یومِ آزادی تقریب کے دوران درخت گرنے سے زخمی ہونے والے طالبِ علم کے علاج کیلئے مالی مدد درکار

04:02PM Sat 19 Aug, 2017

بنگلور:(بھٹکلیس نیوز( یومِِ آزادی تقریب سے پہلے سری تما ریڈی گورنمنٹ ہائی اسکول سنگاسندرا میں اسکول کی عمارت کے اندر بڑا درخت گر پڑنے کے سبب دو طلباء شدید زخمی ہو گئے تھے او رانکے ہاتھوں کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں اس میں سے ایک بچہ مدد کا مستحق ہے، کیونکہ اسکی ماں سندرما جو اپنے گھر کی دیکھ بھال کیلئے ملازمت کر رہی تھی بچے کے علاج کی خاطر کام چھوڑ دیا ہے جو دو بچے شدید زخمی ہوئے اس میں ایک بچے کا پاؤں فریکچر ہوا ہے اسکے علاوہ 13؍ سالہ لکشمی کانت چھٹویں جماعت بھی زخمی ہے ، ڈاکٹر موہن این ایس کنسلٹنٹ ارتھوپیڈک سرجن پالاکشاہ اسپتال کا کہنا ہے ٹیٹانیم الاسٹک نیل راکیش کی ران میں لگایا گیا گیا جبکہ اس کا بھائی لکشمی کانت کی ایک ہڈی بھی ٹوٹ گئی ہے اسکا پلاسٹر کیا گیا ہے جو ایک ہفتے کے بعد نکال دیا جائیگا ، ان دونو ں بچو ں کو 45؍ دنوں تک مکمل آرام کی ضرورت ہے اور 15؍ دنوں بعد وہ والکر کی مدد سے چل پھر سکیں گے اسکے بعد انہیں فزیوتھراپی کرنے کی ضرورت پڑیگی اور 75دن بعد ہی وہ اپنے طو رپر چل پھر سکیں گے ۔ اسکے علاوہ اگلے چھ ماہ تک وہ کسی بھی اسپورٹس کی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتے ۔ ان بچو ں کے والدین پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اسلئے ہم نے دوائیوں او رٹی ای این کے اخراجات ان سے طلب کر رہے ہیں ۔ جبکہ پوری بِل 1.20لاکھ روپئے ہے ۔ اس میں سے 85000 روپئے کم کر دئے ہیں ، مقامی لیڈرو ں نے مالی تعاون کا وعدہ کیا ہے ، یہ بات ڈاکٹر نے کہی ۔ اس سلسلے میں ان بچو ں کو ماں سندرما کا کہنا ہے کہ جیسے ہی یہ حادثہ پیش آیا اس وقت کئی ایک لوگو ں نے میڈیا کے روبرو وعدہ کیا تھا کہ مالی مدد کریں گے مگر کسی نے بھی اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ۔ جبکہ انہںی لوگوں نے کہا کہ میں اپنا کام چھوڑ کر بچوں کی تیمارداری میں لگ جاؤں ، سندرما سنگاسندرا کی ایک فیکٹری میں ملازمت کر رہی تھی مگر اب اسکے پاس کچھ بھی پیسہ نہیں ہے یہاں تک بچوں کی روٹی او رپھل کیلئے پیسے نہیں ہیں اس نے ساول کیا کہ ایسے میں اسپتال کی بِلء کیسے ادا کروں ۔جبکہ بچو ں کو اگلے 75؍ دنوں تک انکی دیکھ بھال کرنی ہے ۔عوام سمجھ سکتے ہیں کہ میں کن حالات سے دوچار ہو ں، اگرکوئی ادارہ ایسے موقع پر ہماری مدد کر سکتا ہے تو وہ آگے آئے ۔ اس نے بتایا کہ ہمارا تعلق آندھرا پردیش سے ہے او رمیرا شوہر جسمانی طو رپر کوئی کام کرنے کے لائق بھی نہیں ہے ۔ ہم لوگ الکٹرانک سٹی سے یہاں پر منتقل ہوئے اورماہانہ 4000روپئے کرائے کے حساب سے ایک کمرہ کرائے پر لیا تھا ۔ سندرما نے ہنومے گوڈا کی خدمات کو سراہا جو حادثے کے بعد ان لوگوں کی مدد کر رہا ہے اور وہ شخص بی ایم ڈبلیو شو روم جو اسکول کے قریب ہے وہاں پر ملازمت کرتا ہے ۔ جب بی بی ایم کمشنر ایم منجوناتھ پرساد سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بی بی ایم پی سارے علاج کا خرچ برداشت کریگی اور میں آج ہی تمام افسران کو ہدایات دونگا کہ اسپتال پہنچ کر بل کی رقم ادا کردے۔