سدرامیا کی طرف سے متوازن بجٹ پیش کئے جانے کی توقع
04:27PM Wed 11 Mar, 2015
بھٹکلیس نیوز/11مارچ،15
بنگلورو/وزیر اعلیٰ سدرامیا جمعہ کی دوپہر ساڑھے بارہ بجے اپنا ریکارڈ دسواں بجٹ اسمبلی میں پیش کرنے کی تیاریوں میں لگ گئے ہیں۔ سدرامیا نے سرکاری اعلیٰ افسران کے ساتھ اپنی بجٹ تقریر اور اعداد وشمار کے نوک پلک کو درست کرنے کا کام تقریباً پورا کرلیا ہے۔ 13مارچ کو دوپہر ساڑھے بارہ بجے سدرامیا کی طرف سے ریاست کی معاشی صورتحال کے موجودہ تقاضوں کی روشنی میں متوازن بجٹ پیش کئے جانے اور مالی نظم وضبط کو نگرانی میں رکھنے کیلئے موثر اقدامات کا اعلان کئے جانے کی توقع کی جارہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے مئی 2013 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ریاست کے مختلف شعبوں کے ساتھ اپنے بجٹ میں سماجی بہبود کی طرف خاص توجہ مرکوز کی تھی، اور عوامی فلاح کیلئے انا بھاگیہ، کشیرا بھاگیہ نیز کئی اسکیمیں لاگو کرنے کا اعلان کیا ، اور ان اسکیموں پر پچھلے دو سال سے عمل بھی ہورہا ہے۔ پانچ بار بحیثیت وزیر خزانہ ، دو مرتبہ بحیثیت نائب وزیراعلیٰ ،اور اب تیسری مرتبہ بحیثیت وزیر اعلیٰ سدرامیا ریاست کا بجٹ پیش کرنے جارہے ہیں۔ کرناٹک کی تاریخ میں صرف سدرامیا کو دس مرتبہ بجٹ پیش کرنے کا امتیاز حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق اس بار بجٹ کا حجم دیڑھ لاکھ کروڑ روپیوں سے متجاوز ہوسکتا ہے۔ پچھلے سال بجٹ میں 1.38 لاکھ کروڑ روپیوں کی تجاویز پیش کی گئی تھیں۔ سالانہ دس فیصد اضافہ کے اوسط سے اگر سدرامیا نے بجٹ پیش کیا تو یہ دیڑھ کروڑ سے باہر جاسکتاہے۔حکومت کی موجودہ اسکیموں کیلئے فنڈز مہیا کرانے کے ساتھ وزیراعلیٰ کی طرف سے نئی اسکیموں کیلئے بھی اس بجٹ میں فنڈز مہیا کرائے جائیں گے۔آبپاشی ، صحت ، تعلیم ، دیہی ترقیات، زراعت کی طرف سدرامیا کی توجہات مرکوز رہیں گی۔ پچھلے بجٹ میں حکومت نے جن چالیس فلاحی اسکیموں کا اعلان کیا تھا، ان میں سے بیشتر کو ابھی عملی شکل نہیں دی گئی ہے۔ سدرامیا ان اسکیموں کو بڑھانے کیلئے فنڈز کی فراہمی کا اعلان کرسکتے ہیں۔
ع،ح،خ