مودی کی طرف سے پھر ترقی کی شوشہ بازی گجرات میں عوامی اجلاس اورروڈ شو سے خطاب۔معیشت کی ترقی کا دعویٰ

12:32PM Mon 23 Oct, 2017

احمدآباد/ودوڑا۔23اکتوبر (ایجنسیز )ملک میں ترقی کے نام پر بربادی نے اپنے پاؤں پسار لیے ، نوٹ بندی ملک کی معیشت کو لے ڈوبی اور رہی سہی کسر جی ایس ٹی نے پوری کر دی؛ لیکن ان تمام حالات کے بعد بھی گجرات اسمبلی الیکشن کے تناظر میں وکاس کا کارڈ کھیلا جا رہا ہے۔ ایک مہینہ میں گجرات کے اپنے تیسرے دورہ میں کئی منصوبوں کے افتتاح کے بعد عوامی اجلاس اور روڈ شو سے خطاب کے دوران پی ایم نریندر مودی نے کہا کہ ہماری سرکار شش جہت ترقی او روکاس کے لئے پابندعہد ہے نریندر مودی کے اس روڈ شو کی مسافت بارہ کیلو میٹر ہے حالانکہ اس مبینہ روڈ شو کو آنے والے گجرات اسمبلی انتخابات کیلئے انتخابی مہم کا پیش خیمہ سمجھا جارہا ہے جب کہ الیکشن کمیشن نے گجرات اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان نہیں کیا ہے ۔اس روڈ شو میں عوام کی تعداد پی ایم کے ذریعہ کیے جارہے روڈ شو کے برعکس ہے ، عوام کی تعداد کم ہے جس کے بارے کہا جا رہا ہے کہ تہوار کی وجہ سے عوام اپنے محبوب لیڈر کے روڈ شو میں نہیں پہنچ سکے ۔مودی نے بھاؤ نگر ضلع کے گھوگا اور بھڑوچ ضلع کے دہیج کے درمیان615کروڑ روپے کی لاگت سے ’’رورو پھیری سیوا‘‘ کا افتتاح بھی کیا ۔ گھوگھا اور دہیج کے درمیان اس پھیری سیوا سے300کیلومیٹر کا سفر اب 32کیلو میٹر میں سمٹ جائے گا او ر یہ پہل ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے ۔ مودی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ آج گجراتیوں کو ایک تحفہ ملا ہے اس سے ساڑھے چھ کروڑ گجراتیوں کا خواب شرمندہ تعبیر بھی ہوگیا ۔ جلسہ کے اختتام کے بعد مودی نے پھیری کا سفر بھی کیا جس میں ان کے ساتھ اسکولی طلبہ بھی تھے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے دعویٰ کیا کہ نوٹ کی منسوخی اور جی ایس ٹی سمیت اقتصادی اصلاحات اور کڑے فیصلوں کے باوجود ملک کی معیشت درست سمت میں بڑھ رہی ہے ۔مسٹر مودی نے آج اپنے آبائی صوبہ گجرات کے ضلع بھاؤنگر کے گھوگھا میں کھنبھات کی خلیج کے سمندری راستے والے گھوگھا۔دھیج رو رو فیری سروس کی شروعات کے بعداور کڑے فیصلوں کے باوجود ملک کی معیشت درست سمت میں بڑھ رہی ہے ۔ کوئلہ، بجلی وغیرہ کی مصنوعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھی ہے اور غیر ملکی کرنسی کا ذخیرہ بھی 30ہزار کروڑ ڈالر سے بڑھ کر40ہزار کروڑ ڈالر ہو گیا ہے ۔ غیر ملکی ماہرین کو یقین ہے کہ ہماری معیشت کی بنیادی چیزیں مضبوط ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت ملک میں نئے ورک کلچرکو فروغ دے رہی ہے جس میں احتساب اور شفافیت ہے ۔ اس وجہ سے یہ منصوبہ تیزی سے کام کر رہا ہے ۔ دوگنی رفتارسے سڑکوں اور ریلوے کاکام ہورہا ہے ۔ اسی کی وجہ سے پاسپورٹ، گیس سلنڈر وغیرہ آسانی سے دستیاب رہی ۔ٹیکنالوجی کی مدد سے ، غریب اور درمیانی طبقے کو ان کا حق دیا جا رہا ہے ۔نوٹ کی منسوخی کی وجہ سے دولت تجوری سے نکل کر بینک میں جمع ہوگئی ۔ اسی طرح نیا کاروباری کلچر جی ایس ٹی کے ساتھ شروع کیا ہے ۔ اس کے بعد غیر بالواسطہ ٹیکس سسٹم سے 27لاکھ نئے افراد منسلک ہوئے ہیں۔مسٹر مودی نے ملک میں ترقی کے لئے بندرگاہ کی ترقی کی پی فار پی یعنی پورٹ فار پراسپیرٹی کا نعرہ دیتے ہوئے کہا کہ سینکڑوں سال سے شیپنگ میں برتری رکھنے والا ہندوستان اس معاملے میں پچھڑ گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اکیلے بندرگاہ ترقی کی ساگرمالا منصوبے کے ذریعے ایک کروڑ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ۔2035کی ضروریات کو ذہن میں رکھ کر،400منصوبوں میں8لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہونی ہے ۔مسٹر مودی نے کہا کہ آزادی کے اتنے سال بعد بھی ملک میں صرف 5قومی آبی شاہراہ ہیں۔ اب بھی55فیصد نقل و حمل سڑک، 35فیصد ریلوے اور صرف 5سے6 فیصد آبی گزرگاہوں کے ذریعے ہوتی ہے ۔ اب حکومت106نئے واٹر ویز پر کام کر رہی ہے ۔ یہ18فیصد کے مقابلے میں کم ہوکر نصف رہ جائے گا ۔ آبی گزرگاہ ریلوے اور سڑک کے ذریعہ نقل و حمل کے مقابلے میں سستی ہے ۔ملک میں7500کلومیٹر طویل سمندری حدود اور طویل دریاؤں کا جال بچھا کرپچھلی حکومتوں نے کیوں نہیں استعمال کیا یہ سمجھ سے باہر ہے ۔اس سے پہلے انہوں نے گھوگھا میں کہا کہ نئی رو رو فیری سرویس کی توسیع ممبئی تک کی جا سکتی ہے ۔ ریاستی حکومت کچھ کی خلیج میں جام نگر اور کچھ کے درمیان اسی طرح کی منصوبہ بندی پر کام کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سروس سوراشٹر اور جنوبی گجرات کے درمیان نہ صرف فاصلے گھٹائے گی بلکہ دونوں مقامات کے لوگوں کو اور قریب لائے گی۔