ڈاکٹر پرمیشور کے بیان سے جے ڈی ایس کے باغی اراکین اسمبلی کو پریشانی

03:15PM Sun 20 Aug, 2017

بنگلور ( بھٹکلیس نیوز ):۔ پردیش کانگریس کے صدر ڈاکٹر جی پرمیشور کے بیان سے جے ڈی ایس کے سات اراکین اسمبلی کو ذہنی طورپر پریشانی ہونے لگی ہے اور اپنے مستقبل کو لیکر کشمکش کا شکار ہیں۔ پرمیشور نے ٹمکور میں نامہ نگاروں کوبتایا کہ سات باغی اراکین اسمبلی نے کسی شرط کے بغیر کانگریس میں شامل ہونے کا ارادہ کیا ہے اور انہیں پارٹی سے ٹکٹ دئے جانے کے تعلق سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے اور ان سات اراکین اسمبلی نے ان کے حلقوں کے ذریعہ سے ہی ٹکٹ دینے کی مانگ کی ہے لیکن ان حلقوں میں پہلے سے ہی کانگریس کے کئی اُمیدوار کئی سالوں سے اپنا مقام بنانے کے لئے محنت کررہے ہیں اور کروڑوں روپےئے خرچ کرکے کئی سماجی خدمات کو انجام دیاہے ۔بھیم نائک۔ اقبال انصاری۔ اکھنڈا سرینواس مورتی اور ضمیر احمد خان کو ان کے حلقوں سے ٹکٹ ملنا بہت مشکل ہے ۔کانگریس کے سینئر لیڈر ملیکارجن کھرگے نے ان سات اراکین اسمبلی کو پارٹی میں شامل کئے جانے کی مخالفت کی ہے اور کھرگے کو منانے کی کوشش کی جائے گی۔کھرگے پارٹی کے سینئر لیڈر ہیں اور ان کے احکامات پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان سات باغی اراکین کو ٹکٹ دئے جانے کے تعلق سے ابھی کوئی قطعی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور آخری فیصلہ اسمبلی انتخابات کے قریب ہوگا۔ ان سات اراکین اسمبلی کی شمولیت سے کانگریس کوضرور فائدہ ہوا ہے ۔سال 2013 میں ہوئے اسمبلی انتخابات کا سامنا کئے کانگریس کے اُمیدوارو سے بھی مشورے حاصل کئے جائیں گے۔ اقبال انصاری نے پہلے کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی اور دوبارہ جے ڈی ایس میں لوٹ گئے اور اس پارٹی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی اور اب پھر کانگریس میں شامل ہونے کا فیصلہ لیا ہے۔