جہیز موت کے معاملے میں ملزم کے خلاف مظالم کے ثبوت ضروری:سپریم کورٹ
03:17PM Mon 21 Nov, 2016
نئی دہلی، (ایف اویس)
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ جہیز موت کے معاملے میں ملزم کا کردار تبھی سوالات کے گھیرے میں آئے گا جب ایسے ثبوت ہوں کہ مقتول خاتون کو جہیز کی مانگ کے لئے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ثبوت ایکٹ کے تحت جہیز قتل کے مقدمات میں مجرم ٹھہرانے کے لئے کچھ دفعات ہیں جن کے تحت اگرخاتون کی موت کی شادی کے سات سال کے اندر اندر ہوتا ہے اور ظلم کے ثبوت بھی موجود ہیں تو ملزم کو ابتدائی نظرمیں مجرم تصور کیا جائے گا۔جسٹس دیپک مشرا اور امتاو رائے کی بنچ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر استغاثہ اس بات کے واضح ثبوت پیش نہیں کر پاتا ہے کہ جہیز قتل کیس میں ملزم نے جہیز کی مانگ کو لے کر خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا تو ایکٹ کے تحت جرم کی آڑ لے کر اس شخص کو مجرم نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔بنچ نے کہا کہ جہیز قتل کے مقدمات میں دفعہ (ثبوت ایکٹ کے آرٹیکل 113بی کے تحت)کو تبھی قبول کیا جائے گا اگر اس بات کے ثبوت ہوں گے کہ ملزم نے مقتول خاتون کو جہیز کی مانگ کو لے کر تشدد کا نشانہ بنایا یا اس کے ساتھ ظلم کیا اور وہ بھی اس حد تک کہ اس کاانجام اس کی موت کے طور پر ہوا۔عدالت نے یہ فیصلہ سال 1996میں اپنے سسرال میں پھانسی سے لٹکی پائی گئی ایک خاتون کے سسرال والوں کے کچھ لوگوں کو بری کرتے ہوئے دیا۔