سوٹ کیس لیکر ہی کمار سوامی نے،ایم فارق ۔ کپندر ریڈی اور دیگر صنعت کاروں کی مدد کی تھی: ضمیر احمد خان
01:21PM Wed 12 Jul, 2017
بنگلور (بھٹکلیس نیوز):۔ پارٹی میں سوٹ کیس لئے جانے کا معاملہ اب دلچسپ موڑپر پہنچ گیا ہے اور اس معاملہ کو لیکر اب جے ڈی ایس پارٹی کے باغی اراکین اسمبلی اور پارٹی کے صدر ایچ ڈی کمار سوامی کے درمیان ایک نئی جنگ چھڑگئی ہے اور پارٹی کے باغی رکن اسمبلی ضمیر احمد خان اور ماگڑی کے رکن اسمبلی کرشنا نے اس معاملہ کی جانچ سی بی آئی کے ذریعہ کرانے کی مانگ کی ہے اور کمار سوامی کو کھلا چیلنج کیا ہے کہ وہ کسی مندر میں قسم کھائیں کہ پارٹی میں سوٹ کیس کلچر نہیں ہے اگر کمار سوامی قسم کھائیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہونے کے لئے تیار ہیں۔ضمیر احمد خان اور بال کرشنا نے الگ الگ بیانات دیتے ہوئے کہا کہ پارٹ میں کئی سالوں سے سوٹ کیس کلچر چل رہا ہے اور مستقبل میں بھی یہ کلچر باقی رہیگا۔یہ سچ ہے کہ کمار سوامی نے سوٹ کیس لیکر ہی صنعت کار ایم فاروق۔ وجئے ملیا۔کپندر ریڈی۔ رام سوامی اور دیگر صنعت کاروں کو راجیہ سبھا کا رکن بنایا تھا اور کمار سوامی نے دیگر افراد کو راجیہ سبھا کارکن بنانے کی ہمت نہیں کی کیونکہ ان کے پاس صرف سوٹ کیس تھااور اس میں رقم نہیں تھی۔ دیگر افراد نے نوٹوں سے بھرا سوٹ کیس دیا تھا۔ کمارسوامی اور ان کی اہلیہ انیتا کمار سوامی اور دوسری بیوی رادھیکا بھی بزنس کرتی ہیں۔کمار سوای نے اپنے فرزند کارتک گوڈا کا فلمی کیریر کو بڑھاوا دینے اور بڑے بجٹ کی فلم بنانے کے لئے رقم کہاں سے آئی تھی اس کا جواب کمار سوامی کو دینا ہوگا۔ کمار سوامی پارٹی کا رکن کے فنڈ کی رقم اور دیگر ذرائع سے وصول ہونے والی رقم کو برباد کررہے ہیں اور آج تک ایک ذاتی روپیہ بھی پارٹی فنڈ کے لئے نہیں دیا۔پراجول کمار نے پارٹی کے اندر ہونے والے سوٹ کے لین دین کو دیکھنے کے بعد ہی سوٹ کیس کاذکر کرکے اپنے غّصہ کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایک طرف سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا نے کہا کہ پراجول کمار کی باتوں سے انہیں کافی دکھ پہنچاہے ۔دوسری طرف کمار سوامی نے کہا ہے کہ پراجوال کمار کے اس طرح کا بیان ہی نہیں دیاتھا اور سے معافی طلب کرنے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری طرف کمار سوامی میں سوٹ کیس لیکر پہلی صف میں بیٹھنے والے لیڈرس پارٹی چھوڑ کر چلے جانے کی بات کہی ہے یہ لیڈرس کون تھے۔ اس کی وضاحت کمارسوامی کو کرنی ہوگی۔ کمار سوامی اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے مقصد سے باغی اراکن کو نشانہ بنا رہے ہیں۔