جمعیت الحفاظ کی طرف سے حفظ قرآن مسابقہ کا آغاز
01:17PM Thu 30 Mar, 2017
بھٹکلیس نیوز / 30 مارچ، 17
بھٹکل / (رضوان گنگاولی) جمعیت الحفاظ بھٹکل کی جانب سے آج بعد نماز عصر نوائط کالونی تنظیم میدان میں حفظ قرآن کے مسابقہ کا آغاز ہوا۔ مسابقہ کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا جس کے بعد حافظ اصغر نے نعت پاک پیش کی۔ کنوینر اجلاس جناب مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے اجلاس کی غرض و غایت بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت کا قیام حفاظ کے تعلق سے بہت سے مقاصد کے ساتھ ہوا تھا جس میں حفظ کا مسابقہ بھی ایک مقصد تھا۔ انہوں نے اس مسابقہ کی تمام تر تفصیلات پیش کیں اور کہا کہ اس مقابلہ میں کل 38/مساہمین ہیں جن کے درمیان آج اور کل مقابلہ ہوگا اور اس کی اختتامی تقریب انشاء اللہ کل بعد نماز عشاء ہوگی۔
اس موقع پر مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی صاحب نے قرآن کے تعلق سے بہت سی فضیلتیں بیان کرتے ہوئے کہا کہ حفاظ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہوتے ہیں۔ مولانا نے آخر میں حفاظ سے کہا کہ وہ اس قرآن کی قدر کریں اور اس کو جو یاد کیا ہے اسے پکا کریں۔
مہمان خصوصی حضرت مولانا محمد زکریا صاحب ندوی سنبھلی (استاد حدیث دارالعلوم ندوۃ العلما) نے اپنے خیالات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ بہت غیرت مند ہیں اور اس کا دین بھی بڑا غیور ہے جو دین کی قدر کرتا ہے وہ دین اس کے پاس رہتا ہے اور جو دین کی قدر نہیں کرتا دین اس کے پاس نہیں رہتا ۔ مولانا محترم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق سے مخلوق ہونے کے علاوہ کوئی نسبی رشتہ نہیں ہے اس کی مخلوق اس سے اور اس کے دین سے رشتہ رکھتی ہے تو اس کی محبوب ہوتی ہے ورنہ اللہ کی غیرت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اللہ ان لوگوں سے اپنا تعلق ختم کردیتا ہے۔ مولانا زکریا صاحب نے قرآن کو اللہ تعالیٰ سے قریبی تعلق ہونے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ اللہ سے متعلق چیزوں میں قرآن کو ذات خداوندی سے جو تعلق ہے وہ کسی اور کو نہیں ہے اس لئے کہ دنیا کی ہر چیز بلکہ عالم آخرت کی ہر چیز مخلوق ہے لیکن قرآن مجید اللہ کی صفت ہے، اسی لئے قرآن میں وہ غیرت موجود ہے جو ذات خداوندی اور اس کے دین میں ہے اور اس کی کھلی مثال کے لئے اسلامی تاریخ پوری موجود ہے۔
مولانا نے مسلمانوں کی تاریخ دہراتے ہوئے کہا کہ جن مسلمانوں نے قرآن سے تعلق رکھا قرآن مجید ان کے پاس رہا اور جن مسلمانوں نے قرآن مجید سے تعلق نہیں رکھا قرآن کی غیرت کا تقاضا یہ ہوا کہ قرآن ان کے پاس نہیں رہا۔ انہوں نے تفصیل کے ساتھ اس کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ بے شک قرآن کے اولین مخاطب عرب تھے انہوں نے قرآن سے تعلق رکھا اس لئے قرآن ان کے یہاں رہا اور جب سے ان کے درمیان اس سلسلہ میں بے پرواہی ہوگئی تو قرآن نے ان کے یہاں سے کوچ کردیا قرآن وہاں سے سفر کرکے دوسرے علاقوں میں چلا گیا ، اور جب ان لوگوں نے بھی قرآن سے تعلق توڑ لیا تو قرآن نے اپنا قافلہ آگے بڑھا لیا حتی کہ ایک زمانہ میں سندھ کے ایک نو مسلم نے جزیرۃ العرب میں تحفیظ القرآن کے مکاتب قائم کئے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی کتاب کی خدمت کی توفیق دی۔ اللہ نے انہیں قرآن کا خادم بنایا اور ان سے کام لیا۔
