شمالی کنڑا میں فرقہ پرست طاقتیں انتخابات سے قبل امن وامان میں خلل ڈالنے کے درپے ہیں۔ رام لنگاریڈی
05:01AM Fri 15 Dec, 2017
بھٹکلیس نیوز بیورو ؍ 14 دسمبر،2017
بنگلور۔ (ذرائع)ضلع شمالی کنڑا میں گزشتہ ایک ہفتہ سے وقفہ وقفہ سے ہورہے تشدد کے بعد بدھ کو حالات معمول پر لوٹ رہے تھے کہ جمعرات کے روز ایک طالبہ پر حملہ کی خبر کے بعد پھر حالات بگڑ گئے اور چند شرپسندوں نے اس کا فائدہ اٹھاکر تشدد بھڑکانے کی کوشش کی ۔اس دوران ریاستی وزیر داخلہ رام لنگاریڈی نے یہاں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کو مدنظر رکھ کر فرقہ پرست جماعتیں ریاست میں امن وامان اور نظم وضبط میں خلل پیدا کرنے کی جو کوشش کرنے لگی ہیں ان کوششوں کو پوری طرح ناکام کرنے کے لئے اعلیٰ پولیس افسران کو سخت ہدایت دی گئی ہے۔ ریاست میں فرقہ وارانہ ماحول کو خراب کرنے کی فرقہ پرست طاقتوں کی جانب سے جوکوششیں ہورہی ہیں اس کو مدنظر رکھ کر احتیاطی اقدام کے طورپر وزیر داخلہ نے آج اعلیٰ پولیس افسران کے ساتھ ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ اجلاس کے بعد اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ریاست میں فرقہ وارانہ فسادات کے ماحول کو ختم کرنے اور شرپسندعناصر پر کڑی نظر رکھنے سے متعلق انہوں نے اعلیٰ پولیس افسران کے ساتھ تبادلہ خیال کیاہے۔ انہوں نے بتایا کہ شمالی کنڑا، جنوبی کنڑا، اضلاع سمیت حساس علاقوں میں احتیاطی اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق اجلاس کے دوران پولیس کے تمام اعلیٰ افسران نے حکومت کو کئی طرح کی تجاویز اور مشورے پیش کئے ہیں۔ ان کو سنجیدگی سے لے کر ایک حکمت عملی تیار کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں خصوصی طورپر ساحلی علاقوں اور میسور میں فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی فرقہ پرست طاقتوں سے کوششیں ہورہی ہیں۔ گزشتہ 2ماہ سے اس طرح کی کئی وارداتیں ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ریاست میں عوام کی سلامتی اور عوام کی جانب سے حکومت پر اعتماد برقرار رکھنے کے لئے ریاستی آئی جی ،ڈی جی پی ،نیلامنی ایس ،راجو، اڈیشنل ڈی جی پی(نظم وضبط) کمل پنت، انٹلی جنس کے ڈی جی پی اشیت کمار موہن، شہر کے پولیس کمشنر ٹی سنیل کمار کے علاوہ ساتوں رنجیوں کے انسپکٹر جنرل ؤف پولیس تمام اضلاع کے سپرنٹنڈنٹس آف پولیس سے بھی انہوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ مذکورہ پولیس افسران کو امن وامان اور نظم وضبط کو برقرار رکھنے کے لئے سخت تاکید کی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ساحلی علاقوں سمیت دیگر مقامات پر فرقہ پرست جماعتیں تشدد برپا کرکے ریاستی حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور اس کی معاون پارٹیوں کو کچھ بھی حاصل نہ ہونے پر مجبور ہوکر نوجوان کی موت کو لے کر ہر دن ایک ضلع اوردوسرے دن تعلقہ کا انتخاب کرکے بند کے ذریعہ ماحول کو مکدر کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ حکومت نے نوجوان پریش میتا کی موت کی جانچ کی ذمہ داری سی بی آئی کے حوالے کی ہے۔ لیکن بی جے پی اس قتل کے معاملہ کے ذمہ دار ملزمین کی گرفتاری کی مانگ کررہے ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی کو پہلے جانچ کرنی ہوگی اس کے بعد ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائے جائے گی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ بی جے پی کو آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں شکست کا خوف ابھی سے ہونے لگا ہے۔ اسی لئے وہ ریاست میں تشدد کا ماحول پیداکرنے کی کوشش کررہی ہے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ سائبر پولیس اہلکاروں کو خصوصی تربیت دینے کا فیصلہ کیاگیاہے۔ گجرات اور ہماچل پردیش کے اسمبلی انتخابات میں جو انتخابی سروے بی جے پی کے حق میں بتایاجارہاہے کہ اس پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ چند انتخابی سروے غلط بھی ثابت ہوسکتے ہیں اور قومی میڈیا ان سروے میں غلط ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان راست مقابلہ ہے۔ نتائج کس کے حق میں ظاہر ہوں گے اس کا انتظار کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ گجرات کے انتخابی نتائج کا ریاست کی سیاست پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