حکومت بنانے کے لئےبی جے پی نے پھر آپریشن کنول شروع کردیا
04:08PM Mon 14 Aug, 2017
بنگلور(بھٹکلیس نیوز ):۔جیسے جیسے اسمبلی انتخابات قریب آرہے ہیں ۔ریاست کی تمام سیاسی پارٹیوں کی سرگرمیاں بھی تیز ہوگئی ہیں اور ہر دن کوئی نہ کوئی اجلاس پروگرام اور ریالیاں نکالی جارہی ہیں۔ بی جے پ کے قومی صدر امیت شاہ اور کانگریس کے نائب صدر راھل گاندھی -12اگست سے سہ روزہ دورے پر کرناٹک کے دورے پر آرہے ہیں اور دونوں لیڈرس ریاست میں پارٹیوں کو مضبوط کرنے اور اسے دوبارہ برسراقتدار لانے کے لئے منصوبہ بندی اور حکمت عملی تیار کی ہے ۔ بی جے پی نے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد اپنا پرانا پلان دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ بی جے پی وزیر برائے ہاؤزنگ ایم کرشنپا اور انکے فرزند ہریا کرشنا افضل پور کے رکن اسمبلی مالکیا گتے وار ۔اراکین اسمبلی ڈاکٹر کے بی مالکا ریڈی۔ سی پی یوگیشور ریاستی اسمبلی کے اسپیکر کے جی کولی واڑ۔وزیر برائے صحت کے آر رمیش کمار۔ رکن اسمبلی سدپاکر ریڈی سمیت لگ بھگ ایک درجن سے زائد اراکین اسمبلی اور کونسل کو خریدنے کا فیصلہ لیا ہے۔ دوسری طرف مقامی بی جے پی لیڈروں نے اس کی مخالفت کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اگر دوسری سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کو شمولیت اختیار کرانے کے بجائے ناراض اوربانی لیڈروں کو ہی منا کر انہیں پارٹی میں لاکر انہیں دوبارہ ٹکٹ دیا جائے۔ کئی لیڈرس مختلف حلقوں میں کافی مشہور ہیں اور ووٹر افراد سے بھی قریبی تعلقات رکھے ہیں کئی لیڈرس ناراض ہوکر کانگریس اور جے ڈی ایس میں چلے گئے ہیں انہیں دوبارہ پارٹی میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔دوسری طرف سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یڈیورپا اور قانون ساز کونسل کے اپوزیشن لیڈر کے ایس ایشورپا کے درمیان تعلقات میں ابھی تک کوئی بہتری نہیں آئی ہے اور ایشورپا اور ان کے طرفداروں کے علاوہ پارٹی کے کئی بڑے لیڈرس بھی یڈی یورپا کو اگلے وزیر اعلیٰ کے اُمیدوار کے طورپر پیش کرنے کے لئے ذہنی طورپر تیار نہیں ہیں۔ یہی یڈی یورپا نے رشوت خوری اور بدعنوانیوں کی وجہ سے جیل جاکر اور انہیں پارٹی سے ہٹائے جانے پرانہوں نے الگ کے جے پی کی بنیاد ڈالی اور بی جے پی میں پھوٹ ڈالکر کئی لیڈروں کو اپنی طرف کھینچ لیا تھا اور صرف چھ اراکین اسمبلی کامیاب ہوئے تھے۔ دوسری طرف سابق وزیر ہڑتال ہالپا پر عصمت دری کا معاملہ چل رہا ہے اور -17 اگست کو عدالت کا فیصلہ ہونے والا ہے اگر ہالپا کو سزا ملی تو پارٹی کی امیج پر سخت اثر پڑسکتا ہے ۔دوسری طرف ریاستی حکو مت نے یڈی یورپا کے خلاف زیر التواء مقدموں کو سپریم کورٹ کو چیلنج کیا ہے۔ اس تعلق سے بی جے پی ضرورت سے زیادہ پریشان ہے ۔امیت شاہ نئی حکمت عملی کے ساتھ سہ روزہ دورے پر آرہے ہیں گجرات اسمبلی سے راجیہ سبھا کی تین سیٹوں کے لئے ہوئے انتخابات میں کانگریس کی ایک سیٹ حاصل ہونے پر امیت شاہ بہت مایوس اور ناراض ہیں۔ وہ کانگریس کے اُمیدوار احمد پٹیل کو ہرانے کے مقصد سے کانگریس کے آٹھ اراکین اسمبلی کو خریدنے میں کامیاب رہے تھے۔ کئی لاکھ کوششوں کے باوجود احمد پٹیل کامیاب ہوگئے۔ ایک طرح سے امیت شاہ اور وزیر اعظم نریندرمودی کوکافی مایوسی ہوئی ہے اور احمد پٹیل کی کامیابی پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے ۔دوسری طرف احمدپٹیل کی کامیابی سے کانگریس کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اورایک نئی جان آئی ہے۔