مولانا نے ہمارے ملک کی بات کرتے ہوئے کہا کہ یہاں بھی ہندوستان کے نصیب میں قرآن کی خدمت آئی تو شمالی ہندوستان کے لوگ قرآن کے خادم بنے برسوں تک شمالی ہند میں قرآن موجود رہا اور اس زمانہ میں جنوب ہند میں حفظ قرآن کا رواج کم تھا لیکن شمال کے لوگوں نے اس کے ساتھ بے اعتنائی کی تو قرآن نے جنوب ہند کی طرف سفر کیا۔ مولانا نے بھٹکل والوں کے سلسلہ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے لوگوں نے توفیق الٰہی سے اپنے یہاں علمی مراکز قائم کئے حفظ کے مراکز قائم کئے اور اب بھٹکل تحفیظ قرآن کے سلسلہ میں ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جو کہ ہندوستان میں کم ہی ایسی بستیوں کو نصیب ہے۔
مولانا نے آخر میں کہا کہ جب تک آپ کا تعلق قرآن کے ساتھ خادمانہ رہے گا وہ یہاں رہے گا لیکن اگر قرآن کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دی جائے گی تو یہ دوسری جانب سفر کرے گا یہ ہمارے دلوں سے اور ہمارے گھروں اور شہروں سے نکل جائے گا۔
اس موقع پر موجود مسقط سے تشریف فرما عرب مہمان ڈاکٹر عبدالرحیم محمد علی سلطان العلماء عمان نے اپنے خیالات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لئے یہ شرف کی بات ہے کہ ہمیں ایسی مجلس میں شرکت کا موقع مل رہا ہے اور قرآن والے تو اللہ کے خاص ہوتے ہیں، انہوں نے کہا کہ قرآن کی اور اس کے حافظ کی اللہ تعالیٰ خود حفاظت کرتے ہیں۔ موصوف نے قرآن کو برکت والی چیز اور اس کے حافظ کو بہت ہی مبارک شخص قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک بہت بڑی امانت بھی ہے۔ موصوف نے آخر میں جمعیت کو اس اجلاس کے انعقاد پر مبارکباد دی۔
صدارتی خطاب کرتے ہوئے مولانا نعمت اللہ ندوی صاحب نے کہا کہ اصل چیز عمل کی ہے اس لئے یہاں سے جو باتیں سنی جارہی ہیں اس پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے۔ مولانا نے اس پروگرام کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت کا مقصد یہی ہے کہ ہمارے دلوں میں قرآن کی محبت پیدا ہو۔ مولانا نے عوام سے گزارش کی اس پروگرام کو اپنا سمجھیں اور قرآن کی محبت کا ثبوت دیتے ہوئے اس کی تمام مجالس میں شرکت کریں۔
مولانا کے صدارتی خطاب کے بعد زمرہ نمبر 2 کے مساہمین کے مابین مقابلہ کا آغاز ہوا۔
اس موقع پر مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی صاحب نے قرآن کے تعلق سے بہت سی فضیلتیں بیان کرتے ہوئے کہا کہ حفاظ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہوتے ہیں۔ مولانا نے آخر میں حفاظ سے کہا کہ وہ اس قرآن کی قدر کریں اور اس کو جو یاد کیا ہے اسے پکا کریں۔
مہمان خصوصی حضرت مولانا محمد زکریا صاحب ندوی سنبھلی (استاد حدیث دارالعلوم ندوۃ العلما) نے اپنے خیالات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ بہت غیرت مند ہیں اور اس کا دین بھی بڑا غیور ہے جو دین کی قدر کرتا ہے وہ دین اس کے پاس رہتا ہے اور جو دین کی قدر نہیں کرتا دین اس کے پاس نہیں رہتا ۔ مولانا محترم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق سے مخلوق ہونے کے علاوہ کوئی نسبی رشتہ نہیں ہے اس کی مخلوق اس سے اور اس کے دین سے رشتہ رکھتی ہے تو اس کی محبوب ہوتی ہے ورنہ اللہ کی غیرت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اللہ ان لوگوں سے اپنا تعلق ختم کردیتا ہے۔ مولانا زکریا صاحب نے قرآن کو اللہ تعالیٰ سے قریبی تعلق ہونے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ اللہ سے متعلق چیزوں میں قرآن کو ذات خداوندی سے جو تعلق ہے وہ کسی اور کو نہیں ہے اس لئے کہ دنیا کی ہر چیز بلکہ عالم آخرت کی ہر چیز مخلوق ہے لیکن قرآن مجید اللہ کی صفت ہے، اسی لئے قرآن میں وہ غیرت موجود ہے جو ذات خداوندی اور اس کے دین میں ہے اور اس کی کھلی مثال کے لئے اسلامی تاریخ پوری موجود ہے۔
