سی اے اے مظاہرہ: ’یہ لو آزادی‘ کہتے ہوئے شرپسند شخص نے چلائی گولی، طالب علم شاداب زخمی

01:56PM Thu 30 Jan, 2020

شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے پورے ملک میں جاری ہیں اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا بھی گزشتہ ایک مہینے سے یونیورسٹی کیمپس کے باہر پرامن مظاہرہ کر رہے ہیں۔ 30 جنوری کو جب یہ مظاہرہ یونیورسٹی احاطہ کے باہر پرامن طریقے سے جاری تھا تو ایک شرپسند شخص نے اچانک کٹّا لہرانا شروع کر دیا درجنوں پولس اہلکار کی موجودگی میں بے خوف انداز میں گولی چلا کر ایک طالب علم کو زخمی کر دیا۔ زخمی طالب علم اس وقت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قریب ہولی فیملی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
 میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق زخمی کا نام شاداب ہے اور وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ماس کمیونکیشن کا طالب علم ہے۔ میڈیا میں آ رہی خبروں کے مطابق گولی چلانے والے کی بھی شناخت ہو چکی ہے اور اس کا نام گوپال ہے جسے پولس نے گرفتار کر لیا ہے۔ پولس نے اس سلسلے میں زیادہ جانکاری میڈیا کو نہیں دی ہے اور صرف اتنا کہا ہے کہ اسے گرفتار کر لیا گیا ہے اور پوچھ تاچھ ہو رہی ہے تاکہ ضروری کارروائی کی جا سکے۔
گولی چلانے والے نوجوان نے اس واقعہ سے قبل جس طرح کی زبان استعمال کی، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہندوتوا ذہنیت کا حامل ہے۔ جو ویڈیو سامنے آیا ہے اس میں ’ہندوستان زندہ باد‘، ’دہلی پولس زندہ باد‘ کا نعرہ لگایا اور پھر ’یہ لو آزادی‘ کہتے ہوئے فائرنگ کر دی۔ وہ لگاتار لوگوں کو دھمکی دیتا ہوا بھی نظر آیا۔ واقعہ پیش آنے کے بعد پولس اسے گرفتار کر کے نیو فرینڈس کالونی تھانہ لے گئی ہے۔