انسانی اقدار کی بنیاد پر اصلاح معاشرہ کا قیام ممکن ۔مولانا خالد ندوی

06:01AM Sun 28 Dec, 2014

بھٹکلیس نیوز،28دسمبر،14

صد سالہ جشن کے تیسرے دن کے چوتھے سیشن کی رپورٹ

بھٹکل(رپورٹ:عبدالحفیظ خان و تصاویر رضوان گنگاولی)آج امت کے اندر صلاحیت جوش و جذبہ کی کمی نہیں ،ہمارا معاشرہ ترقی کے منازلوں کی طرف بڑھ سکتاہے ،اسکے لئے ہمیں ہمارے اندر کی رشہ کسیوں کو ختم کرنا ہو گا ، آپسی عداوت ،منافرت ،ایک دوسرے کی صلاحیتوں کی قدر نہیں کی جارہی ہے ،ایک دوسرے کو آگے بڑھنے سے روکا جا رہا ہے  معاشرہ کے اندر جو ان سب چیزوں کا استحصال ہو رہا ہے اسکو ختم کرنا ہو گا ان خیالات کا اظہا ر حضرت مولانا خالد ندوی غازیپوری ،(سابق استاد جامعہ اسلامیہ و استاد دارلعلوم ندوۃ العلماء،لکھنو ) نے تنظیم صد سالہ جشن کے اصلاح معاشرہ کے جلسہ میں اصلاح معاشرہ کے عنوان پر خطاب کر تے ہوئے کہا مولانانے اپنی تقریر میں زمانہ جاہلیت کے حالات اور حضرت محمدﷺکی بعثت کے بعد آپ نے صحابہ کی تربیت کرتے ہو ئے ایک صالح معاشرہ وجود میں لایا جس میں انصار و مہاجرین نے جس سے اخوت ،مودت ایثار کی جو مثال قائم کر کے دکھایا اس کو اپنانے کی سخت ضرورت ہے ،مزید فر مایا جو معاشرہ اُس زمانے میں پیدا ہو اتھا آج کیوں نہیں ہو سکتا ، دنیا کے اندر فراعنہ کی کمی نہیں ہے ہر دور میں فرعون الگ الگ شکلوں میں ظاہر ہو تے رہیں ھے لیکن اسکے لئے ایمانی طاقت سے مقابلہ کرناہوگا۔ مولانا ولی رحمانی مونگیری صاحب نے اس موقع پر عوام سے خطاب کرتے ہو ئے فر مایا اصلاح معاشرہ کے وجود کے لئے دور نبوت کی مثال سے بڑھ کر کو ئی مثال نہیں ہو سکتی ، جس میں اٹھنے بیٹھنے ،آپسی رنجشیوں کو کس طرح ختم کیا اس کا حل ہم انداز نبوی سے سبق حاصل کرسکتے ہیں ،ہمیں اس بات کا خطرہ رہتا ہے کہ دوسرا ہمارے بارے میں کیا سوچ رہا ہے ،اس طرح کی غلط فہمیوں میں مبتلا ہو تے ہیں ، جسکی وجہ سے ہماری بنیادوں میں فرق آجا تا ہے ،ہمیں کمیوں سے نیکیوں کی طرف بڑھنا ہو گا غلطا بات کو چھوڑنا ہو گا ۔اس سے قبل مولا نا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی (قاضی خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل )نے خطاب میں کہا اصلاح معاشرہ سے قبل فرد سےاصلاح ہو ،اپنی ذات سے اسکی ابتداء،اپنے گھر سے،اپنے خاندان سےہو، اسی سے معاشرہ کی اصلاح  کی ہوتی ہے ،آدمی اپنی بات کو اپنے مطلب کے لئے استعمال نہ کریں ،  جہاں اپنافائدہ ہو  جھوٹ بولے ، اسکے لئے  اپی زبان پر کنٹرول کرنا سیکھے ، آج معاشرہ میں کئی واقعات زبان پر کنٹرول پر نہ ہو نے کی وجہ سے ہو رہے ہیں ، چاہے وہ معاملات ہو ، طلاق،خلع،ساس بہو کے جھگڑے جس سے معاشرہ ٹوٹتاجارہا ہے، آخر میں حدیث نبوی سے زبان پر قابو کرنے سے کیا فائدے ہیں اسکی وضاحت کرتے ہو ئے زبان پر قابو کرنے کی تاکید کی ۔مولانا عبدالباری صاحب (مہتتم جامعہ اسلامیہ بھٹکل )نے آج امت مسلمہ پر جو مصائب کے انبار ٹوڑے جارہے ہیں جسکا اندازہ مشاہدہ ہم اپنی آنکھوں سے کرتےہیں اور ہمیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ہم حق پر ہونے کے باوجود ہم پر ظلم ہو رہا ہے ،جبکہ ہم صداقت ،عدالت پر ہو نے کے باوجود ہمارا یہ حال ہے ،فرق یہ ہے کہ ہم نے حقیقت کو بھلادیا اور ہماری صفات کو انھوں نے اپنایا جسکی وجہ سے وہ بلند ہو تے جا رہے ہیں ، ہم ایک دوسرے کو دھوکہ دینے میں فخر سمجھتے ہیں ، ہمارے اندار کسی کام کی پابندی نہیں ہو تی ،ان سب چیزوں کو اپنایا ،اسکے لئے ہمیں خود کو بدلنے کی ضرورت ہے ، اللہ کے بتا ئے ہوئے طریقے پر چلنے کی ضرورت ہے، اس لئے کہ اسلام بلند ہو نے کے لئے آیا اور بلند ہو گا ،باطل مٹنے آیا ہے اور مٹ کر رہےگا ۔جلسہ کاآغاز تلاوت کلام پاک سے ہو ا،مہمانوں کا تعارف واستبقبال مولاناانصار ندوی مدنی (استاد جامعہ اسلامیہ )نے کیا ، اس پروگرام کی خاص بات یہ رہی کہ مجلس اصلاح و تنظیم میں 42سال سے خدمات انجام دے رہے جناب جعفر جبار صاحب کو انکی خدمات پر تنظیم کی طرف سے اعزازس ے نوازاگیا ، انکی ا س خدمات پر بھٹکلیس ڈاٹ کام کی طرف سے مبارکباد پیش کی جا تی ہے ۔

ع،ح۔خ