بنگلورکے ٹاؤن ہال میں مرحوم مفتی اشرف علی باقوی کی وفات پر جلسۂ تعزیت ورسم اجراء ’’اوج شرف‘‘

02:00PM Mon 18 Sep, 2017

قوم ملت کیلئے تنہائیوں میں تڑپنے والے ایک مخلص کو کھودیا؛ مولانا مغیثی کا خطاب بھٹکلیس نیوز / 18 ستمبر، 17 بنگلورو۔17ستمبر(ذرائع)ریاست کرناٹک کی مؤقر ومحترم شخصیت،رہبر امت ،حکیم الملت امیر شریعت مفتی محمد اشرف علی صاحب ؒ کے وصال کے بعد مسلسل تعزیتی سلسلہ جاری ہے اسی سلسلہ کی اہم کڑی کے طور جامع مسجد ومسلم چاریٹبل فنڈ ٹرسٹ بنگلور اور آئی ایم اے کو نسل بنگلور کی جانب سے شہر کے مرکزی مقام ٹاؤ ن ہال میں ایک تعزیتی اجلاس بعد نماز مغرب منعقد ہوا۔اس اجلاس میں دوردراز کے علاقوں سے بیرون ریاست سے بھی حضرت ؒ کے چاہنے والوں کا بڑا مجمع امنڈآیا ۔ اجلاس کے صدرحضرت مولانا عبد اللہ مغیثی صاحب مہتمم جامعہ گلزار حسینیہ اجراڑہ میرٹھ ،صدر آل انڈیا ملی کونسل نے کہا کہ حضرت والا جہاں ذاتی طور پر بے شمار خوبیوں اورکمالات کے مالک تھے ،وہیں ملی وملکی سطح پر بھی آپ بہت فکر مند اور دوربین نگاہ کے حامل تھے ، ملی کونسل اور مسلم پر سنل لاء بورڈ کے کسی بھی اجلاس میں جب آپ خطاب فرماتے تو صاف ظاہر ہو تا تھا کہ ملک وملت کا کس قدر درد ،تڑپ آپ میں تھی ،ہماری تنہائیوں میں بھی عموماً ملک وملت ہی کے سلسلہ میں گفتگو ہوا کرتی تھی ۔آپ کی رحلت سے قوم نے ملت کے لئے تنہائیوں میں تڑپنے والے ایک مخلص کو کھودیا ہے ۔اب آپ کا بدل تو ممکن ہے ،نعم البدل بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے ،آپ نے اپنے والداور اکابر ین سے جو کچھ سیکھا وہ سب کچھ آپ نے اپنے شاگردوں اور طلبہ میں منتقل کردیا۔ لہٰذا آپ کا بسایا ہوا اور بنایا ہوا جو ادارہ دارالعلوم سبیل الرشاد ہے یہ ملک کا ہی نہیں بلکہ عالم کے چنندہ ایسے تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے ،جو صرف تعلیم کوہی نہیں بلکہ تعلیم کے ساتھ تربیت کو بھی ترجیح دیتا ہے ۔اس موقع پر حضرت صدر اجلاس نے حضرت امیر شریعت ؒ کے فرزند رشید مولانا احمد معاذ رشادی مہتمم دار العلوم سبیل الرشاد کے اوصاف وکمالات پر اپنا اور قوم کا اعتماد ظاہر کرتے ہوئے آپ نے مجمع عام میں اپنی خلافت ومجاز بیعت ہونے کا اعلان بھی فرمایا اور اپنے عبا ء خاص کو مولانا کے سر پر ڈال کر اپنے سلسلہ کی سند بھی عطافرمائی ۔ مولانا احمد معاذ رشادی:اس موقع پر اس باوقار اجلاس سے خطاب فرماتے ہوئے مولانا احمد معاذ رشادی سعودی مہتمم دار العلوم سبیل الرشاد بنگلور نے فرمایا کہ حضرت امیر شریعت ہر فن مولیٰ اور ہر راہ کے شہ سوار تھے ،کوئی میدان آپ کے لئے اجنبی اور کوئی مسئلہ آپ کے لئے نیا نہیں تھا ،علی الخصوص زبان وبیان میں تحریر وتقریر میں آپ کو جو ملکہ وکمال تھا وہ مثالی ولا ثانی تھا آپ کی حیات سے فصاحت وبلاغت کا مفہو م اور مطلب سمجھنا آسان ہو جاتا تھا ،گھریلو زندگی میں طرز گفتگو الگ ہو اکرتا تھا ،اہل علاقہ سے الگ طرز اور اہل علم واہل لسان سے انداز گفتگو نرالہ ہواکرتا تھا ۔ کے رحمٰن خان:سابق مرکزی وزیرورکن پارلیمان الحاج کے رحمن خان صاحب نے اس موقع پر حضرت ؒ کی خدمات کویاد کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ عالم کے تصورسے صرف آخرت اور دینی ماحول ومزاج کو ذہن میں لاتے ہیں مگر حضرت ؒ دنیاوی حالات ومسائل پر بھی بڑی گہری نظر رکھتے تھے ،ملک وملت کے جو بھی حالات ہوتے ہیں ہم سب سے پہلے حضرت سے مشورہ لیا کرتے تھے اور حضرت کی دور بین نگاہ سے ملنے والے مشوروں کی روشنی میں کام کرنابہت آسان ہو جاتا تھا ۔اب حضرت نہ رہے لیکن ان کی علمی وروحانی میراث کے اصلی ورثہ آپ کے فرزند احمدمعاذ سعودی رشادی موجود ہیں ،ہم امید کرتے ہیں کہ آپ سے بھی قوم وملت کو وہی رہبری ،رہنمائی ملے گی جو حضرت سے ملتی رہی ۔اس موقع پر صدر جمعیت العلماء کرناٹک مولانا مفتی محمد افتخار احمد صاحب قاسمی اور جامعہ اصلاح البنات بنگلور کے مہتمم مولانا سید شبیر احمد ندوی صاحب نے بھی خطاب فرمایااور حضرت ؒ کے اخلاق واوصاف اور حضرت سے وابستگی اور محبت کا اظہارفرمایا ۔ حضرت صدر اجلاس نے امیر شریعت کے خطبات ونگارشات دو جلدوں پر مشتمل ’’اوج شرف ‘‘کا اجراء فرمایا اور جملہ حاضرین کو یہ کتاب بطور تحفہ وہدیہ IMAکی جانب سے مفت تقسیم کی گئی ۔اجلاس کاآغاز مولاناقاری عمیر عبد العزیز رشاد ی استاذ جامع العلوم کی قرأت کلام پاک اور مولانا نعیم اختر راہی قاسمی کی نعت سے ہوا ۔کلمات استقبالیہ جامع مسجد سٹی کے سکریٹری الحاج سید نور الامین انور صاحب نے پیش کئے اور ادارہ کے خازن الحاج سید مرتضیٰ حسین غفران صاحب نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اس اجلاس مذکور کی نظامت پروفیسر منظور نعمان صاحب نے کی ۔ اجلاس مذکورہ میں شہر ،ریاست کے علاوہ بیرون ریاست سے کثیر تعدا د میں حضرت ؒ کے تلامذہ، عقیدت منداور علماء کرام کے علاوہ عمائد ین شہرتھے ۔آخرمیں صدر اجلاس نے جملہ حاضرین سے سورہ فاتحہ اور تین مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھوا کر ایصال ثواب فرمایا آپ کی دعاؤں کے بعد جلسہ ختم ہوا۔