نئی دہلی اور کشمیر کے درمیان دوریاں کافی بڑھ گئی ،صورتحا ل انتہائی بھیانک
03:14PM Sun 26 Feb, 2017
سنجیدہ نوعیت کے اقدامات اٹھانے کی ضرورت۔۔پی چدمبرم
نئی دہلی۔(بھٹکلیس نیوز)فوجی سربراہ کے بیان کو کشمیر سے محروم ہونے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ نئی دہلی اور کشمیر کے درمیان دوریاں کافی بڑھ گئی ہیں ،لاکھوں لوگ سڑکوں پر آکر برملا اپنی ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں اور اگر صورتحال پر مرکزی حکومت نے قابو پانے کیلئے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات نہیں اٹھائے تو صورتحال بے قابو ہو جائیں گے ۔مرکزی حکومت کا رویہ انتہائی متحصبانہ ہیں اور حقیقت ان سے دیکھی نہیں جاسکتی ۔ ذرائع کے مطابق من تھن کے نام پر منعقد کی گئی تقریب پر تقریری کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر خزانہ پی چدمبرم نے کہا کہ میں محسوس کررہا ہوں کہ نئی دہلی کشمیر سے محروم ہونے ک قریب ہیں ۔ مرکزی حکومت کے سخت رویہ کی وجہ سے نئی دہلی اور کشمیر کے درمیان دوریاں کافی بڑھ گئی ہیں جنہیں پاٹنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن دکھائی دے رہا ہے ۔سابق مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ فوجی سربراہ جنرل بپن راوت کا بیان اس بات کی عکاسی ہے کہ نئی دہلی کشمیر سے محروم ہونے کے قریب پہنچ چکی ہیں اور اگر بروقت اقدامات نہیں اٹھا ئے گئے تو صورتحال ان کے قابو سے باہر ہو جائیگی ۔ اپنے خطاب کے دوران سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ لاکھوں کشمیری سڑکوں پر آکر اپنی ناراضگی کا برملا کرتے ہیں اور فوجی سربراہ کا یہ بیان کہ سڑکوں پر آنے والے لوگوں کو ملک دشمن قرار دیا جائیگا ،اس بات کی نشانی ہے کہ گرفت ڈیلی پڑ گئی ہیں اور مرکزی حکومت کے قابو سے باہر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے سنجیدہ نوعیت کے اقدامات اٹھا نے کی ضرورت ہے اور نئی دہلی میں بیٹھے حکمرانوں کو کشمیر کی زمینی صورتحال کے بارے میں کوئی جانکاری حاصل نہیں ہے ۔ سابق مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ ریاست کے لوگوں میں اعتماد بحال کرنے اور صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے ضد اور ہڑ دھرمی کا رویہ ترک کر کے بامعنیٰ اور نتائج خیز بات چیت کی اشد ضرورت ہے تاکہ اعتماد سازی کو بحال کر کے بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ٹالا جا سکے ۔