ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری
12:49PM Mon 30 Jun, 2014
بھٹکلیس نیوز/30جون,14
1216/طبقات کے حالات کا جائزہ ،1.5لاکھ عملہ کی ضرورت
بنگلور/کرناٹکابیک ورڈ کلاس کمیشن کی طرف سے رواں سال ماہ نومبر اور دسمبرمیں پسماندہ طبقات کے سماجی اور تعلیمی حالات کا جائزہ کیا جائے گا،یہ بات حکومت کے ایڈیشنل چیف سکریٹری وی آمیش نے کہی ،گذشتہ روز ودھان سودھا میں ریاستی سطح کی کو آرڈینیشن کمیٹی کی صدارت کر تے ہو ئے کہاکہ سینس کے لئے چارج آفیسر ،سینس سوپر وائزرس ،کاؤنٹنگ کر نے والے سمیت ضروری عملہ کی نشاندہی کر نے کا کام اگست سے قبل مکمل کر لیا جائے گا ،اس سینس کے لئے مقرر کئے جانے والے عملہ کو ماہ ستمبر میں تربیت دی جائے گی،اس مردم شماری کے لئے 601/چارج آفیسرس ،21/ہزار سینس سوپروائزرس ،1.26/لاکھ کاؤنٹنگ کر نے والے افراد کی ضرورت ہے ،انہوں نے کہا کہ عملہ کی قلت محسوس ہونے پر وظیفہ یاب اساتذہ اور بے روزگا ر نوجوان لڑکے لڑکیوں کو اس کام کے لئے مقرر کیا جائے گا ،گھر گھر جاکر کئے جانے والے اس سینس میں دیہاتوں اور شہروں میں پائے جانے والے گھروں کا ناپ اور گھروں میں زندگی گزاررہے اراکین کی تعداد ،زراعت میں پسماندگی ،پروفیشنل کو بھی تر جیح دی جائے گی ،اس کے علاوہ پسماندہ طبقات کے ریزوریشن سے کتنا فائدہ ہوا ہے ان کا بھی جائزہ لینے کی کو شش کی جائے گی ،محکمئہ بہبود پسماندہ طبقات کے سکریٹری کے آر نرنجن نے اس موقع پر کہا کہ جائزہ لینے کے لئے 1261/طبقات کی نشاندہی کی گئی ہے ،جن میں فہرست ذاتوں 101/درج فہرست قبائلوں کے 50اور دیگر پسماندہ طبقات کے /10.65ذاتوں کی فہرست تیار کی گئی ہے ،اس جائزہ میں 48/ضوابط کو اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور سینس کے لئے جملہ 117/کرڑ روپئے خرچ ہو نے کا اندازہ لگا یا ہے ،87.50/لاکھ روپئے افزود جاری کئے جانے کی گزارش بھی کی گئی ہے ،80/کروڑ روپئے مردم شماری میں حصہ لینے والے اکاؤنٹنس اور سوپر وائزرس کو اعزازیہ کے طور پر ادا کئے جا ئیں گے۔