کانکنی کے لائسنسوں کی تجدید قانونی ہے:سدرامیا
12:32PM Sat 21 Feb, 2015
بھٹکلیس نیوز/21فروری ،15
شیموگہ کے فرقہ وارانہ فسادات بد بختا نہ ہیں :وزر اعلی
بنگلورو(ایجنسی) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے واضح کیا ہے کہ ریاستی حکومت کو یہ اختیار ہے کہ کانکنی کے لائسنسوں کی تجدید کے متعلق فیصلہ کرسکے۔ اس فیصلے کو اپناتے وقت ریاستی حکومت نے تمام قانونی تقاضوں کی تکمیل کا خیال رکھا ہے، اور اس میں کسی کانکنی لابی کے آگے جھکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ کل ننجنگڈھ میں ایک سرکاری تقریب میں شرکت کیلئے روانگی سے قبل میسور میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کانکنی لائسنسوں کی تجدید مکمل طور پر قانونی دائرہ میں رہ کر کی گئی ہے۔اس طرح کی تجدید حکومت کے اختیار میں ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے لگائے گئے الزامات بعید از حقیقت ہیں۔ ریاست میں اپوزیشن پارٹیوں کو حکومت پر الزام لگانے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہے۔ ایک بار پھر وہ یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ لائسنسوں کی تجدید کے مرحلے میں حکومت کسی لابی کے آگے نہیں جھکی ہے۔ شیموگہ میں فرقہ وارانہ فساد کو بدبختانہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دراصل یہ فرقہ وارانہ ٹکراؤ شیموگہ ٹاؤن میں نہیں بلکہ وہاں سے دس کلومیٹر دور ہوا ہے، پولیس نے صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام ضروری قدم اٹھائے گئے ہیں۔ فساد سے متاثرہ علاقہ میں دفعہ144 نافذ ہے۔ عوام کو مشتعل کرنے میں جو لوگ ملوث ہیں، ان لوگوں پر سخت کارروائی کرنے اور سماج میں اس طرح کے واقعات سے جو خوف ہے اسے دور کرنے کیلئے ضروری قدم اٹھانے پولیس کو ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سماج میں انتشار پیدا کرنے کے مقصد سے جو عناصر بھی حالات کو بگاڑنے کی کوشش کریں گے، ان کے ساتھ حکومت ہرگزنرمی نہیں برتے گی۔کیونکہ ان لوگوں کی حرکتوں کا خمیازہ بے قصور لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے 7 اپریل سے شروع کی جارہی پسماندہ طبقات کی مردم شماری کے متعلق وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس مردم شماری کا مقصد صرف یہی ہے کہ ریاست کے تمام پسماندہ طبقات کے ساتھ انصاف ہوسکے۔ اس مردم شماری کے پیچھے کوئی سیاسی مقصد کارفرما نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ سماجی انصاف کو عام کرنے کیلئے حکومت کی طرف سے جو مہم شروع کی جارہی ہے اس کو کسی بھی حلقہ سے بدنام کرنے کی کوئی کوشش کی گئی تو اسے قطعاً برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مرکزی حکومت کی طرف سے غریب عوام کو دئے جانے والے راشن کی مقدار میں کٹوتی کو عوام دشمن قدم قرار دیتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ ریاستی حکومت نے سماج کے تمام طبقات کی فلاح وبہبود کیلئے کئی انوکھی اسکیموں کا نفاذ کیا ہے۔ مرکزی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس سلسلے میں ریاستی حکومت کو بھرپور تعاون کرے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایاکہ آنے والے بجٹ میں ریاست کے تمام شعبہ جات بشمول زراعت ، آبپاشی ، صحت ، سماجی بہبود ، بنیادی وثانونی تعلیم وغیرہ پر خاص توجہ دی جائے گی۔ بی ڈی اے میں فائلوں کے غائب ہوجانے کے متعلق ایک سوال پر سدرامیا نے کہاکہ اب تک انہیں اس سلسلے میں اطلاع نہیں ملی ہے، تفصیلات معلوم کرنے کے بعد جو بھی خاطی ہے اس پر کارروائی کی جائے گی۔ ریاست بھر میں نئے ٹرک ٹرمینل قائم کرنے کے مطالبات پر وزیر اعلیٰ نے کہاکہ بجٹ کی ترتیب کے مرحلے میں اس پر غور کیا جائے گا۔ اس موقع پر سدرامیا کے ہمراہ وزراء، ایچ سی مہادیوپا ، ایچ ایس مہا دیو پرساد ، آنجنیا ، میسور کے میئر لنگپا وغیرہ موجود تھے۔
ع،ح،خ