نعمتوں کی صحیح قدر دانی دین کی تا بعداری ہی میں ہے: مولانا محمد مقصود عمران رشادی
03:18PM Tue 23 May, 2017
چکبالاپور: ( بھٹکلیس نیوز)اسلام کی نظر میں انسان کے پاس جو مال ہے اس کا وہ مالک نہیں ہے اور نہ ذاتی اختیار سے دنیوی دولتوں کو اکٹھا کرنے کا مجازہے اور اسے اختیار ہے ،سارے وسائل کی باگ ڈور اللہ رب العزت کے ہاتھ میں وہ جسے چاہے مال عطا فرماتا ہے اور جس کو چاہے کنگال کردیتا ہے یہ اس کی مرضی ہے اس پاک پروردگار کی مرضی کے بغیر نہ کوئی مالدا ر بن سکتا ہے اور نہ کسی سے اس کا مال چھن سکتا ہے چنانچہ قرآن مجید میں فرمایا گیا اللہ جس پر چا ہے رزق کشادہ کردے جس پر چا ہے تنگ کر دے اس مضمون کی آیت قرآن مجید میں کئی جگہ مختلف اندازمیں موجود ہے کہیں من عبادہ کے الفاظ بھی ہیں یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں مال ودولت ورزق کی وسعت عطا فرماتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں تنگدست بنادیتے ہیں اور جب مال داری اور تنگدستی اللہ کی جانب سے ہے تو کسی بھی شخص کوچاہے تو راتوں رات اس کو ایک ایک روٹی کا محتاج کردے اسی طرح کسی غریب کو نہ کسی قسم کا افسوس کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو اللہ نے دیا ہے اس پر صبر وشکر کی زندگی گذارے مذکورہ خیالات کا اظہار بروز پیر۲۲ مئی ۲۰۱۷ ء چکبالاپورمیں مسجد نورانی کے افتتاح کے موقع پر جامع مسجد سٹی بنگلور کے امام و خطیب حضرت مولانا محمد مقصود عمران صاحب رشادی نے فرمایانیز آپ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کا فر مان کہ جس کو جنت میں محل چا ہئے وہ اس دنیا میں مسجد کی تعمیر میں حصّہ لے جو شخص اللہ کے لئے مسجد کی تعمیر کر تا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں محل تعمیر فر ما تے ہیں، دنیا کے اعمال کے ذریعہ حقیقت میں آخرت کے سامان تیارکر نا ہے۔ مولانا موصوف نے فر مایا مؤمن ہمیشہ آخرت کے لئے فکر مند اور امت کے لئے غمگین ہوتا ہے یہ چیزیں تو امت کو اپنے نبی سے ورثہ میں بھی ملی ہیں اچھے اخلاق اختیار کر نا انسا نوں کے ساتھ خوش اخلاقی و خندہ پیشانی سے ملنا یہ کام دین کا حصّہ ہے رسول اللہ ﷺ نے فر مایا کہ اپنے چہرے پر مسکرا ہٹ لا کر اپنے بھا ئی سے ملنا بھی صدقہ ہے چھوٹوں پر شفقت بڑوں کا علماء دین کی خدمت وغیرہ ایسی چیزیں ہیں کہ ان کے چھوڑنے پر رسول اللہ ﷺ نے فر مایا کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے آج یہ چیزیں ختم ہو تی جا رہی ہیں دوسرے الفاظ میں ایمان میں کمی کوتاہی اور کمزوری آتی جا رہی ہے آج غفلتوں من ما نیوں کا دور ہے آج کے زمانے میں سب سے بڑی ضرورت مساجد سے جڑنا ہے اور مسجد سے تعلق رکھنا ہے یہ چیزیں اس لئے کہ ایمان کے اسلام کی حفاظت کے ضامن بنتے ہیں آنے والے ماہ مقدس کا پاس و لحاظ رکھیں اپنے آپ کو ابھی سے عبادت کے لئے تیار رکھیں ۔حضرت مولانا سید مصطفیٰ رفاعی جیلانی رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ نے اپنے نا صحانہ کلمات کے ساتھ اس بات کی طرف تو جہ دلا ئی اللہ کے ذکر و اذکار سے اپنی زبانوں کو تر و تازہ رکھیں مساجد کی آبادی کی طرف خاص توجہ کریں۔ مسجد کی پاکی صفا ئی کا خاص خیال رکھیں اس کی طرف تو جہ دلا تے ہو ئے آپ نے بتا یا کہ اللہ کے نبی ﷺ کھجور کے شا خوں سے مسجد کی دھول صاف کیا کر تے تھے نیز آپ نے بتایا کہ نبی ﷺ نے ایک مر تبہ قبلہ کی جانب بلغم تھوک دیکھا تو اس کو ایک ٹھیکرے سے کھرچ کر صاف کر دیا مسجد کی پاکی صفائی کی تا کید کیا کر تے علامہ شعرانی نے کشف الغمہ میں لکھا ہے کہ مسجد میں اگر کہیں کو ئی غلاظت دیکھتے تو اس کو صاف کر دیتے اور اس جگہ زعفران منگوا کر اس جگہ مل دیا کر تے تھے اس لئے آقا ﷺ نے فر ما یا کہ مسجد میں جھارو دینا جنت کے حوروں کا مہر ادا کر نے کے برا بر ہے ۔