میونسپالٹی دکانوں کے معاملہ میں تنظیم کا نام گھسیٹنے پر تنظیم عہدیدارن چراغ پا؛ اخباری کانفرنس کا انعقاد
03:15PM Mon 25 Sep, 2017
سنگھ پریوار کے کارکنوں پر نفرت کی سیاست کا الزام
بھٹکلیس نیوز / 25 ستمبر، 17
بھٹکل / (رضوان گنگاولی) بھٹکل ٹی ایم سی دکانوں کے معاملہ میں خود سوزی کے بعدپیدا ہونے والےحالات سے اپنا الو سید ھا کرتے ہوئے ہندو جاگرن ویدیکے کے پی ایس پائی نے گزشتہ روز بھٹکل کے مسلمان اور یہاں کے باوقار ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کو دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والی تنظیم قرار دیا تھا، جس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے آج مجلس اصلاح و تنظیم میں اخباری کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
اس موقع پر صدر تنظیم جناب مزمل قاضیا صاحب نے ان بیانات کو ہندو مسلم فساد بھڑکانے کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجلس اصلاح و تنظیم ایسے لوگوں اور ان کے بیانوں کی مذمت کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ میونسپالٹی کے ایک انتظامی اور قانونی مسئلے میں خواہ مخواہ تنظیم کو گھسیٹنا اور اس بہانے سے مدرسوں کو بم بنانے کی فیکٹریاں قرار دینا یہ سنگھی دماغ کی کارستانی کی طرف اشارہ کرتا ہے یہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جو مسلمانوں کے ازلی دشمن ہیں اور امن و امان کو بگاڑنے کے پیچھے پڑے ہیں۔
انہوں نے اسے اگلے اسمبلی انتخابات کی تیاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ہمیشہ سے فرقہ وارانہ فسادات کاکارڈ کھیل کر انتخابات جیتنا چاہتی ہے اور علاقہ کے امن و امان کو برباد کرکے پورے ملک کے لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ یہاں ہندو محفوظ نہیں ہیں حلانکہ بھٹکل ایسا علاقہ ہے جہاں 1993/کے بعد کوئی بھی فساد نہیں ہوا ہے یہاں کے لوگ ہمیشہ امن و آشتی چاہتے رہے ہیں اور ہمیشہ مل جل کر رہتے آرہے ہیں۔
جنرل سکریٹری مجلس اصلاح و تنظیم جناب الطاف کھروری صاحب نے اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ایم سی کا مسئلہ خالص قانونی ،ٹیکنیکل اور انتظامی مسئلہ ہے۔اسے تنظیم اور مسلمانوں کی سازش سے جوڑنا سوائے بد نیتی اور مسلم دشمنی کے اور کچھ نہیں ہے اس لئے کہ اس معاملہ سے متاثر ہونے والے صرف ہندو ہی نہیں بلکہ اس میں مسلمان بھی شامل ہیں۔
انہوں نے رامچندرا نائک کی موت پر افسوس جتاتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان کی موت پر بہت دکھ ہوا ہے ہماری ہمدردیاں اس کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔
آخر میں انہوں نے میڈیا کے ذریعہ غیر مسلم بھائیوں کو پیغام دینے کی کوشش کی کہ وہ سیاسی موقع پرستوں اور نفرت کی سیاست کرنے والوں کے جھانسے میں نہ آئیں۔انہوں نے انتخابات کو وقتی چیز قراردیتے ہوئے کہا کہ انتخابات تو آتے جاتے رہتے ہیں لیکن ہمیں اس سرزمین پر ہمیشہ امن و شانتی کے ساتھ رہنا ہے کوئی بھی نفرت کی سیاست کرنے والا ہمارے دلوں کو بانٹنے کی کوشش کرے تو ہمیں اسے سمجھ کر اس سے دوری اختیار کرنا ہے،اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔
اس موقع پر جناب ثناء اللہ گوائی صاحب،جناب مولانا یاسر ندوی صاحب،جناب سمیر قاسمجی صاحب اور دیگر حضرات موجود تھے۔
اس موقع پر صدر تنظیم جناب مزمل قاضیا صاحب نے ان بیانات کو ہندو مسلم فساد بھڑکانے کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجلس اصلاح و تنظیم ایسے لوگوں اور ان کے بیانوں کی مذمت کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ میونسپالٹی کے ایک انتظامی اور قانونی مسئلے میں خواہ مخواہ تنظیم کو گھسیٹنا اور اس بہانے سے مدرسوں کو بم بنانے کی فیکٹریاں قرار دینا یہ سنگھی دماغ کی کارستانی کی طرف اشارہ کرتا ہے یہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جو مسلمانوں کے ازلی دشمن ہیں اور امن و امان کو بگاڑنے کے پیچھے پڑے ہیں۔
انہوں نے اسے اگلے اسمبلی انتخابات کی تیاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ہمیشہ سے فرقہ وارانہ فسادات کاکارڈ کھیل کر انتخابات جیتنا چاہتی ہے اور علاقہ کے امن و امان کو برباد کرکے پورے ملک کے لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ یہاں ہندو محفوظ نہیں ہیں حلانکہ بھٹکل ایسا علاقہ ہے جہاں 1993/کے بعد کوئی بھی فساد نہیں ہوا ہے یہاں کے لوگ ہمیشہ امن و آشتی چاہتے رہے ہیں اور ہمیشہ مل جل کر رہتے آرہے ہیں۔
جنرل سکریٹری مجلس اصلاح و تنظیم جناب الطاف کھروری صاحب نے اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ایم سی کا مسئلہ خالص قانونی ،ٹیکنیکل اور انتظامی مسئلہ ہے۔اسے تنظیم اور مسلمانوں کی سازش سے جوڑنا سوائے بد نیتی اور مسلم دشمنی کے اور کچھ نہیں ہے اس لئے کہ اس معاملہ سے متاثر ہونے والے صرف ہندو ہی نہیں بلکہ اس میں مسلمان بھی شامل ہیں۔
انہوں نے رامچندرا نائک کی موت پر افسوس جتاتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان کی موت پر بہت دکھ ہوا ہے ہماری ہمدردیاں اس کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔
آخر میں انہوں نے میڈیا کے ذریعہ غیر مسلم بھائیوں کو پیغام دینے کی کوشش کی کہ وہ سیاسی موقع پرستوں اور نفرت کی سیاست کرنے والوں کے جھانسے میں نہ آئیں۔انہوں نے انتخابات کو وقتی چیز قراردیتے ہوئے کہا کہ انتخابات تو آتے جاتے رہتے ہیں لیکن ہمیں اس سرزمین پر ہمیشہ امن و شانتی کے ساتھ رہنا ہے کوئی بھی نفرت کی سیاست کرنے والا ہمارے دلوں کو بانٹنے کی کوشش کرے تو ہمیں اسے سمجھ کر اس سے دوری اختیار کرنا ہے،اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔
اس موقع پر جناب ثناء اللہ گوائی صاحب،جناب مولانا یاسر ندوی صاحب،جناب سمیر قاسمجی صاحب اور دیگر حضرات موجود تھے۔