دہلی اردو اکیڈمی کے عارضی ٹیچروں کے سلسلے میں اقلیتی کمیشن نے سسودیا کو لکھا خط
01:50PM Wed 15 Nov, 2017
نئی دہلی : (پریس ریلیز) پچھلے دنوں دہلی اردو اکیڈمی کے عارضی اردو ٹیچروں کے ایک وفد نے دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان سے ملاقات کرکے ان کو میمورنڈم دیا اور ان کے سامنے یہ بات رکھی کہ دہلی اردو اکیڈمی کے( ۹۱) عارضی اردو ٹیچروں میں سے کچھ( ۳۱) سال سے پڑھا رہے ہیں توکچھ کم از کم آٹھ سال سے دہلی کے اسکولوں میں تعلیم دے رہے ہیں لیکن وہ اب بھی ’’عارضی‘‘ ہیں اور ہر سال ان سے نیا کانٹریکٹ کیا جاتا ہے اور انھیں صرف دس ماہ کی تنخواہ دی جاتی ہے۔ ان کو نہ تو پنشن ملتی ہے، نہ ہی ان کا پراویڈنٹ فنڈ میں کوئی حصہ ہے اور نہ ہی ان کو تنخواہ کے ساتھ سالانہ چھٹی ملتی ہے جبکہ ان سے ٹی ڈی ایس ٹیکس پابندی سے کٹتا ہے۔ ان کو نہ تو کوئی طبی سہولیت ملتی ہے اور نہ ہی انھیں ساتویں تنخواہ کمیشن کے مطابق تنخواہ ملتی ہے۔ چھٹے پے کمیشن کے مطابق ان کو آدھی تنخواہ ہائی کورٹ کے سنہ ۲۰۱۰ کے آرڈر سے مل رہی ہے کیونکہ اس وقت وہ پارٹ ٹائم تھے جبکہ سنہ ۲۰۱۱ سے وہ سب فل ٹائم کام کررہے ہیں لیکن تنخواہ ان سب کو اب بھی آدھی ہی ملتی ہے۔ ان کے وسائل ایسے نہیں ہیں کہ دوبارہ ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا ئیں ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اردو اکیڈمی ان کو شناختی کارڈ تک جاری نہیں کرتی ہے جبکہ پنجابی اکیڈمی اپنے اسی طرح کے عارضی ٹیچروں کے لئے شناختی کارڈ جاری کرتی ہے۔ اردو ٹیچروں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اردو اکیڈمی سے نکال کر ان کی پوسٹیں ڈپارٹمنٹ آف ایجوکیشن میں منتقل کردی جائیں اور اتنے لمبے سالوں سے کام کرنے کے بعد اب ان کو مستقل (پرماننٹ) کردیا جائے۔
صدر دہلی اقلیتی کمیشن نے اس سلسلے میں نائب وزیر اعلیٰ دہلی اور وزیر تعلیم منیش سسودیا کو خط لکھ کر ان تمام مطالبات کی تائید کی ہے اور یہ مطالبہ کیا ہے کہ ان ٹیچروں کو مستقل کیا جائے اور ان کو ڈپارٹمنٹ آف ایجوکیشن میں منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ دہلی سرکار کی منظور شدہ( ۶۱۰) اردو ٹیچروں کی خالی آسامیوں میں جذب کرلیا جائے۔ اسی کے ساتھ اقلیتی کمیشن نے سکریٹری دہلی اردو اکیڈمی کو بھی خط لکھ کر ہدایت دی ہے کہ جلد از جلد تمام عارضی اردو ٹیچروں کو شناختی کارڈ جاری کئے جائیں اور کمیشن کو اس کی اطلاع دی جائے۔