غیرملکی تارکین وطن کی لیزنگ جائز ہے:سعودی عالم

04:48PM Tue 1 Sep, 2015

الریاض ۔ (العربیہ)سعودی عرب کے ایک ممتاز عالم دین شیخ عبداللہ المطلک نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے کہ سعودی اسپانسروں کی جانب سے انفرادی طور پر غیرملکی ورکروں کو دوسرے آجروں کے لیے رقوم کے بدلے میں لیز پر رکھنا انسانی اسمگلنگ کے زمرے میں آتا ہے۔البتہ انھوں نے کہا ہے کہ اس طرح کی لیزنگ متعلقہ ورکروں کی منظوری سے ہونی چاہیے۔ شیخ عبداللہ المطلک سعودی عرب کے سینیر علماء کی کونسل کے رکن ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ سعودی شہری دوسرے آجروں کے لیے اپنی اسپانسپرشپ کے تحت غیرملکی تارکین وطن کو لیز پر رکھ سکتے ہیں اور یہ ایک قابل قبول ''کاروبار'' ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ سینیر علماء کی کونسل نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ اسپانسر انفرادی طور پر اپنے غیرملکی ملازمین کو ان کی رضامندی سے دوسرے لوگوں کے ہاں کام کے لیے بھیج سکتے ہیں۔ علامہ عبداللہ المطلک نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اسپانسر اپنے ڈرائیوروں ،خادماؤں ،ٹیکنیشنز ،الیکٹریشنز اور کسی بھی دوسرے ورکر کو رقوم کے بدلے میں کسی بھی دوسرے سعودی کو لیز پر دے سکتے ہیں لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ یہ تارکین وطن دوسرے آجر کے ہاں کام کرنے پر آمادہ ہوں اور انھیں وہی کام کرنا چاہیے جو ان کے ورک پرمٹس میں لکھا ہوا ہے۔ قواعد وضوابط انھوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں بعض کمپنیاں ایسی ہیں جو غیرملکی تارکین وطن کو بھرتی کرتی ہیں۔پھر وہ ان کی خدمات اپنے صارفین کو رقوم کے بدلے میں مہیا کرتی ہیں اور ان کا یہ کاروبار ہے۔ علامہ المطلک نے کہا کہ ''بہت سے لوگ غیرملکی ورکروں کی لیزنگ کو انسانی اسمگلنگ کی ایک شکل قرار دیتے ہیں۔ملازمین کی اس طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ خدمات مستعار دینے کا عمل مکمل طور پر ان کی رضامندی سے ہونا چاہیے اور ان پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جانا چاہیے''۔ انھوں نے مزید کہا کہ ''ورکروں کو صارف آجر کے ہاں کام کے لیے جانے کا معاملہ مکمل طور پر مسترد کرنے کا حق حاصل ہے اور اگر وہ یہ محسوس کریں کہ ان کے ساتھ ناروا سلوک ہورہا ہے تو وہ متعلقہ قانونی حکام سے رجوع کرسکتے ہیں''۔ قانونی کنسلٹینٹ اور وکیل محمد آل درویش نے کہا کہ وزارت محنت کسی تارک وطن کی کسی ایسے آجر کے ہاں ملازمت سے چشم پوشی کرتی ہے جو ایک سمجھوتے کے تحت اس کا اسپانسر نہ ہو۔غیرملکی تارکین وطن کی لیزنگ کا کاروبار کرنے والوں کو ایسا کرنے سے قبل متعلقہ حکام سے لائسنس حاصل کرنا ہوتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وزارت محنت صرف گھریلو اور ٹیکنیکل ورکروں کے لیے ایسا کرنے کی اجازت دیتی ہے۔اگر افراد کے پاس لائسنس نہ ہو تو وہ ایسا نہیں کرسکتے ہیں۔ دوسری صورت میں ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہوسکتی ہے۔ وزارت محنت کے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ وزارت کی ویب سائٹ پر اجیر کے نام سے ایک ای پورٹل ہے۔اس پر تارکین وطن اور ان کے اسپانسروں کے درمیان تمام معاہدوں اور لین دین کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے اور ان کی تفصیل کے بارے میں جان کاری کی جاسکتی ہے۔