حضرت ابو الدرداءؓ سے روا یت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فر مایا مسجد ہر متقی پر ہیز گار کا گھر ہے جس کا لقب و روح مسجد سے لگا رہے گا اللہ پاک اس کا کفیل ہے وہ اس پر رحم فر ما ئے گا اور پلصراط پر سے گذر کر اپنی رضا کی جگہ جنت میں پہنچا ئے گا ۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں فر مایا کہ ر امت مسلمہ افتراق وانتشار کا شکار ہو گئی آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان پھر سے مساجد کو اجتماعی زندگی کامرکز بنایں اور مساجد کو وہ مقام دیں جو انہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے عطا فرمایا ہے تاکہ امت اپنا عروج رفتہ پھر سے حاصل کرسکے انسان اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت و محبت کا مستحق ہوتا ہے، اور ان مبارک اعمال کے خاص مراکز مسجدیں ہیں جو ذکر وعبادت سے معمور رہتی ہیں اور اس کی وجہ سے ان کو’’ بیت اللہ‘‘ سے ایک خاص نسبت ہے اس لئے انسانی بستیوں اور آبادیوں میں سے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں سب سے زیادہ محبوب مسجدیں ہی ہیں اور بازار اپنے اصل موضوع کے لحاظ سے انسانوں کی مادی و بہیمی تقاضوں اور نفسانی خواہشوں کے مراکز ہیں اور وہاں جاکر انسان عموماً خدا سے غافل ہوجاتے ہیں اور ان کی فضا اس غفلت و منکرات و معصیات کی کثرت کی وجہ سے ظلماتی اورمکدر رہتی ہیں اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں انسانی آبادیوں کا سب سے زیادہ مبغوض حصہّ ہیں۔اس موقع پر مسجد عمارؓ ٹیانری روڈ کے امام مولانا نور اللہ نے عوام الناس کو اپنے قیمتی خطاب میں اپنی سوچ کو بدلنے اور اللہ سے ہونے کا یقین پیدا کر نے اور اللہ کے فیصلے پر را ضی رہنے کی طرف تو جہ مبذول کرا ئی اور آپ نے فر مایا کہ مال و دولت سب اللہ کی طرف آزمائش ہیں اللہ کسی کو دیکر آزماتا ہے اور کسی کو مصیبت میں مبتلا کر کے آزماتا ہے سب چیزوں میں اللہ ہی کی طرف رجوع ہو نا چا ہئے ۔ الحاج عادل احمد شریف گلو ب انجینئر نگ کمپنی جنہوں نے اپنی زیر نگرا نی اس مسجد نورانی کی تعمیر بہت ہی کم عرصہ میں تکمیل کو پہنچی انہوں نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ اللہ کے نیک بندوں نے ایصال ثواب کے لئے اس کا ڈھا نچہ کھڑا کر نے میں اپنا حلال اور خون پسینہ کا پیسہ لگایا ہے محلہ والوں کو چاہئے کہ اس میں مکمل جد و جہد کے ساتھ ذمہ داروں کا تعاون فر ما ئیں اور تعلیم کے سلسلہ میں جو جو ہو سکتا ہے اس میں اس قدر تعاون فرمائیں ذمہ داروں کو بھی چا ہئے وقتاً فوقتاً جو بھی امور انجام دینی ہوں مشورہ سے حکمت سے کام لیں ۔ اس اجلاس کا آغاز مولانا محمد سلیم خطیب مسجد نورانی کی قرأت کلام پاک حافظ سیف اللہ متعلم جامع العلوم کی نعت پاک سے ہوا اور اجلاس کامیاب رہا مولانا عبد الغفور صاحب باقوی مستجاب دعا کے ساتھ اجلاس اختتام کو پہنچا ا اس اجلاس میں اطراف و اکناف کے علماء و عمادین کے علاوہ مولانا محمد مقصود عالم رشادی مدرس جامع العلوم بنگلور سٹی، مجلس ملیہ اسلامیہ کے رکن سید اسلم پاشاہ ذمہ داران مسجد نورانی کے علاوہ یس پی باشاہ بنگلور کے جی ین فیاض صاحب ، ناطق علی علی پور سید ظہیر گلوب انجینئر کے مینجر عبد السبحان کنکا نگر محمد بلال محمد سمیع اللہ سید اسلم سلیم ابراہیم پلمبر اور شہر باگے پلی ہندوپور اطراف و اکناف سے لوگ حاضر اجلاس رہے۔