہی کیا ہماری نئی نسل بھی مقابلہ جاتی امتحانات کو عبور کرتے ہوئے سنہرے کل کی جانب بڑھے گی کہ نہی شایداس سچائی کی بابت کسی نے بھی نہی سوچا ہوگا یہاں تو ہر سو بس خد غرضی کا بول بالاہے نئی نسل کا خیال یہاں کون رکھیگا؟ چند بے لوث قائدین کی خاص کوششوں کے چلتے جہاں جہاں مسلم ووٹ تقسیم نہی ہواہے وہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کو زبردست خسارہ ہورہاہے مگر جہاں مسلم ووترس بکھر گئے وہاں وہاں بھاجپا کے امیدواروں کو زبردست فائدہ ہوا ہے جیساکہ مراد آباد، مراد نگر ، غازی آباد، بلند شہر، میرٹھ، مظفرنگر، کھتولی، باغپت ، چھپرولی ، جسانسٹھ ، پرقاضی ، چرتھاول ،بڈھانہ ، شاملی ،دیوبند ، نکوڑ اور گنگوہ یہاں مسلم ووٹ کی تقسیم سے سیکولر امیدواروں کو نقصان کا خدشہ لگاتار بناہواہے مغربی اتر پردیش کے مسلم ووٹ کتنے فیصد کس کس امیدوار کے حق میں تقسیم ہوئے ہیں یہ گیارہ مارچ کو آنے والے نتائج ہی بتا سکتے ہیں مگر یہ سچ ہے کہ قریب قریب مغربی اتر پردیش کی ان سبھی مسلم اکثریتی۱۷۰ کے قریب سیٹوں پر جہاں بھی مسلم دلت ایک ساتھ رہاہے وہاں بھاجپاکی زمین کھسک چکی ہے سہارنپور ، میرٹھ ، باغپت، بلند شہر اور بجنور سے مراد آباد تک متحد ہوکر موقع پرس اور مفاد پرست سیاست دانوں کو سبق سکھانیکے لئے ہی رہاہے مایاوتی اور بھاجپاکے بیچ ہی ہر جگہ کڑا مقابلہ دیکھنے کو ملاہے عوام سے ملے جائزہ کے مطابق مسلم اکثریتی علاقوں میں سماجوادی کانگریس اتحاد بہوجن سماج پارٹی کے امیدواروں سے کافی پیچھے ہے دیوبند کی اہم سیٹ پر بھی مسلم ووٹ کی زبردست تقسیم نے بھاجپاکے امیدوار کو مقابلہ میں لا کھڑا کردیاہے دیوبند میں بھی مقابلہ بسپا اور بھاجپاکے بیچ ہی ہوناہے اسی طرح گنگوہ ، نکوڑ، دیہات، رام پور منیہاران، بہٹ اور شہری سیٹ پر بھی سبھی امیدواروں میں بہوجن سماج پارٹی ہی بھاجپا کے مقابلہ کیلئے کچھ بہتر طاقت میں نظر آرہی ہے یہاں بھی شہری سیٹ کو چھوڑ کر باقی ضلع کی سبھی چھ سیٹوں پر بسپاہی بھاجپاکو کراری مات دے رہی ۔زیادہ تر اسمبلی سیٹوں پر اس بار سماجوادی کانگریس اتحاد نے صرف اور صرف مسلم ووٹ کو تقسیم کرنے کاہی کام انجام دیاہے مگر قوم کی سمجھداری کہ اس نے بسپاکے امیدواروں کو ووٹ دیکر بھاجپاکے منصوبوں کو ناکام بنادیاہے سرکاری ذرائع کے مطابق ۔مغربی اتر پردیش کی ان سبھی مسلم اکثریتی۱۷۰ کے قریب سیٹوں پر جہاں بھی مسلم دلت ایک ساتھ رہاہے وہاں بھاجپا نے سبھی مفاد پرست سیاسی جماعتوں کے چہرے لٹکادئے ہیں۔ اپنے اقتدار کی طاقت میں مست سیاسی جماعتوں کے نمائندے اس بڑھے ہوئے پولنگ کو اپنے حق میں مان رہے ہیں جبکہ سچ یہ ہے کہ مغربی اضلاع کا موجودہ پولنگ ہندو ووٹران کا بھاجپا کے حق میں سب سے زیادہ ہونے والا منظم پولنگ ہے اور اس بھاجپائی ووٹ کا سیدھامقابلہ یہاں مسلم پچھڑوں اور دلت طبقہ کے لوگوں کے پولنگ ووٹ سے ہی مانا جارہاہے کہ جو ظلم کے خلاف، فرقہ پرستی کے خلاف اور ہندو مسلم بھائی چارے کیلئے دلتوں اور مسلموں نے سیکولر امید واروں کو دیاہے مگر سماجوادی اور بسپاکی مسلم ووٹوں کی سیاست نے یہاں لاکھوں کی تعداد میں ووٹوں کا وزن صفر کر کے رکھ دیاہے جس وجہ سے آج مغربی اضلاع کی ساٹھ سے زائد سیٹوں پر بھاجپا سب سے زیادہ بہتر پوزیشن میں ابھر کر سامنے آگئی ہے؟