اورنگ آباد اسلحہ ضبطی کیس : مولانا ارشد نے فیصلہ کو بتایا نا مکمل اور ادھورا ، ہائی کورٹ جانے کا اعلان

03:18PM Fri 29 Jul, 2016

نئی دہلی : اورنگ آباد اسلحہ ضبطی مقدمہ میں ممبئی کی خصوصی مکوکا عدالت کی طرف سے آج 20 مسلم نوجوانوں میں سے 8کو باعزت بری کرنےاور 12 نوجوانوں کو غیر قانونی سرگرمیوں اور آرمس ایکٹ کے تحت مجرم قراردینےپر اپنے ردعمل میں مولانا مدنی نے کہاہے کہ جمعیۃ علما ہند ا س فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرے گی ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ یہ فیصلہ نا مکمل اور ادھورا ہے، البتہ یہ قابل اطمینان بات ہے کہ 20ملزمان پر سے نہ صرف مکوکا ہٹا لیا گیا بلکہ ان میں سے 8کوناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر با عزت بری کر دیا گیا ۔ انہوں نے اسے جمعیۃ علما ہند کی کامیابی قرار دیااوردعویٰ کیا کہ عدالت نے جن12ملزمان کو قصور وار قرار دیا ہے انکے خلاف بھی استغاثہ ایسا کوئی پختہ ثبوت پیش نہیں کرسکا کہ یہ ملزمان نریندرمودی یا توگڑیا کے خلاف کسی سازش میں ملوث تھے یاکہ انکا تعلق کسی دہشت گرد تنظیم سے تھا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ یہ ہمارا تجربہ ہے کہ نچلی عدالتوں نے جن معاملات میں ملزمان کوپھانسی تک کی سزائیں دے دیں تھیں ان معاملات میں وہ سپریم کورٹ سے بری کر دئے گئے اس لئے امید ہے کہ ماضی کی طرح اس معاملہ میں بھی اوپری عدالت سے انصاف ملے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بے قصور لوگوں کو اس وقت تک مکمل انصاف نہیں مل سکتا جب تک کہ انہیں معاوضہ ادا نہ کیا جائے اور جھوٹے معاملات میں پھناسنے والے افسران پر شکنجہ نہ کسا جائے ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ اس معاملے میں ایک پٹیشن بھی زیر سماعت ہے جس پر فیصلہ کا ہمیں انتظار ہے۔ وکیل صفائی اور استغاثہ کے دلائل سننے کے بعدعدالت کل قصوروار ٹھہرائے گئے مجرمین کی سزاؤں کی میعاد طے کرے گی۔عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ استغاثہ مجرمین پر یہ الزام ثابت کرنے میں کامیاب رہا کہ مجرمین نے گجرات فرقہ وارانہ فساد کے بعد 2006میں ٰ نریندر مودی اور وشو ہندو پریشد کے لیڈر پروین توگڑیا کے قتل کی سازش رچی تھی اور وہ گجرات فسادات کا بدلہ لینا چاہتے تھے واضح ہوکہ اس سلسلے میں کل 22مسلم نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں آئی تھی ، جن میں سے 20ملزمان کے خلاف ہی فی الوقت مقدمہ چلایا گیا ،جبکہ عدالت نے وعدہ معاف گواہ ملزم سید مصطفیٰ اورمفرور ملزم شیخ نعیم کا مقدمہ دیگر ملزمین کے مقدمہ سے علیٰحدہ کر دیا ہے، ان کی قسمت کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا ۔ خصوصی جج ایس این انیکر نے جن 12 مجرمین کو قصور وارقراردیا ہے ان میں ابو جندال کے علاوہ محمد عامر شکیل احمد، محمد مظفر تنویر،جاوید احمد عبدالمجید انصاری، افضل خان نبی خان، ڈاکٹر محمد شریف شبیر احمد، بلال احمد عبدالرزاق، سید عاکف سید ظفر الدین، افروزخان شاہد خان پٹھان، فیروز تاج الدین شیخ، شیخ عبدالنعیم اور فیصل عطاالرحمن شیخ شامل ہیں۔اس کے علاوہ عدالت نے جن ملزمین کو نا کافی ثبوت کی بناء پربا عزت بری کرنے کا حکم جاری کیا ہے ان میں فیروز دیشمکھ کے علاوہ سید زبیر سید احمد قادری، عبدالعظیم عبدالجمیل شیخ، ریاض احمد محمد رمضان ،خطیب عمران عقیل احمد، شیخ وقار محمد نثار، محمد صمد شمشیر خان پٹھان اور محمد عقیل محمد اسماعیل مومن شامل ہیں۔ان تمام لوگوں کا تعلق مہاراشٹر کے مختلف اضلاع مالیگاؤں،بیڑ،اورنگ آباد اور دیگر مقامات سے ہے۔ عدالت نے باعزت بری کئے گئے تمام ملزمین کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا ،جبکہ آرتھر روڈ جیل میں قائم شدہ ہائی سیکورٹی جیل میں جب فریقین سزاؤں کے تعین کے تعلق سے اپنی بحث کا آغاز کرنے واکے تھے اس وقت جج انیکر نے مالیگاؤں سے تعلق رکھنے والے ضمانت پر رہا شدہ دو مجرمین جاوید احمد عبد المجید اور مشتاق احمد محمد اسحاق کو گھر جانے کی اجازت دی اور کل صبح عدالت میں طلب کئے جانے کا حکم جاری کیا ۔ ملزمان کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء کی قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے بھی عدالت کے فیصلہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ عدالت نے مجرمین کو جن الزامات کے تحت قصور وار ٹھہرایا ہے ان الزامات کی تصدیق کے لئے عدالت میں استغاثہ نے کوئی ایسا ثبوت نہیں دیا تھا جس سے یہ ثابت ہو سکتا تھا کہ مجرمین متذکرہ لیڈران کی قتل کی سازش شامل تھے، نیز جن گواہوں نے عدالت میں اپنا بیان درج کرایا تھا اس میں سے کسی بھی گواہ نے یہ گواہی نہیں دی تھی کہ مجرمین مودی اور توگڑیا کے قتل کی سازش میں شامل تھے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں حیرانی ہے کہ خصوصی عدالت ان ملزمان کو کس طرح سے ان الزامات کے تحت قصور وار ٹھہرا سکتی ہے جنہیں ثابت کرنے کے لئے عدالت میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں پیش کیا گیا ہے۔گلزار اعظمی نے کہا کہ جمعیۃ علماء 12ملزمان کومجرم قرار دئے جانے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل داخل کرے گی ۔