مغربی بنگا ل نے بھی سی بی آئی کے داخلے پر روک لگادی
03:59PM Sun 18 Nov, 2018
نئ دہلی ،18نومبر (سالارنیوز ) مغربی بنگال حکومت نے سی بی آئی کو ریاست میں چھا پے مارنے یا جانچ کرنے کے لیے دی گئی رضامندی جمعہ کو واپس لے لی ہے.اسٹیٹ سکریٹریٹ کے ایک سیئر افسر نے یہ جانکاری دی.
مغربی بنگال کے فیصلے سے ٹھیک پہلے آندھرا پردیش حکومت نے بھی یہی قدم اٹھایا ہے. آندھرا پردیش حکومت کے اعلان کے بعد مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے اس مدعے پر آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ چندر بابو نا ئیڈو کو اپنی حمایت دی تھی. میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق ممتابنرجی نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ بلائی تھی جس میں یہ فیصلہ لیا گیا تھا. مغربی بنگال میں 1989میں اس وقت کی لیفٹ حکومت نے سی بی آئی کو رضامندی دی تھی. ایک سیئر افسر نے نام ظاہر نہ ہونے کی شرط پر کہا کہ جمعہ کو نوٹیفیکیشن کے بعد سی بی آئی کو اب سے عدالت کے آرڈر کے علاوہ دوسرے معاملوں میں کسی طرح کی جانچ کرنے کے لیے ریاستی حکومت کی اجازت لینی ہوگی. سی بی آئی، ڈی ایس پی ای ایکٹ کے تحت کام کرتی ہے. اس سے پہلے آندھرا پردیش کی چندرا بابونائیڈو حکومت نے سی بی آ ئی کو ریاست میں چھاپے مارنے اور جانچ کرنے کے لیے دی گئی عام رضامندی واپس لے لی تھی.آندھرا پردیش کے نا ئب وزیر اعلیٰ (ہوم) ایم چنار نے نامہ نگار وں سے کہا کہ رضامندی واپس لینے کی وجہ سے اہم جانچ ایجنسی کے سینئر افسروں کے خلاف الزام لگے ہیں. اس کے بعد ممتا حکومت کا فیصلہ سامنے آیا ہے. آندھرا حکومت کے اس قدم کو مودی حکو مت اور وزیراعلیٰ نائیڈو کے بیچ ٹکراؤ مزید بٹرھنے کے طور پر دیکھا جارہاہے.نایڈو 2019کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی سے مقا بلے کے لیے غیر بی جے پی پارٹیوں کا مورچہ بنانے کی پرزور کوشش کر رہے ہیں. حلانکہ راجپانے واضح کیا ہے کہ سی بی آئی مرکزی حکومت کے افسروں کے خلاف ریاستی حکومت کی اجازت کے بغیر جانچ کر سکتی ہے. وہیں نائیڈو کے اس قدم کو دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کی بھی حمایت ملی ہے. ادھر بی جے پی نائیڈو حکومت کے فیصلے کو کرپشن، مالی گٹر بٹرا اور دوسرے مجرمانہ کاموں کو بچانے کی سازش کہا ہے۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اندھر پردیش اور مغربی بنگال کی حکومتوں کے اس فیصلے پر پلٹ وار کیا ہے. انہوں نے کہا ’جن کے پاس چھپانے کو بہت کچھ ہے وہی اپنی ریاستوں میں سی بی آئی کو نہیں آنے دے رہے ہیں کرپشن کے معاملے میں کسی بھی ریاست کی کوئی خود مختاری نہیں ہے. آندھرا حکومت نے یہ قدم کسی خاص معاملے کی وجہ سے نہیں بلکہ آگے کیا ہو سکتا ہے اس ڈر کی وجہ سے لیا ہے.