اخوان کے ہمدرد عالم دین برطرف
02:47AM Mon 19 Aug, 2013
اخوان کے ہمدرد عالم دین برطرف
رياض۔ 18 اگست (رائٹر) سعودى ارب پتى شہزادہ الوليد بن طلال نے “انتہا پسند انہ جھکاؤ” اور اخوان المسلمين سے رابطوں کے شبہ ميں ايک معروف کويتى مبلغ کو اپنے مذہبى چينل کے سربراہ کے عہدہ سے ہٹا ديا ہے۔
سعودى عرب نے گزشتہ ماہ اخوان المسلمين سے تعلق رکھنے والے صدر محمد مرسى کى حکومت کا تختہ پلٹے جانے کے بعد اخوان کے خلاف ہونے والى فوجى کارروائى کى کھل کر حمايت کى ہے۔ اخوان کے عروج سے خليج عرب کے حکمرانوں کو يہ انديشہ پيدا ہوگيا تھا کہ اس سے ان ممالک ميں اسلام پسند طاقتور ہونگے اور ان کى حکومتيں خطرے ميں پڑ جائيں گى۔
شہزادہ طلال کا کہنا ہے کہ طارق السويدان نے، جو اسلام کے تناظر ميں اپنى شخصيت کو نکھارنے والے ليکچروں کى وجہ سے عالم عرب ميں زبردست شہرت رکھتے ہيں، يمن ميں ايک ليکچر ديتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اخوان المسلمين کے رہنما ہيں۔شہزادہ کے دفتر سے جارى کردہ ايک بيان ميں کہا گيا ہے کہ الرسالہ چينل ميں ايسے کسى فرد کے لئے جگہ نہيں ہے جس کے خيالات باغيانہ ہوں۔شہزادہ الوليد نے کہا کہ وہ بار بار سويدان کو ان کى سياسى وابستگى کے سلسلے ميں وارننگ دے چکے ہيں، اس کے جواب ميں سويدان نے ٹوئٹر پر تحرير کيا کہ صرف کمزور لوگ ہى رزق کے بارے ميں متفکر ہوا کرتے ہيں۔ دنياوى آلائش ميں مبتلا لوگوں کے سوا اپنے اصولوں سے کوئى انحراف نہيں کرتا ہے۔
شہزادہ الوليد کے چچا شاہ عبداللہ نے جمعہ کے روز عربوں سے اپيل کى تھى کہ وہ مصر کو عدم استحکام پہنچانے کى کوشش کرنے والوں کے خلاف صف بند ہوجائيں ۔