سمجھوتہ ایکسپریس فیصلہ: پاکستانی شہری رخسانہ کا سوال، میرے پانچ بچوں کی موت کا ذمہ دارکون ہے؟

02:09PM Thu 21 Mar, 2019

پنچکولہ کی ایک خصوصی عدالت نے بدھ کوسمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ معاملے میں چاروں ملزمین کوبری کردیا ہے۔ ان چاروں ملزمین میں راشٹریہ سیوم سنگھ (آرایس ایس) کے رکن رہے سوامی اسیما ننند بھی شامل ہے۔ اس بم دھماکے میں 68 لوگوں کی موت ہوگئی تھی، جس میں زیادہ ترپاکستانی شہری تھے۔ دھماکے میں پاکستان کے فیصل آباد کی رہنے والی رخسانہ نے ہندوستانی عدالت سےانصاف کی گہارلگاتے ہوئے سوال کیا ہےکہ انہیں یہ جاننےکا حق ہے کہ بم دھماکے میں مارے گئےان کے پانچ بچوں کی موت کا ذمہ دارکون ہے۔ ایک انگریزی اخبارسے فون پربات چیت میں رخسانہ اوران کے شوہررانا شوکت علی نے سوال کیا کہ میرے پانچ بچوں کی موت کا جواب کون دے گا؟ انہیں کس نےمارا تھا؟ رخسانہ نےکہا کہ'عدالت کے اس فیصلے سےہماری بچی ہوئی زندگی بھی چھیننےکا کام کیا ہے۔ عدالت نے ہمیں گواہی دینےکےلئے بلانا بھی ضروری نہیں سمجھا'۔
 سمجھوتہ ایکسپریس بلاسٹ 2007 کےدوران رخسانہ اورشوکت علی ٹرین میں اپنے 6 بچوں کےساتھ سوار تھے۔ دھماکے میں دونوں شوہر- بیوی کے علاوہ ان کی سب سے چھوٹی بیٹی اقصیٰ شہزادی جواب 12 سال کی ہے، بچ گئی تھی۔قابل ذکرہےکہ بلاسٹ میں مارے گئے پاکستانی اہل خانہ کی طرف سے عدالت میں ایک عرضی داخل کی گئی تھی، جس میں ان کی گواہی بھیشامل کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ حالانکہ این آئی اے کی خصوصی عدالت نے عرضی خارج کردی تھی۔ یہ عرضی پاکستانی شہری راحلہ وکیل نے دائرکی تھی۔ راحلہ کا الزام ہے کہ اس معاملے کے 13 پاکستانی گواہوں کو گواہی دینے کے لئے سمن ہی نہیں بھیجا گیا۔ رخسانہ سوال کرتی ہیں کہ ہندو ہوں یا مسلمان، ان پانچ بچوں کوکس نے مارا؟ اس کا جواب توملنا ہی چاہئے۔ پاکستان نے بھی ظاہرکی ناراضگی سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ معاملہ پرفیصلہ آنے کےبعد پاکستان نےاسلام آباد میں ہندوستانی ہائی کمشنراجےبساریا کوطلب کرکےاپنا احتجاج درج کرایا۔  پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق کارگزارخارجہ سکریٹری نے ہندوستانی ہائی کمشنرکوطلب کیا اور2007 کے سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ معاملہ میں سوامی اسیمانند سمیت تمام چارملزمین کوبری کئے جانے پراحتجاج درج کرایا۔ پاکستانی وزارت خارجہ نےکہا کہ سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گردانہ حملہ کےملزمین کو گیارہ برس بعد بری کیا جانا انصاف کا ایک ’مذاق‘ ہے۔  قابل ذکرہےکہ سوامی اسیمانند، لوکیش شرما، کمل چوہان اورراجندرچودھری کوپنچکولہ کی خصوصی عدالت نے بری کردیا۔ ہریانہ پولیس نے یہ معاملہ درج کیا تھا کہ جسے جولائی 2010 میں این آئی اے کومنتقل کردیا گیا تھا۔