Rabita Awards 2026: Students Honoured for Academic Excellence; Chief Guest Urges Youth to Master Emerging Technologies
05:11PM Mon 10 Aug, 2026
بھٹکل: 10 اگست 26 (بھٹکلیس نیوز بیورو) رابطہ سوسائٹی بھٹکل کے زیرِ اہتمام رابطہ ایوارڈ 2026 کی پروقار تقریب اسلامیہ اینگلو اردو ہائی اسکول کے وسیع انجمن گراؤنڈ میں منعقد ہوئی، جس میں تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو مختلف زمروں میں اعزازات سے نوازا گیا۔
رابطہ ایوارڈ کے تحت ایس ایس ایل سی، پی یو سی، گریجویشن، پوسٹ گریجویشن، عالمیت اور دیگر خصوصی زمروں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کی حوصلہ فزائی کی گئی۔

امسال عثمان حسن میموریل بیسٹ اسکول ایوارڈ انجمن گرلز ہائی اسکول، نوائط کالونی کو دیا گیا، جبکہ ایس ایم سید خلیل الرحمن بیسٹ ٹیچر ایوارڈ انجمن میں گزشتہ 19 برس سے تدریسی خدمات انجام دینے والی محترمہ عائشہ مرفوعہ سدی باپا کو پیش کیا گیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی، ملک کی ممتاز تعلیمی شخصیت اور سول سروسز کے میدان میں طلبہ کی رہنمائی کرنے والے جناب سمیر احمد صدیقی نے اپنے خصوصی خطاب میں مصنوعی ذہانت (AI) کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور اور اس کے تعلیم و روزگار پر مرتب ہونے والے اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ بھٹکل میں دینی و عصری تعلیم کو ساتھ لے کر چلنے اور نوجوانوں کی علمی ترقی کے لیے کی جانے والی کوششیں قابلِ تحسین ہیں، تاہم اس تعلیمی سفر کو بھٹکل تک محدود رکھنے کے بجائے اس کا دائرہ ملک اور دنیا کے دیگر علاقوں تک وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔
سمیر احمد صدیقی نے کہا کہ آج کا دور صرف ملازمت تلاش کرنے کا نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے کا دور ہے۔ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے روایتی ملازمتوں کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے نئی نسل میں تخلیقی، فکری اور عملی صلاحیتیں پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت پر بڑھتے ہوئے انحصار کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو اہم فیصلوں کے لیے مکمل طور پر ٹیکنالوجی پر منحصر نہیں ہونا چاہیے۔ بچوں میں خود سوچنے، سوال کرنے، فیصلہ کرنے، تحقیق کرنے اور مسائل کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے موجودہ دور کو نوجوانوں کے لیے ایک غیر معمولی موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج معلومات اور وسائل چند لمحوں میں دستیاب ہیں، جن تک رسائی حاصل کرنے کے لیے گزشتہ نسلوں کو کئی دہائیاں درکار ہوتی تھیں۔ لہٰذا تعلیم کا مقصد صرف سوالات کے جوابات فراہم کرنا نہیں بلکہ نئے اور بہتر سوالات پیدا کرنا، تحقیق و تخلیق کی صلاحیت پیدا کرنا اور علم کو عملی میدان میں استعمال کرنا ہونا چاہیے۔
رابطہ سوسائٹی کے سکریٹری جنرل جناب منیری عتیق الرحمن نے رابطہ کے مختلف شعبہ جات اور تعلیمی و سماجی میدان میں ادارے کی خدمات کا تعارف پیش کیا۔ انہوں نے ایوارڈ حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز ان کے سفر کی منزل نہیں بلکہ ایک نئے اور بڑے سفر کا آغاز ہے۔ انہوں نے طلبہ کی کامیابی میں والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے کردار کو بھی سراہا۔
قاضی جماعت المسلمین بھٹکل مولانا عبدالرب ندوی نے طلبہ کو تعلیم کے ساتھ اپنے اخلاق و کردار کی اصلاح پر بھی توجہ دینے کی نصیحت کی، جبکہ قاضی خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل مولانا خواجہ معین الدین مدنی نے طلبہ و طالبات کو محنت، مسلسل جدوجہد اور تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔ رابطہ سوسائٹی کے صدر جناب مصباح فاروق نے صدارتی خطاب کیا۔
پروگرام کے کنوینر جناب عبدالسلام دامدا ابو نے بیسٹ ٹیچر اور بیسٹ اسکول ایوارڈز کا اعلان کیا۔
تقریب دو نشستوں پر مشتمل رہی، جن میں مختلف مہمانوں کے خطابات کے ساتھ ایوارڈز کی تقسیم بھی عمل میں آئی۔ پروگرام کے اختتام سے قبل نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو مختلف زمروں میں اعزازات پیش کیے گئے۔
اس موقع پر صدر انجمن حامیِ مسلمین بھٹکل جناب یونس قاضیا، صدر مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل جناب عنایت اللہ شاہ بندری، خازن رابطہ سوسائٹی مولانا صابر علی اکبرا ندوی سمیت رابطہ سوسائٹی کے ذمہ داران، تعلیمی شخصیات، اساتذہ، والدین، طلبہ و طالبات اور دیگر معززین موجود تھے۔

یہ پروقار تقریب مغرب کے قریب اختتام کو پہنچی۔