گائو کشی بل کے واپس لینے پر بی جے پی کا زبردست احتجاج

06:24PM Sun 1 Sep, 2013

گائو کشی بل کے واپس لینے پر بی جے پی کا زبردست احتجاج گلبرگہ۔ 31؍ اگست (بھٹکلیس نیوز) سابقہ بی جے پی حکومت کی جانب سے منظور شداہ بل گائو کشی پر پابندی بل کو واپس لینے کے خلاف آج یہاں گلبرگہ میں بی جے پی کے جانب سے زبردست احتجاج کیا گیا۔اس موقع پر بڑے پیمانے پر ریالی بھی منعقد کی گئی جس کا آغازتماپوری سرکل سے ہوا اور منی ودھان سودھا پہنچھ کراختتام پزیر کو پہنچا۔اور اسکے علاوہ راستہ روکو احتجاج بھی کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر گلبرگہ کو ریاستی گورنرکے نام یادداشت پیش کی گئی جس میں2010 اور 2012 میں کرناٹک اسمبلی وکرناٹک قانون ساز کونسل میں منظور کئے گئے ترمیمی بل کو لاگو کرنے کا پر زور مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس ترمیمی بل میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی عائد کرتے ہوئے اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر ناقابل ضمانت وارنٹ کی اجرائی اور 7 سال تک سزا کی تجویز کی گئی ہے۔ ریاستی گورنر ایچ آر بھردوراج نے اس بل کو روک رکھا تھا۔ چیف منسٹر سدا رامیا نے اس بل کو واپس لیتے ہوئے 1964 کے گائے ذبیحہ اور تحفظ مویشی ایکٹ کو بحال کردیا ہے۔ کانگریس نے گائے کے ذبیحہ پر پابندی کے بل کو واپس لینے کا انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا۔ منی ودھان سودھا گلبرگہ میں مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے بی جے پی قائدین نے کانگریس پرووٹ بینک کی سیاست کرنے اور مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے بی جے پی حکومت کے مذکورہ ترمیمی بل کو واپس لینے کا الزام عائد کیا۔ بی جے پی قائدین نے ریاست کی کانگریس آئی حکومت کے اس اقدام کو ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچانے‘ ماحولیاتی آلودگی کے تحفظ کے لئے کام کر رہے جہد کاروں کی کاوشوں اور کسانوں کے مفادات پر کاری ضرب قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر سدا رامیا ایک جانب دودھ کی پیدا وار میں اضافہ کے لئے مختلف اسکیمات کا اعلان کر رہے ہیں اور دوسری جانب گائے کے ذبیحہ پر پابندی کے قانون کو واپس لیتے ہوئے گائے کی نسل کشی کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ گائے اور بیلوں کی نسل کشی سے کسانوں کو کھاد کی قلت اور دودھ کی پیداوار سے ہونے والے آمدنی متاثر ہوتھی ہیں۔ منادر کی ایڈ منسٹریٹیو کمیٹیاں تحلیل کرنے کے ریاست کی کانگریس آئی حکومت کے اقدام کے خلاف بھی بی جے پی قائدین نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں حکم التواء حاصل ہونے کے باوجود کانگریس آئی حکومت منادر کی انتظامی کمیٹیوں کی تحلیل کے فیصلہ پر قائم ہے۔ یادداشت میں انتباہ دیا گیا ہے کہ اگر چیف منسٹر سدا رامیا بی جے پی حکومت کے گائے کے ذبیحہ پر پابندی بل کو لاگو کرنے کے لئے اسے دوبارہ گورنر کے پاس نہیں بھیجتے ہیں اور منادر کی انتظامی کمیٹیاں تحلیل کرنے کا فیصلہ واپس نہیں لیتے ہیں تو بی جے پی حکومت کے خلاف موثر ریاست گیرایجی ٹیشن کرے گی۔ ریوناٹک بیلگی سابق ریاست وزیر اروناپاٹل ریور سابق رکن اسمبلی گلبرگہ جنوب‘ دتاتریا پاٹل اپوگوڑہ رکن اسمبلی گلبرگہ جنوب‘ راجکمار پاٹل تیلکور صدر ضلع دہی بی جے پی‘ ودیا ساگر شاہ آبادی‘ صدر سٹی بی جے پی بی جی پاٹل کے علاوہ بی جے پی قائدین وکارکنان کی کثیر تعداد نے احتجاج میں حصہ لیا۔