مولانا نے مسلمانوں کی تاریخ دہراتے ہوئے کہا کہ جن مسلمانوں نے قرآن سے تعلق رکھا قرآن مجید ان کے پاس رہا اور جن مسلمانوں نے قرآن مجید سے تعلق نہیں رکھا قرآن کی غیرت کا تقاضا یہ ہوا کہ قرآن ان کے پاس نہیں رہا۔ انہوں نے تفصیل کے ساتھ اس کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ بے شک قرآن کے اولین مخاطب عرب تھے انہوں نے قرآن سے تعلق رکھا اس لئے قرآن ان کے یہاں رہا اور جب سے ان کے درمیان اس سلسلہ میں بے پرواہی ہوگئی تو قرآن نے ان کے یہاں سے کوچ کردیا قرآن وہاں سے سفر کرکے دوسرے علاقوں میں چلا گیا ، اور جب ان لوگوں نے بھی قرآن سے تعلق توڑ لیا تو قرآن نے اپنا قافلہ آگے بڑھا لیا حتی کہ ایک زمانہ میں سندھ کے ایک نو مسلم نے جزیرۃ العرب میں تحفیظ القرآن کے مکاتب قائم کئے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی کتاب کی خدمت کی توفیق دی۔ اللہ نے انہیں قرآن کا خادم بنایا اور ان سے کام لیا۔
مولانا نے ہمارے ملک کی بات کرتے ہوئے کہا کہ یہاں بھی ہندوستان کے نصیب میں قرآن کی خدمت آئی تو شمالی ہندوستان کے لوگ قرآن کے خادم بنے برسوں تک شمالی ہند میں قرآن موجود رہا اور اس زمانہ میں جنوب ہند میں حفظ قرآن کا رواج کم تھا لیکن شمال کے لوگوں نے اس کے ساتھ بے اعتنائی کی تو قرآن نے جنوب ہند کی طرف سفر کیا۔ مولانا نے بھٹکل والوں کے سلسلہ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے لوگوں نے توفیق الٰہی سے اپنے یہاں علمی مراکز قائم کئے حفظ کے مراکز قائم کئے اور اب بھٹکل تحفیظ قرآن کے سلسلہ میں ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جو کہ ہندوستان میں کم ہی ایسی بستیوں کو نصیب ہے۔
مولانا نے آخر میں کہا کہ جب تک آپ کا تعلق قرآن کے ساتھ خادمانہ رہے گا وہ یہاں رہے گا لیکن اگر قرآن کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دی جائے گی تو یہ دوسری جانب سفر کرے گا یہ ہمارے دلوں سے اور ہمارے گھروں اور شہروں سے نکل جائے گا۔
اس موقع پر موجود مسقط سے تشریف فرما عرب مہمان ڈاکٹر عبدالرحیم محمد علی سلطان العلماء عمان نے اپنے خیالات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لئے یہ شرف کی بات ہے کہ ہمیں ایسی مجلس میں شرکت کا موقع مل رہا ہے اور قرآن والے تو اللہ کے خاص ہوتے ہیں، انہوں نے کہا کہ قرآن کی اور اس کے حافظ کی اللہ تعالیٰ خود حفاظت کرتے ہیں۔ موصوف نے قرآن کو برکت والی چیز اور اس کے حافظ کو بہت ہی مبارک شخص قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک بہت بڑی امانت بھی ہے۔ موصوف نے آخر میں جمعیت کو اس اجلاس کے انعقاد پر مبارکباد دی۔
صدارتی خطاب کرتے ہوئے مولانا نعمت اللہ ندوی صاحب نے کہا کہ اصل چیز عمل کی ہے اس لئے یہاں سے جو باتیں سنی جارہی ہیں اس پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے۔ مولانا نے اس پروگرام کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت کا مقصد یہی ہے کہ ہمارے دلوں میں قرآن کی محبت پیدا ہو۔ مولانا نے عوام سے گزارش کی اس پروگرام کو اپنا سمجھیں اور قرآن کی محبت کا ثبوت دیتے ہوئے اس کی تمام مجالس میں شرکت کریں۔
مولانا کے صدارتی خطاب کے بعد زمرہ نمبر 2 کے مساہمین کے مابین مقابلہ کا آغاز ہوا۔