مشرق وسطیٰ میں اسلحے کی فروخت، یورپ کی اپنی تباہی کا سامان
02:40PM Sat 6 Aug, 2016
گو کہ یورپ میں امریکا والا حال نہیں ہے اور ہتھیاروں کے معاملے میں سختی زیادہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اپنے گھر میں نہ سہی لیکن دوسرے ملکوں کو یورپ نے ضرور اس عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے یورپی حکومتوں نے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے گروپوں کو چھوٹے ہتھیاروں کی فراہمی سے ایک ارب یوروز سے زیادہ کمائے ہیں۔
بلقان انویسٹی گیٹو رپورٹنگ نیٹ ورک (برن) اور آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (او سی سی آر پی) نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جو بتاتی ہے کہ 2012ء سے مشرق وسطیٰ میں اسلحہ بیچ کر یورپی اقوام نے کم از کم 1.2 ارب یورز حاصل کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صرف 13 ماہ کے عرصے میں 68 پروازیں اسلحہ اور گولہ بارود لے کر مشرق وسطیٰ پہنچی ہیں۔ یہ اسلحہ شام اور یمن میں ہونے والی تباہ کن جنگ میں استعمال ہو رہا ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ یہ پروازیں گزشتہ چار سالوں سے یورپ اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ہونے والے اسلحے کے معاہدوں کا محض ایک معمولی حصہ ہیں۔
رپورٹ کے نتائج بھیانک ہیں، جو کہتی ہے کہ "اسلحہ برآمد کرنے کے اجازت نامے، جو ممکنہ طور پر ضمانت دیتے ہیں کہ اسلحے کا حتمی مقام کیا ہوگا، اس امر کے باوجود جاری کیے گئے کہ یہ ہتھیار شام اور دیگر علاقوں کے ان مسلح گروپوں کو ملے گا کہ جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظالم میں ملوث ہیں۔
دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے یورپ نے دراصل اس مسئلے کو سمجھا ہی غلط ہے۔ اس سے نمٹنے کا پہلا طریقہ یہ ہے کہ اس میں سرمایہ کاری سے ہاتھ اٹھا لیا جائے۔
اس رپورٹ کا ایک حیران کن پہلو یہ ہے کہ جنگ و جدل سے سب سے زیادہ پیسہ کمانے والے کاروباری ادارے ایسے ملکوں کے ہیں جو عام طور پر جنگ میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ جو ممالک پیش پیش ہیں وہ رپورٹ کے مطابق بوسنیا، بلغاریہ، کروشیا، چیک جمہوریہ، رومانیہ و دیگر ہیں۔
یورپی ممالک کی جانب سے مشرق وسطیٰ کی شہری زندگی کو تباہ کرکے اربوں ڈالرز کمانے کا نظروں کو خیرہ کر دینے والا مسئلہ بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے پایا کہ برطانیہ امریکا کے بعد اسلحے کی فروخت میں دوسرے نمبر پر ہے، جو 2014ء میں فروخت ہونے والے 401 ارب ڈالرز کے اسلحے کے 10.4 فیصد پر مشتمل ہے۔ برطانیہ کی جانب سے اربوں ڈالرز کی اسلحہ فروخت یمن میں تنازع کو ہوا دے رہی ہے جو پور ے عرب خطے کا سب سے غریب ملک ہے۔
جب یہی گروپ یورپ میں حملے کرکے دہشت پھیلاتے ہیں تو خوب واویلا ہوتا ہے۔ لیکن سوچنے کی بات ہے کہ اسلحہ بیچنے والے بھی تو یہی ہیں۔