ملی کونسل نے سیکولر قوتوں کو متحد ہونے کی ترغیب دی

04:21PM Wed 26 Apr, 2017

نئی دہلی۔(بھٹکلیس نیوز) آل انڈیا ملی کونسل نے شمالی، جنوبی اور مشرقی دہلی کے تینوں میونسپل کارپوریشن کے نتائج پر اپنی گہری سنجیدگی اور بے اطمینانی کا اظہار کیا ہے۔ کونسل سے جاری اخباری بیان میں جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہا ہے کہ جمہوریت میں امیدواروں اور رائے دہندگان کے درمیان رشتوں اور قدروں کی اہمیت ہوتی ہے، کون سا امیدوار متعلقہ حلقہ جات میں عوام کے لیے ممکنہ کیا خدمات انجام دے گا، ان پر ہی فیصلہ کا انحصار ہوتا ہے، مگر، موجودہ نتائج اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ سیکولر قدروں اور جمہوریت کی دہائی دینے والی سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مفادات کے ساتھ آپس میں ٹکرا رہی تھی، جس کا نقصان کانگریس، عام آدمی پارٹی اور دیگر جماعتوں کو بھی ہوا ہے۔ جنرل سکریٹری کونسل نے آگے کہا کہ جس طرح مجموعی 270 میونسپل وارڈوں کے انتخابی نتائج آئے ہیں، ان میں بی جے پی کو 180، عام آدمی کو 45 اور کانگریس کو 35 نشستیں حاصل ہوئی ہیں اور دیگر 10 نشستیں دیگر علاقائی پارٹیوں وآزاد امیدواروں کے حق میں گئی ہیں، ان سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جب تک کہ سیکولر قوتیں منتشر رہیں گی، ان کا یہی حشر ہو گا، جب سیکولر پارٹیاں متحد نہیں ہوں گی، بلدیاتی اور پنچایتی سطحوں پر بھی اسی انداز کے نتائج آئیں گے۔ جنرل سکریٹری کونسل نے سیکولر قوتوں کو ہوش کے ناخن لینے کی ترغیب دیتے ہوئے ان سے آگے کے لائحۂ عمل بنانے کی جدوجہد کے لیے خبردار کیا ہے۔ جیسا کہ اطلاع ہے کہ شمالی دہلی، جنوبی دہلی اور مشرقی دہلی میں بالترتیب بی جے پی کے حق میں 68، 68 اور 44 نشستیں گئی ہیں جبکہ عام آدمی پارٹی کو بالترتیب 18، 19 اور 08 سیٹیں ہی حاصل ہوئی ہیں جبکہ قومی راجدھانی دہلی میں یہ پارٹی برسراقتدار ہے۔ کانگریس کو بالترتیب تینوں بلدیاتی انتخاب میں 16، 11 اور 08 نشستیں ہی مل سکی ہیں، جس کا کانگریس کو بھی سنجیدگی سے تجزیہ کرنا ہو گا کہ آخر اس کا بنیادی ووٹ بینک کدھر چلا گیا؟ اس موقع پر آل انڈیا ملی کونسل نے ان تمام سیکولر جماعتوں کے سربرآوردہ لیڈران کو دعوت غوروفکر دیتے ہوئے مستقبل کے لیے منظم لائحۂ عمل مرتب کرنے اور سبھی سیکولر قدروں پر یقین رکھنے والوں کو متحد ہونے کی دعوت دی ہے۔