Siddaramaiah says he won't contest 2028 Karnataka polls, cites age, 'corrupt' politics
09:20PM Sun 26 Jul, 2026
کرناٹک کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر رہنما سدا رمیا نے سرگرم انتخابی سیاست سے خود کو الگ کرنے کا بڑا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ 2028 کا اسمبلی انتخاب نہیں لڑیں گے اور مستقبل میں بھی کسی بھی انتخاب میں امیدوار نہیں بنیں گے۔ اپنے فیصلے کے پیچھے انہوں نے بڑھتی عمر، گرتی ہوئی صحت اور سیاست کی بدلتی ہوئی نوعیت کو اہم وجوہات قرار دیا۔
سدا رمیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طویل پیغام شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی عمر اب 79 سال ہو چکی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ موجودہ حکومت کی مدت پوری ہونے تک ان کی عمر 81-82 سال ہو جائے گی اور اب پہلے جیسی توانائی کے ساتھ کام کرنا ممکن نہیں ہے۔
‘انتخاب نہیں لڑوں گا، لیکن سیاست نہیں چھوڑوں گا’
سابق وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ انتخابی سیاست سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، لیکن عوامی زندگی اور سیاست سے دوری اختیار نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوام کے مسائل اور حقوق کی آواز اٹھاتے رہیں گے۔ سدا رمیا نے لکھا: “میں 2028 کا اسمبلی انتخاب نہیں لڑوں گا۔ اس کے بعد بھی کسی بھی انتخاب میں امیدوار نہیں بنوں گا۔ تاہم سیاست میں فعال رہتے ہوئے عوام کے سکھ دکھ اور ان کے مسائل کو اٹھاتا رہوں گا۔”
‘پہلے لوگ چندہ دیتے تھے، اب ووٹ کے لیے پیسے دینے پڑتے ہیں’
اپنے سیاسی سفر کو یاد کرتے ہوئے سدا رمیا نے کہا کہ پہلے جب وہ انتخاب لڑتے تھے تو ان کے اسمبلی حلقے کے لوگ خود چندہ جمع کر کے ان کا انتخاب لڑواتے تھے۔ لیکن اب حالات مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “آج اگر انتخاب لڑنا ہو تو امیدوار کو ہی لوگوں کو پیسے دینے پڑتے ہیں۔ سیاست مکمل طور پر بدعنوان ہو چکی ہے۔ دیانتدار سیاست کے لیے اب زمین بچتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ اسی وجہ سے میں نے مستقبل میں انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔”
50 سال کا سیاسی سفر
سدا رمیا نے بتایا کہ 2028 تک ان کی عمر تقریباً 82 سال ہو جائے گی اور اسی سال ان کی سیاسی زندگی کے 50 سال بھی مکمل ہو جائیں گے۔ انہوں نے 1978 میں تعلقہ بورڈ کے رکن کے طور پر سیاست کا آغاز کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے کئی انتخابات جیتے، کچھ ہارے بھی، لیکن ہمیشہ اپنے اصولوں پر قائم رہنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کا اطمینان ہے کہ اپنی طویل سیاسی زندگی میں انہوں نے کبھی اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی اپنے ضمیر کے خلاف کوئی فیصلہ لیا۔
عوام کا شکریہ ادا کیا
سدا رمیا نے کرناٹک کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ دہائیوں میں لوگوں نے انہیں اپنے خاندان کے ایک فرد کی طرح محبت اور حمایت دی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی باقی زندگی بھی عوامی خدمت کے لیے وقف کریں گے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب چند ہفتے پہلے ہی کرناٹک میں قیادت کی تبدیلی کے بعد ڈی کے شیوکمار نے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا۔ تاہم سدا رمیا نے اپنے فیصلے کو کسی سیاسی پیش رفت سے جوڑنے کے بجائے عمر، صحت اور موجودہ سیاسی ماحول کو اس کی بنیادی وجہ قرار دیا۔