دہشت گردوں کا امت مسلمہ سے کوئی تعلق نہیں ،خطبہ حج
02:06PM Sun 11 Sep, 2016
مسجد الحرام کے امام شیخ صالح بن حمید نے اسلام کو فلاح اور کامیابی کا راستہ بتاتے ہوئے کہا کہ اسلام ایک اعتدال والا دین ہے، جو مسلمانوں کو اعتدال سے زندگی گزارنے کا درس دیتا ہے۔مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے شیخ صالح بن حمید نے مزید کہا کہ مسلم حکمران سن لیں کہ امت سخت حالات سے گزر رہی، جب تک مسلمان مشترکہ طور پر کوشش نہیں کریں گے، مسائل حل نہیں ہوں گئے۔
دنیا بھر کے 200 سے زائد ممالک اور خطوں سے آئے ہوئے 15 لاکھ سے زائد مسلمانوں نے میدان عرفات میں حج کا رکن اعظم یعنی وقوف ادا کیا۔واضح رہے کہ سعودی عرب کے مفتی اعظم مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل شیخ مسلسل 35 سال سے خطبہ حج دے رہے تھے لیکن رواں برس انہوں نے ناسازی طبع کے باعث خطبہ دینے سے معذرت کی تھی، ان کی جگہ مسجد الحرام کے امام شیخ صالح بن حمید نے خطبہ دیا۔
صلاح بن حمید کا خطبے میں مزید کہنا تھا کہ دور حاضر کا سب سے بڑا مسئلہ فسلطین کا ہے، مسجد الاقصی ہمارا قبلہ اول تھا، اس کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے، جبکہ شام میں بھی لوگ مشکلات کا شکار ہیں۔شیخ صالح بن حمید نے عراق، ارکان (برما) اور یمن کے عوام کے مشکلات کم ہونے کی بھی دعا کی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلم حکمرانوں پر بہت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کے مسائل حل کریں۔
امام حرم نے حجاج کو بتایا کہ فساد پھیلانے والوں کو فوری ان کے انجام تک پہنچایا جانا چاہیے، ایک انسان کو قتل کرنے والے نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔اسلام کی عظمت کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ نے مسلمانوں کے لیے دین اسلام منتخب کیا، اس سے سچا کوئی دین نہیں، اسلام وہ مذہب ہے، جس نے لوگوں کو روشن کردیا،اللہ نے جو نعمتیں دی ہیں ان کا حساب قیامت کے دن لیا جائے گا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اللہ کے نافذ کردہ احکامات پر عمل سے دنیا اور آخرت میں کامیابی ملے گی۔ا
اللہ نے مسلمانوں پر یہ ذمہ داری عائد کی ہیکہ وہ زمین پراللہ کا نظام نافذ کریں، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کی زمین پر نفاذ دین کے لیے کام کریں۔دنیا کے تمام مسلمانوں کو ہدایت دیتے ہوئے امام حرم نے کہا کہ دنیا کے مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں، آپس میں اتفاق کی ضرورت ہے، تمام لوگوں کے حقوق مساوی ہیں، مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے، مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں۔قیامت کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا مقررہ وقت پر ختم ہو جائے گی، آخرت ہمیشہ کے لیے ہے، ظلم اور زیادتی کرنے والا قیامت کے دن جوابدہ ہوگا۔
حقوق العباد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ والدین کے ساتھ احسان اور نیکی کرنی چاہیے، سب سے زیادہ حقوق قریبی رشتہ داروں کے ہیں، مسلمان بھائی بھائی ہیں ، ایک دوسرے کے دکھ درد کا احساس ہونا چاہیے۔مسلم اقوام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ میں کوئی بھی کسی کیساتھ ظلم وزیادتی نہ کرے، امت تمام معاملات اپنے ہاتھ میں رکھے، دوسروں کی طرف نہ دیکھے، کیونکہ اسلام لوگوں سے خیرخواہی کا نام ہے، عدل وانصاف اسلام کے سرکا تاج ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمان ایسی کوئی بات نہ کریں جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہو۔عالمی حالات کے تناظر میں امام حرم کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ مختلف مسائل اور تکالیف کا شکار ہے، دہشت گردی کا اسلام اور امت مسلمہ سے کوئی تعلق نہیں۔مسلم ممالک کے میڈیا اور صحافیوں پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحافی اور میڈیا کے لوگ اسلام کا دفاع کریں جبکہ اس کا حقیقی پیغام باقی دنیا کو پہنچائیں۔
علمائے کرام کے معاشرے میں کردار کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو دہشت گردی سے دور رکھنے کے لیے علما کردار ادا کریں، علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو عدم تشدد کی تعلیم دیں، علما سخت مزاجی ترک کریں جبکہ خوش اخلاقی اختیار کریں، لوگوں کے قریب ہوں، لوگوں کو اچھائی کی طرف اچھے طریقے سے بلانا علما کی ذمہ داری ہے۔باہمی اخوت برقرار رکھنے کیلئے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو فرقہ واریت سے دور رہنا چاہیے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا چاہیے۔
انہوں نے سعودی مفتی اعظم عبدالعزیز کے حوالے سے کہا کہ وہ 35 سال سے مسلسل خطبہ حج دے رہے تھے، ان کی طعبیت ناساز ہے، اللہ ان کو صحت دے۔ انہوں نے مسلم امہ کی ترقی و خوشحالی اور سعودی مفتی اعظم عبدالعزیز آل سعود الشیخ کی صحتیابی کیلئے خصوصی دعا فرمائی، امام کعبہ نے دعا کرائی کہ اللہ مسلمان کی عبادات کو قبول فرمائے، اسلام کو عزت عطا فرمائے۔ مسلمانوں کوصحت عطا فرمائے اور وفات پانے والے تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے، اللہ تمام حکمرانوں کو صحیح معنوں میں مسلمانوں کی خدمت کرنیکی توفیق عطا فرما۔
خطبہ حج سننے کے بعد حجاج نے ظہر و عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کی۔عرفات میں دن بھر قیام اور سورج غروب ہونے کے بعد حجاج کرام کی اگلی منزل مزدلفہ ہوتی ہے. جہاں وہ مغرب اور عشاکی نمازیں پڑھتے ہیں جبکہ رات بھر قیام کرتے ہیں۔10 ذوالحج قربانی کا دن ہوتا ہے اور عازمین ایک مرتبہ پھر مزدلفہ سے منی آتے ہیں، جہاں قربانی سے قبل شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔مزدلفہ سے منی کا فاصلہ تقریبا نو کلو میٹر ہے اور یہاں پر عازمین مخصوص مناسک کی ادائیگی کرتے ہیں اور اس کے بعد حجاج کرام مکہ مکرمہ جاکر ایک طوافِ زیارت کرتے ہیں اور منی واپس آجاتے ہیں۔11 اور 12 ذوالحج کو تمام مناسک سے فارغ ہونے کے بعد عازمین ایک مرتبہ پھر مکہ مکرمہ جا کر مسجد الحرم میں الوداعی طواف کرتے ہیں۔