عازمین حج بیت اللہ ارکان اور مسائل کو سیکھ کر حج پر جائیں:مولانا محمد شائق ندوی

02:55PM Wed 2 Aug, 2017

بی ای ٹی تعلیمی ادارے بسم اللہ نگر میں حج و قربانی پی پی ٹی کا شاندار انعقاد بنگلور:(بھٹکلیس نیوز)اس روئے زمین پر سب سے پہلے اللہ کا گھر تعمیر کیا گیا اور اسی گھر کو ساری انسانیت کے لئے ایک روحانی مرکزاور ہدایت کا سر چشمہ قرار دیا گیا جسے بیت اللہ اور کعبہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے،حج اور مقامات حج کی یادیں اسی بلد امین سے وابستہ ہیں جناب مولانا محمد شائق ندوی نے بی ای ٹی تعلیمی ادارے بسم اللہ نگر بنگلور میں حج اور ارکان حج کی ادائیگی سے متعلق ایک پاور پوائنٹ پرزینٹیشن دکھاتے وقت ان حقائق کا اظہار فرمایا آپ نے اس پی پی ٹی میں کائنات کی تخلیق اور تاریخ بیت اللہ، دونوں قبلے اور مسجد نبوی کی تعمیر و تاریخ ریاض الجنۃ کی تاریخ اور روضۃ النبی ﷺ سے متعلق نادر و نایاب معلومات فراہم کیں ساتھ ہی یہ فرمایا کہ عازمین حج بیت اللہ سفر حج پر روانہ ہونے سے پہلے حج کے ارکان اور مسائل کو سیکھ کر جائیں تا کہ صحیح طور پر وہ حج ادا کر سکیں ،جناب محمد سیف اللہ صاحب استقبالیہ کلمات میں اس طرف توجہ دلائی کہ ہمارے اس ادارہ کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ یہاں خطبات رمضان کی طرح اس بار خطبات حج و قربانی ایک پی پی ٹی شکل میں دکھایا جارہا ہے اس سے کم وقت میں بے شمار تاریخی معلومات فراہم ہوتی ہیں۔جناب کریم الدین صاحب سکریٹری بسم اللہ ایجو کیشنل ٹرسٹ نے اپنے تاثرات میں بتایا کہ میں نے متعدد سال سعودی میں گزارے ہیں اور کئی حج و عمرہ کی بھی سعادت ملی ہے مگر اتنی گہرائی اور حج و مقامات حج سے متعلق نادر معلومات اور قربانی و اراکان سے متعلق اہم مسائل پہلی بار ہم نے سنے ہیں جناب عبد الجبار صاحب WC بسم اللہ ایجو کیشنل ٹرسٹ نے اختتامی کلمات میں کہا کہ اگر آدمی پچاس بار بھی حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کر لے مگر مولانا نے جتنی گہرائی کے ساتھ مستند تاریخی حقائق و معلومات فراہم کی ہیں وہ عموما معلوم نہیں ہو پاتے ایام حج میں عموما لوگ دیکھا دیکھی عمل کرتے ہیں۔حج ایک اہم رکن ہے اسے سیکھ کر ادا کرنا چاہئے۔مزید آپ نے کہا کہ جب بھی ایک مسلمان مقدس مقامات کی تصاویر یا ان سے متعلق کوئی معلومات سنتا ہے تو دل تڑپ اٹھتا ہے اور خیالوں کی دنیا میں گم ہو جاتا ہے گویا جسم یہاں ہے مگر دل دماغ اور روح ان مقدس مقامات کی گویا سیرت کر رہا ہے۔ اس موقع پر بی ای ٹی تعلیمی ادارے کے طلباء و طلبات ،ٹیچرس لیکچررس کے علاوہ جناب جی آر ریاض صاحب خازن ،جناب صابر صاحب کے علاوہ دیگر ذمہ داران موجود تھے۔ تین گھنٹے پر مشتمل اس اجلاس کا اختتام مولانا کی دعا پر ہوا۔